کسی بھی ادارے میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاں اسکے زوال کا سبب بنتی ہیں،چیف جسٹس منصور علی شاہ

کسی بھی ادارے میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاں اسکے زوال کا سبب بنتی ہیں،چیف جسٹس ...
کسی بھی ادارے میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاں اسکے زوال کا سبب بنتی ہیں،چیف جسٹس منصور علی شاہ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے کہاہے کہ کسی بھی ادارے میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاںاسکے زوال کا سبب بنتی ہیں،عام سائل کے مقدمات کو نمٹانا ہمارا مقصد ہے، عدالت عالیہ لاہور کے ججز اور اسٹیبلشمنٹ دن رات فراہمی انصاف کے اس مقصد کے حصول کےلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامیہ اس کا چہرہ ہے، ہمیں بہتر پبلک ڈیلنگ اور لوگوں کےلئے آسانیاں پیدا کرنے میں بہتری لانی ہوگی، ٹیم کی مشترکہ کوششوں کے بغیر کوئی ادارہ نہیں چل سکتا ، اس لئے ایک دوسرے کو سپورٹ کریں، کسی کا برا نہ چاہیںاور ہمیشہ مثبت سوچ کو اپنائیں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ان خیالات کا اظہار لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات کے حوالے سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں انصاف کی فراہمی میں عدالت عالیہ لاہور کے کردار اور اہمیت کے حوالے سے منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطا ب کر تے ہوئے کیا۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ سمپوزیم بہت مبارک ثابت ہوا ہے، آج بارز کے کے تمام معاملات اور ایشوز خوش اسلوبی اور رضا مندی سے طے کر لیا گیا ہے، فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات صرف ججز کی ہی نہیں، یہ تقریبات وکلائ، ضلعی عدلیہ اور عدالت عالیہ کے حاضر اورریٹائرڈ سب کی ہیں۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی باگ دوڑ پرفیشنل ٹیم کے ہاتھ میں ہے، آپ کا علم، تجربہ اور مہارت لاہور ہائی کورٹ کی ترقی کا ضامن ہے۔ انہوںنے کہا کہ میرے لئے ایک فراش بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا ایک ایڈیشنل رجسٹرار، چیف جسٹس چیمبر کے دروازے تمام ملازمین کے لئے یکساں کھلے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک خاندان کی مانند ہیں، ہمارے دکھ درد سانجھے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ میں ایسا سربراہ بننا ہر گز پسند نہیں کروں گا جسے اپنے سٹاف کے مسائل کا علم ہی نا ہو بلکہ میں ایسا سربراہ بننے پر فخر محسوس کروں گاکہ میرا سٹاف اپنا ہر دکھ سکھ مجھے بتائے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ کے تمام مسائل حکومت کے سامنے رکھے تھے اور پھر حکومتی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے گفت و شنید کا سلسلہ چلتا رہا اور آج یہ کہتے ہوئے خوشی ہے کہ ہمارے بہت سارے معاملات جن میں جوڈیشل الاﺅنس اور ایڈہاک الاﺅنس بھی شامل تھا حل ہو چکے ہیں۔فاضل چی جسٹس نے مزید کہا کہ ملازمین کےلئے بہترین ہیلتھ انشورنس اور اندورن و بیرون ملک ٹریننگ کے حوالے سے کام جاری ہے، عدالت عالیہ کے حاضر وریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کےلئے ملازمتوں میں بیس فیصد کوٹہ رکھا گیا لیکن اس میں بھی میرٹ کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاںاسکے زوال کا سبب بنتی ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے سٹاف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت عالیہ لاہو ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں اس کے ساتھ جھوٹ نہیں بولنا، بے ایمانی نہیں کرنی، اسکی خدمت کرنی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ روائتی طریقوں سے ہٹ کر تبدیلی آسان نہیں ہوتی، کچھ مشکلات اور تکالیف کاسامنا کرنا پڑتا ہے ، لیکن ہمیں اپنے ادارے کےلئے جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔تقریب سے مسٹر جسٹس محمد انوار الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے افسران و ملازمین ہمارے لئے بہت اہم ہیںاور فراہمی انصاف میں ان کا کردار قابل تحسین ہے۔ تقریب سے سینئر ایڈیشنل رجسٹرار عطا الرحمان، ایڈیشنل رجسٹرار ڈاکٹر عبد الناصر، ڈپٹی رجسٹرار ظہور حسین، اسسٹنٹ رجسٹرار شیخ ظہور احمد، سینئر کورٹ ایسو سی ایٹ فدا حسین، پرائیویٹ سیکرٹری فیاض احمد، اسسٹنٹ ارشاد بھٹی، لائبریری اسسٹنٹ مس عنبرین اور جونیئر کلرک محسن بیگ سمیت دیگر ملازمین اور ریٹارئرڈ افسران نے اظہار خیال کیا۔

مزید : لاہور


loading...