مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی کا تنازعہ ،ممتا بنر جی 36گھنٹوں بعد سیکرٹریٹ سے گھر روانہ ،مودی سے قبل کسی نے فوج کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کیا:ممتا بنر جی

مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی کا تنازعہ ،ممتا بنر جی 36گھنٹوں بعد سیکرٹریٹ ...
مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی کا تنازعہ ،ممتا بنر جی 36گھنٹوں بعد سیکرٹریٹ سے گھر روانہ ،مودی سے قبل کسی نے فوج کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کیا:ممتا بنر جی

  


کولکتہ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے مغربی بنگال میں مختلف ٹول پلازوں پر فوج کی تعیناتی سے پیدا ہونے والے تنازع کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی 36گھنٹے کے بعد ریاستی سیکریٹریٹ سے گھر روانہ ہوگئی ہیں۔

بھارتی نجی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق ریاستی سیکریٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں مگر ہم نے مرکز ی حکومت کا اس طرح کا رویہ کبھی بھی نہیں دیکھا ، اگر فوج کو ٹول پلازوں سے نہ ہٹایا گیا تو ہم قانونی کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مودی سے قبل کسی بھی وزیر اعظم نے فوج کوسیاست کیلئے استعمال نہیں کیا ، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں مگر وفاقی ڈھانچہ کا تقاضا ہے کہ اداروں کا احترام کیا جائے اور ہر ایک اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے۔

دوسری طرف مودی حکومت نے ممتا بنرجی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹول پلازہ پر فوج کی تعیناتی معمول کا حصہ ہے ،فوج کی تعیناتی کے حوالے سے ریاستی حکومت کو مطلع کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کل شام ریاستی سیکریٹریٹ نوبانا کے پاس واقع ٹول پلازہ پر فوج کی تعیناتی پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی سیکریٹریٹ نوبانا سے اس وقت تک نہیں جائیں گی جب تک ٹول پلازہ سے فوج کو نہیں ہٹادیا جاتا ۔ ممتا بنرجی کے سخت احتجاج کے بعد ریاستی سیکریٹریٹ نوبانا کے پاس واقع ودیاساگر پل پر ٹول پلازہ سے نصف رات میں فوج کو ہٹادیا گیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...