جمہوریت کومضبوط کیجئے

جمہوریت کومضبوط کیجئے
 جمہوریت کومضبوط کیجئے

  


جنرل راحیل شریف کی آئینی طور پر باوقار رخصتی پر جمہوریت پسند یاروں نے بغلیں بجائیں، ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیں کہ جنرل صاحب ایک پروفیشنل اور محب وطن فوجی کی طرح مکمل طور پر غیر سیاسی رہے، انہیں امپائر کی طرح انگلی اٹھانے سمیت ’جانے کی باتیں جانے دو ‘تک ہر قسم کی دعوت بھی دی جاتی رہی مگر انہوں نے وردی پر شیروانی کو ترجیح نہیں دی۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے سبق نہیں سیکھا جاتا مگر ان کی دانش کی داد نہ دینازیادتی ہو گی ، انہوں نے جان لیا کہ جس جرنیل نے وردی پر شیروانی کو ترجیح دی تو جاتے جاتے وہ شیروانی اپنے ساتھ عزت سادات بھی لے گئی۔ ایوب خان تو گئے ہی کتا کتا کے نعروں کے ساتھ تھے اور جتنے برے طریقے سے مورخ یحییٰ خان کو یاد کرتاہے، اتنے برے انداز میں شائد ہی کسی دوسرے حکمران کوتاریخ میں یاد رکھاجاتا ہو، آج تک عذاب بن جانے والی بہت ساری سیاسی اور معاشرتی قباحتوں کی ذمہ داری بلاخوف تردید ضیاء الحق پر عائد کی جا سکتی ہے اور پرویز مشرف کا دور بھی مجموعی طور پرانہی سب کا تسلسل رہا۔

بات ہو رہی ہے ان جمہوریت پسند یاروں کی جو جنرل راحیل شریف کے دور کی تکمیل کو سیاست اور جمہوریت کی مضبوطی کی دلیل بنا رہے ہیں مگر مجھے اپنے ان دوستوں سے کہنا ہے کہ اس کی خاطر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کہ اگر ایک ،دو جرنیلوں کے دورفوجی آمریت قائم کئے بغیر گزر گئے تو کچھ نیا نہیں ہوا، ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ پاک فوج کے سب سے پہلے سربراہ سر فرینک میسروی تھے جو 15اگست 1947سے10 فروری1948تک کمانڈر انچیف رہے،دوسرے ڈگلس گریسی رہے جنہوں نے پاک فوج کی سربراہی 16 جنوری 1951 تک کی۔ پاک فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ ایوب خان بنے اور انہوں نے ہی مارشل لالگا دیا۔ جنرل موسیٰ کو بھی پاک فوج کی سربراہی ملی مگر ا س دوران ایوب خان فیلڈ مارشل کے عہدے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یحییٰ خان کو اقتدار منتقل ہوا تواسی دوران بیس برسوں میں کی جانے والی غلطیوں کے باعث ملک دو لخت ہوگیا۔مجھے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں فوجی آمریتیں سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے قائم ہوئیں۔ ہمارے حکمرانوں نے اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں مداخلت کے راستے دئیے اور اپوزیشن رہنماوں نے پہلے دعوتیں دیں اوران دعوتوں کے قبول ہونے پر مٹھائیاں بانٹیں۔سقوطِ ڈھاکہ کے چار روز بعد یحییٰ خان کا اقتدار20 دسمبر 1971کو ختم ہوا اور یہاں ہمیں تسلسل کے ساتھ دو آرمی چیف مسلسل ملے جنہوں نے مارشل لاء نہیں لگایا، ان کے نام بالترتیب جنرل گل حسن اور جنرل ٹکا خان ہیں۔ جنرل گل حسن کو تو مدت ہی 3مارچ 1972 تک یعنی مجموعی طور پر تین ماہ سے بھی کم ملی مگر ٹکا خان یکم مارچ 1976 تک چیف آف آرمی سٹا ف رہے۔ٹکا خان سے پہلے پاک فوج کے سربراہ کو کمانڈر انچیف کہا جاتا تھا مگر 1973 کے آئین میں یہ عہدہ چیف آف آرمی سٹاف کہلایا۔ہمارے آٹھویں آرمی چیف جنرل ضیاء الحق تھے جنہوں نے اپنے دونوں پیش رووں کی روایت کو فالو نہیں کیا اور مارشل لاء لگا دیا جو ان کے طیارے کے حادثے تک جار ی رہا۔ یہاں وہ دور شروع ہوا جس میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار آرمی چیف بالترتیب ایسے آئے جنہوں نے جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھا، یہ چار نام ہمارے نویں آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ، دسویں آرمی چیف جنرل آصف نواز، گیارہویں آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ اور بارہویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت تھے۔اس دور کی اہمیت یہ رہی کہ اس میں ایک آرمی چیف جنرل آصف نواز اپنی وفات اور دوسرے جنرل جہانگیر کرامت اپنے استعفے کی وجہ سے عہدوں کی مدت پوری نہیں کر سکے، یہ استعفیٰ سیاسی ، جمہوری قیادت نے لیا مگر دوسری طرف اسی دور میں ننگی آمریت کی بجائے آئی جے آئی بنانے سے منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ لینے تک سب کچھ روا سمجھا جاتا رہا۔یہاں ہمیں6 اکتوبر 1998کو جنرل پرویز مشرف ملے جنہوں نے 12 اکتوبر 1999 کو عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے مارشل لاء لگا دیایعنی پہلے دو اور پھر چار جرنیلوں کے وقفے سے مارشل لاء لگا۔جنر ل پرویز مشرف پہلے فو ج کی سربراہی اور پھر صدارت سے رخصت ہوئے، حالیہ جمہوری دور میں جنرل اشفاق پرویز کیانی 29نومبر2007 اور جنرل راحیل شریف 29نومبر 2013 کو اپنے عہدو ں پر آئے، جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے عہدے میں ایک پوری مدت کی توسیع بھی لی مگر بہرحال ہم شخصیات کے حوالے سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد دو آرمی چیف اپنے عہدوں سے بغیر مارشل لاء لگائے ررخصت ہوئے ہیں اوراب تیسرے آئے ہیں مگر اس سے پہلے چار آرمی چیف بھی مارشل لاکی روایت ہمیشہ کے لئے دفن نہیں کرسکے تھے۔ یہ تاریخ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے ہاتھ سے لکھی لہذا وہ اس کا بہتر ادراک رکھتے ہیں کہ کہاں درست اور کہاں غلط فیصلے ہوئے تھے۔

میں نے یار دوستوں کو خوش ہوتے دیکھا، اُن کا مذاق بھی اڑاتے دیکھا جو میاں نواز شریف کی حکومت کے جانے کی تاریخوں پر تاریخیں دیتے رہے ہیں مگر میرے خیال میں ابھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ میں اس خدشے کا ایک فیصد بھی اظہار نہیں کر رہا کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مداخلت کر سکتے ہیں کہ اس قسم کا کوئی بھی تاثر بہت زیادہ قبل از وقت ہو گا۔ ہم ان کے بارے بہت اچھا گمان اور امیدیں رکھتے ہیں مگر کسی بھی ملک میں فوجی آمریت روکنے کے صرف دو راستے ہو سکتے ہیں ، ایک یہ کہ اپنے ہی ملک کی فوج کو اتنا کمزور اور متنازعہ کر دیا جائے کہ وہ نہ تو مداخلت کر سکے اور نہ ہی مداخلت کرنے کی صورت میں عوامی حمایت حاصل کر سکے مگر میرے خیال میں ایسا سوچنا بھی بھارت جیسے دشمن کی موجودگی میں مادر وطن سے غداری ہو گی اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت کو اتنا مضبوط کر دیا جائے کہ عوام اس کے سوا کسی دوسرے نظام حکومت پر اعتماد ہی نہ کریں۔

جہاں کسی سڑک پر ٹریفک بلاک ہونے پر بھی جمہوریت کو گالی دی جاتی ہو وہاں دوسرا راستہ بہت آسان نہیں مگر ہمارے سیاستدانوں کو بالعموم اور حکمرانوں کوبالخصوص اسی راستے پر چلنا ہے۔ کہا کسی سیانے نے، اسٹیبلشمنٹ کا لوہے کاکلہاڑا اس وقت تک جمہوریت کے درخت کا تنا نہیں کاٹ سکتا جب تک اس کے پیچھے سیاست کی لکڑی کا دستہ نہ ہو۔ا یک دوسرے سیانے نے اپنا تجربہ نچوڑا کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو میچور ہونے کے لئے ایک ایک مارشل لاء درکار ہوتا ہے، ضیاء الحق کے مارشل لاء نے پیپلزپارٹی کو اور مشرف کے مارشل لاء نے مسلم لیگ نون کو آئین اور جمہوریت کی اہمیت کے شعور سے نوازا ،سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی جیسی مقبول جماعت کواس مقام پر لانے کے لئے ایک اور مارشل لاء درکار ہے ، ضمنی سوال تھوڑا لائیٹ موڈ میں ہے کہ اس کے لئے پہلے اقتدار میں آنے کی شرط بھی موجود ہے کہ سبق انہی جماعتوں نے سیکھا جن کی حکومتیں ختم ہوئیں، جن کی قیادتوں کو پھانسیاں، جلاوطنیاں یا قید و بند جیسی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

میں اپنی سیاست ، جمہوریت اور آئین بارے رجائیت پسند ہوں مگر ماضی میں بھی مجھ سے بھی بڑے رجائیت پسند رہے ہیں،جمہوریت سے محبت کرنے والے خوش ہیں کہ ایک مرحلہ بخیرو خوبی طے ہو گیا، ایک دریا عبور ہوا مگر منیر نیازی کی سوچ مستعار لیتے ہوئے، ایک یا دو دریاوں کو عبور کرنے والوں کو ابھی بہت سارے دریاوں کا سامنا ہو سکتا ہے ، دریاوں سے کیا امید رکھنی کہ وہ اپنی موجوں کو تیز اور تند نہ ہونے دیں، ملاحوں کو اپنی کشتی اور اپنی مہارت بارے سوچنا چاہئے کہ اس کے تختے مضبوطی سے ایک دوسر ے کے ساتھ جڑے ہوں، وہ ہلکے ہوں یا بھاری ہر قسم کے تھپیڑے سہنے کی طاقت رکھتے ہوں، ان کے ذہنوں میں منزل کا تصور واضح اور ہاتھوں میں اتنی طاقت ہو کہ وہ کشتی کو منزل کی طرف دھکیل سکتے ہوں۔

مزید : کالم


loading...