لاہور پولیس نئے ٹویٹ کی منتظر

لاہور پولیس نئے ٹویٹ کی منتظر
 لاہور پولیس نئے ٹویٹ کی منتظر

  


حکومتی رکن پنجاب اسمبلی انعام اللہ خان نیازی کے ساتھ مال روڈ پر ڈکیتی کی واردات کا ذکر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان مسکرائے اور کہا کہ جس ممبر اسمبلی کے ساتھ واردات ہوئی ہے وہ ہے تو میرا رشتہ دار مگر آج کل ن لیگ میں ہے لہٰذا پنجاب پولیس ناکام ہو گئی اور پنجاب پولیس شریفوں کی ملازم بن گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس بہت اعلیٰ ہے ‘ اس لئے خیبر پختونخوا میں کرائم کم اور پنجاب میں بڑھ رہے ہیں ۔ عمران خان جب انعام اللہ خاں نیازی کے ساتھ واردات کا ذکر کر رہے تھے تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ان کو پنجاب کے حالات اور لاء اینڈ آرڈر سے دلچسپی کم اور اپنے ن لیگی رشتہ دار کے لٹ جانے کی خوشی زیادہ ہے ‘ اس کی وجہ بھی سب جانتے ہیں کیونکہ انعام اللہ نیازی اور برادر حفیظ اللہ نیازی عمران خان کے قریبی رشتہ دار ہیں اور وہ بعض اختلافات کی بنا پر پی ٹی آئی سے الگ ہو چکے ہیں۔ انعام اللہ نیازی اور حفیظ اللہ نیازی کی ناراضگی کے بعد کپتان ان سے کس قدر ناراض ہیں اس کا مجھے کچھ کچھ اندازہ تو تھا مگر ڈکیتی کی واردات پر عمران خان کی طرف سے فون کر کے افسوس کرنے کی بجائے خوش ہونے سے اندازہ ہوا کہ ناراضگی کافی زیادہ ہے جہاں تک عمران خان کا دعویٰ ہے کہ کے پی کے کی پولیس پنجاب کی نسبت زیادہ ذمہ دار اور کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ہے اس پر بھی بات ہو سکتی ہے اور اس حوالے سے زیادہ مناسب ہے کہ پنجاب حکومت اعداد و شمار کے ساتھ جواب دے مگر مجھے آج کے کالم میں اس نکتہ پر بحث کرنی ہے کہ کیا واقعی لاہور میں جرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں ؟ کیا واقعی پنجاب پولیس یا خصوصاً لاہور پولیس نکمی ہے ؟ جو اربوں روپے کے فنڈز تو لے رہی ہے مگر کام دھیلے کا نہیں کر رہی ‘ کیا لاہور میں ہونے والی جن وارداتوں پر گزشتہ دو ہفتوں میں درجنوں ٹاک شوز ہو چکے ہیں اور بال ٹو بال کمٹنری جاری ہے کیا صورتحال واقعی اس قدر خراب ہے ؟ میرے خیال میں حالات اتنے بھی برے نہیں جس قدر میڈیا پیش کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی میڈیا کے ٹیکروں کا رخ دیکھ کر ٹویٹ کر دیا اور سرعام پولیس کی کھنچائی شروع کر دی ‘ میں نے بھی لاہور پولیس کے حوالے سے دو کالم لکھے ‘ خاص کر گارڈن ٹاؤن سگنل اور بعد ازاں ملت پارک میں قتل ڈکیتی کی دو خوفناک وارداتوں کے بعد ایسا ماحول بن گیا یا بنا دیا گیا جس کو دیکھ کر ایسے لگا کہ پنجاب میں گڈ گورننس کی بات کرنا مذاق ہے ‘ لاہور پوری طرح چوروں اور ڈاکوؤں کے سپرد ہو چکا ہے۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس شہریوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے دعوے جو روزانہ کی بنیاد پر دہراتا ہے وہ بھی فراڈ ہے انتہائی پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھنے والے ڈی آئی جی حیدر اشرف بھی سارا دن سوئے رہتے ہیں۔ یہ یکا یک کیا ہوا ہے ؟ کیوں ہوا ہے ؟ کون کر رہا ہے ؟ مقصد کیا ہے ؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب پنجاب حکومت اور پولیس کی طرف سے دیا جانا بہت ضروری ہے۔ جہاں تک میرا تجزیہ ہے میرے خیال میں ایک منظم پلان کے تحت پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ کون کر رہا ہے ؟ اس کو آپ خود تلاش کر لیں۔ مقصد کیا ہے جب پتہ چل جائیگا کہ کون کر رہا ہے یا کروا رہا ہے تو اس سوال کا جواب بآسانی مل جائیگا کہ مقصد کیا ہے ‘ ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بارے ایک تاثر ہے کہ وہ اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ان کی وزارت اعلیٰ میں اچھی گورننس ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے واقعات میاں شہباز شریف کی گڈ گورننس کے تاثر کو زائل کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر اس حوالے سے سازشی تھیوری کو ایک سائیڈ پر رکھ کر میرٹ پر لاہور پولیس کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ اتنی بھی بری اور مایوس کن نہیں ہے ‘ لاہور پونے دو کروڑ کی آبادی کا شہر ہے جس میں درجنوں قومیتوں کے لوگ بستے ہیں ‘ یہاں پر ہزاروں مدارس بھی ہیں ‘ لاہور عملاً کئی میلوں پر پھیل چکا ہے ‘ لاہور کے داخلی اور خارجی راستے بھی متعین نہیں ہیں۔ لاہور پولیس وسائل کا رونا بھی ہمیشہ روتی نظر آتی ہے اس کے باوجود لوگ سکھ کی نیند سوتے ہیں ‘ پاکستان کے تمام شہر جب سوتے ہیں لاہور جاگتا ہے ‘ ریسٹورنٹس اور شاپنگ بازار تقریباً تمام رات فیملیوں سے بھرے رہتے ہیں عام شہری کے اندر ایک تحفظ کا احساس موجود ہوتا ہے کہ پولیس نام کی کوئی چیز ان کی حفاظت کیلئے دائیں بائیں موجود ہے۔ خاص طور پر جب سے سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس نے لاہور پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ جہاں تک تعلق ہے لاہور میں ٹریفک سگنل اور ملت پارک میں ڈکیتی کی وارداتوں کا تو اس پر ہم سب نے ملکر لاہور پولیس کی ایسی تیسی تو کی ہے یہ دونوں ڈکیتی کی ایسی وارداتیں تھیں جو بلاشبہ لاہور پولیس کیلئے اور خاص طور پر سی سی پی او لاہور کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج تھیں ‘ ایک ہفتہ کے اندر اندر ان دونوں اندھی وارداتوں کا سراغ لگا کر جب پولیس ملزمان کو میڈیا کے سامنے لے آئی تو ہمیں اخلاقی طور پر پولیس کی اس کاوش پر شاباش بھی دینی چاہئے تھی اور خادم اعلیٰ کو بھی شاباش کے ایک ٹویٹ کے ساتھ وارداتیں ٹریس کر کے ملزمان کو پکڑنے والے پولیس افسران کو نقد انعام بھی دینا چاہئے تھا جب کسی ادارے میں جزا اور سزا کے نظام میں توازن نہیں ہوگا تو وہ ادارہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔ محکمہ پولیس کی مظلومیت پر کبھی غیر جانبدارانہ غور کیجئے کہ کوئی پولیس اہلکار غلطی کرے تو ہم پورے ادارے پر چڑھائی کر دیتے ہیں لیکن جب پولیس بطور ادارہ کوئی اچھا کرے تو ہمارے پاس جواب تیار ہوتا ہے ۔ ہم فوراً کہتے ہیں کہ اس کام کی یہ اہلکار تنخواہ نہیں لیتے ؟ ہر معاشرے میں اداروں کو بنانے اور گرانے میں میڈیا کا بھی اہم رول ہوا کرتا ہے ‘ ہمسایہ ملک بھارت کے دو چینلز پر گزشتہ دو دہائیوں سے اسٹیٹ سپانسرز دو ڈرامے چل رہے ہیں ایک ڈرامے کا نام سی آئی ڈی جبکہ دوسرے کا نام کرائم پٹرول ہے ‘ دونوں ڈراموں کے سکرپٹ کا بغور جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان دونوں ڈراموں کا مقصد پولیس ‘ سی آئی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا امیج عوام میں بہتر کرنے کی ایک حکومتی کوشش ہے کیونکہ ان ڈراموں میں آغاز سے اختتام تک قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہلکاروں کو ہیرو ثابت کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا کیس جو بہت الجھا ہوا تھا جو کسی سے بھی حل نہیں ہو سکتا تھا اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کمال مہارت سے حل کر دیا۔ ایک طرف بھارت عوام کی اوپینین میکنگ اور اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اٹھانے کیلئے میڈیا کو بطور ٹول استعمال کر رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے میڈیا اداروں کو گرانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ پولیس جتنا بھی اچھا کام کرے ہم نے پولیس کو ہیرو نہیں ولن ہی ثابت کرناہے ‘ ایک طرف ہمارے عوام اور میڈیا کا پولیس کے بارے منفی رویہ بن چکا ہے دوسری طرف محکمہ پولیس کے سربراہان نے بھی اپنا امیج بہتر کرنے کیلئے بدلتے ہوئے حالات کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اپنی حکمت عملی ترتیب نہیں دی محکمہ پولیس کے بڑوں کو ایک چینل اور چند اخبارات کے دور سے باہر نکل کر 85 نیوز چینلز اور سینکڑوں اخبارات ‘ سوشل میڈیا اور آزاد میڈیا کی صورتحال کو سامنے رکھ کر نئی میڈیا پالیسی وضع کرنا ہوگی جس کے ذریعے پولیس کا جائز موقف صحافتی حلقوں تک پہنچ سکے۔ محکمہ پولیس کے بڑوں کیلئے یہ بھی بہت بڑا چیلنج اور غور کرنے کی بات ہے کہ آج میڈیا کے انقلاب میں جہاں 24 گھنٹے چینلز پر بال ٹو بال کمٹنری چلتی ہے اور لاء اینڈ آرڈر اور پولیس سروسز کا براہ راست تعلق عوام کے جان و مال اور عزت کی حفاظت سے ہے اگر پولیس اپنی تعریف نہیں کروا سکتی تو کم از کم جو 100 فضول گالیاں روزانہ پڑتی ہیں ان میں سے 50 کا رخ تبدیل کر کے ان کو 50 تو کیا جا سکتا ہے۔

مزید : کالم


loading...