جی ایف سیٹلمنٹ ،سیکرٹری بحالیات، ممبر کا لونیز اور ڈپٹی کمشنرز کے جعلی فیصلوں کی تیاری کا انکشاف

جی ایف سیٹلمنٹ ،سیکرٹری بحالیات، ممبر کا لونیز اور ڈپٹی کمشنرز کے جعلی ...

 لاہور(عامر بٹ سے)عدالت کے جعلی فیصلوں کے بعد،بورڈ آف ریونیو کے چیف سیٹلمنٹ کمشنرپنجاب،سیکریٹری بحالیات،ممبر کالونیز اور ڈپٹی کمشنر ز کے جعلی فیصلہ جات کی تیاری کا انکشاف ،صوبائی دارلحکومت میں قائد اعظم محمد علی جناح ،فاطمہ جناح ،نواب لیاقت علی خان،سابق گورنر سلمان تاثیرسمیت بڑے بڑے زمینداروں ،سرکاری ادارو ں ،صوبائی حکومت ،وفاقی حکومت کی ملکیتی اراضی سمیت وقف شدہ جائیدادوں ،راستہ جات ،کھالے، نالوں پر بھی مافیا نے بوگس کاغذات کے ذریعے قبضے کر لئے ، قا نون ساز اور احتساب کے ادارے کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ سکے جبکہ بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران جعلی کی تیاری میں ملوث مافیا پر قانونی گرفت نہ کرکے سکے ،سیکریٹری بحالیات ،ممبر کالونی ،ڈپٹی کمشنرز کے جعلی فیصلہ جات اور بوگس کاغذات کے ذریعے ساڑھے چار لاکھ سے زائد سرکاری و نیم سرکاری جائیدادوں پر قبضے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے روزنامہ پاکستان نے اہم دستاویزات کے شواہد حاصل کرلیے ہیں۔ معلومات کے مطابق 2008کے سابق ڈسٹرکٹ کلکٹر ذوالفقار احمد گھمن جو کہ موجودہ ڈی جی سپورٹس ہیں نے ضلع لاہور میں ناجائز قابضین کی رپورٹ مرتب کی اور اپنی مرتب کر دہ رپورٹ میں اعداد وشمار بنائے کہ صوبائی دارلحکومت لاہور میں 48ہزار 4سو 94ایکڑ اراضی میں سے 1578ایکڑ اراضی تحصیل رائے ونڈ اور ماڈل ٹاؤن جبکہ 3ہزار 4سو 35ایکڑ اراضی تحصیل کینٹ اور شالیمار میں قبضے گروپوں کے نرغے میں آچکی ہے اس کے علا وہ سرکاری راستہ جات اور نالے کھالوں کی زمینوں پر بھی قبضے ہو چکے ہیں ،ذرائع سے مزید معلوم ہواہے کہ صوبائی دارلحکومت میں چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب اور سیکریٹری بحالیات پنجاب سمیت ممبر کالونی کے جعلی اور بوگس کاغذات کے ذریعے سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کی گئی او ر قبضے کئے گئے جو کہ سابق چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب ڈاکٹر نذیر سعید کے دور میں بھی ہزاروں کنال اراضی جعلی اور بوگس کاغذات قرار پائے جانے کے بعد جعلسازی کی تصدیق ہوئی دوران تحقیقات پر بھی انکشاف ہوا ہے کہ چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب سیکریٹری بحالیات ،ممبر کالونی ،ڈپٹی کمشنرز کے جعلی دستخط ،مہریں اور جعلی تحریر سے آج بھی فیصلے تیار کرتے ہوئے ریکارڈ میں چسپاں کئے جارہے ہیں جن کی مصدقہ نقول بھی کلرک حضرات جاری کررہے ہیں ۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ چندر ماہ قبل لاہور بحریہ ٹاؤن ،بلاول ہاؤس کے سامنے بھی 90کنال اراضی کے جعلی رجسٹری تیار کرتے ہوئے ریکارڈ میں چسپاں کی گئی جوکہ محکمہ اینٹی کرپشن نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا اور جعلسازی کا پول کھل گیا ،اس طرح رائے ونڈ روڈ پر وقع لیک ویو ہاؤسنگ سکیم انتظامیہ نے بھی صوبائی حکومت کی ملکیت 145کنال اراضی جو کہ موضع جنجاتے میں واقع ہے پر جعلی کاغذات کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے مال روڈ پر واقع المشہور ریگل سینما کی 57کنال انتہائی بیش قیمتی اراضی پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے جس کے پیچھے مشہور سیاسی شخصیات کے ہاتھ ہیں ،کوٹ دھونی چند میں سوتر مل کے نام سے مشہور 400کنال سرکاری اراضی کو ایک جعلی لیٹر کے ذریعے قبضہ گروپ نے اپنے قبضے میں کر رکھا ہے جبکہ موضع چرڑ ڈیفنس میں واقع 600کنال سرکاری اراضی کی بند ر بانٹ کرنے والے ریونیو سٹاف اور مقامی مافیا شریف نمبردار جعلی الاٹمنٹ کے کاغذات مرتب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو اربوں روپے کی ملکیت سے محروم کر چکا ہے اس طرح امر سدھومیں 90کنال بخاری مارکیٹ کے نام سے مشہور سنٹرل گورنمنٹ اراضی ہتھیائی جاچکی ہے ،قلعہ گجر سنگھ میں واقع طوبہ ریسٹورنٹ کیساتھ 37کنال اراضی پر بھی قبضے کیئے جا چکے ہیں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی 700کنال کی موضع سرائچ میں زیر قبضہ جائیداد کی الاٹمنٹ بھی مشکوک اور بوگس قرار دیتے ہوئے خارج کی گئی تھی ،ہربنس پورہ میں سنٹرل گورنمنٹ کی زمینوں کو آج بھی سرعام اشٹام پیپرز پر فروخت کیا جارہا ہے اور سر عام مقامی ایم پی اے ،ایم این اے لوٹ سیل لگائے ہوئے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر قبضے اور پختہ تعمیرات کی جارہی ہیں اعدادو شمار کے مطابق 4ہزار سے زائد سرکاری اراضی پر قبضے کئے جاچکے ہیں ،ایک ہی جائیداد کے 6۔6افراد کی الاٹمنٹ اور پی ٹی ڈی بھی منظر عام پر آچکی ے لارنس روڈ پرواقع کروڑوں روپے مالیت کی 29کنال اراضی 50سال سے زائد سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کے زیر قبضہ رہی جس کے جعلی کاغذات تیار کروائے گئے ہیں ،جی ا و آر ون کے سامنے 5کنال کی ارای پر بھی روپالی پولیسٹر ادارے کا قبضہ ہے جس کی ملکیت ریونیو ریکارڈ میں آج بھی سنٹرل گورنمنٹ ہے اس کے علاوہ مال روڈ پر واقع مشہور 5سٹار ہوٹل جو کہ 96کنال کی اراضی پر مشتمل ہے کی ملکیت کی کلیئرنس بھی تاحال نہیں کی جاسکی ہے گوہاوہ،اجودھیا پور،شاہدرہ،جوگیاں ناگرہ سمیت کاہنہ ،دولو کلاں ،دولو خورد ،امرسدھو،اچھرہ،گڑھی شاہو،بیلہ بستی رام ،گنج کلاں،ساندہ کلاں،نیاز بیگ ،لاہور خاص،بھماں،کوڑے،سیجپال،چوہنگ خوردکیراں،کرباٹھ،ستوکتلہ،ماڈل ٹاؤن،چندرائے،کوٹ لکھپت ،کوٹ خواجہ سعید،،باغبانپورہ،سلامت پورہ،فتح گڑھ ،مناواں ،رکھ چھبیل،لکھو ڈیر،برکی سمیت اربن اور رولر سمیت اشتمال کے متعدد موضع جات میں بورڈ آف ریونیو کے انتظامی افسران

اور اعلیٰ عہدوں فائز افسروں کے جعلی فیصلہ جات کی تیاری کے ساتھ قبضے کئے گئے ہیں ۔12جنوری1998میں ضلع کچہری میں لگنے والی آگ کے بعد جل جانے والے ریکارڈ کے سبب زیادہ فیصلے ناصر محمود کھوسہ اور جاوید محمود سابق چیف سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنر ز کے مرتب کرتے ہوئے ناصرف سینٹرل گورنمنٹ بلکہ فیڈرل لینڈ کمیشن کی جائیدادوں کو بھی ہتھیا گیا ہے جس کی آج تک تحقیقات عمل میں نہیں لائی گئی ہے قبضہ گروپوں کے اختیارات اور جعلسازی کا اس امر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اچھرہ میں موجودہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ،پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان ،اور محترمہ فاطمہ جناح کی 29کنال ٹرسٹ وقف شدہ زمین پر بھی قبضے جما لئے گئے ہیں ،جعلساز کی معاونت سے اربوں روپے کے اثاثے بنانے والے بااثر افراد اپنے پیسوں کی چمک سے خود کو محفوظ کئے ہوئے ہیں جو کہ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس اور محکمہ ریونیو کے تمام افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

چیف سیٹلمنٹ کمشنر

مزید : صفحہ اول


loading...