سٹیٹ بینک کا سینیٹ کو ایک بار پھر قرضوں سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار

سٹیٹ بینک کا سینیٹ کو ایک بار پھر قرضوں سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سٹیٹ بینک نے سینیٹ کو ایک بار پھر قرضوں سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار کردیا ہے، سٹیٹ بینک سے 5سال کے دوران قرضوں اور معافی کی تفصیلات مانگی گئیں تھیں،قرضوں کی تفصیلات نہ دینے پرکمیٹی ارکان وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک پر برہم ہوگئے ہیں۔جیو نیوز کے مطابق جہانزیب جمالدینی کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قواعدوضوابط کااجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، بریفنگ میں کہا گیا کہ سٹیٹ بینک نے سینیٹ کو ایک بار پھر قرضوں سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار کردیا ہے، سٹیٹ بینک سے 5سال کے دوران قرضوں اور معافی کی تفصیلات مانگی گئیں تھیں، سٹیٹ بینک کے حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہم کسی فرد کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں،قانون کے تحت تمام تفصیلات پیش نہیں کی جاسکتیں۔سیکرٹری خزانہ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے سابق جسٹس سرمد جلال عثمانی سے قانونی رائے لی ہے،اسٹیٹ بینک چیرمین سینیٹ سے رولنگ پر نظرثانی کی درخواست کرے گا۔واضح رہے کہ چیرمین سینیٹ نے سٹیٹ بینک کوقرضوں سے متعلق تفصیل دینے کی رولنگ دے رکھی ہے۔

سٹیٹ بینک

مزید : صفحہ اول


loading...