ہارٹ آف ایشای کانفرنس میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں ، پاکستان

ہارٹ آف ایشای کانفرنس میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں ، پاکستان

 امرتسر(اے این این)افغانستان کے بارے میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا چھٹا وزارتی اجلاس(آج) ہفتہ کو بھارت کے شہر امرتسر میں شروع ہوگی جو دو روز تک جاری رہے گی۔کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کرینگے۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو فروغ دینا ہے ۔ ہارٹ آف ایشیاء استنبول پراسسز کا آغاز 2001ء میں ہوا تھا جس میں پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قزاخستان،کرغستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی،ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ اس عمل کی حمایت کرنے والے ملکوں میں ، آسٹریلیا، کینیڈا ، ڈنمارک، مصر، فرانس، فن لینڈ، جرمنی، عراق، اٹلی، جاپان، ناروے، پولینڈ، سپین، سویڈن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں ۔ کانفرنس میں چار ممالک ازبکستان، لیٹویا، بلغاریہ اور آسٹریا کانفرنس میں مہمان ملکوں کے طورپر شرکت کرینگے۔ دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن کے حوالے سے ممکنہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرے گا۔ افغانستان میں امن کو پاکستان کے استحکام سے مشروط سمجھتے ہیں۔ امن کیلئے علاقائی قوتوں کو اپنی نیک نیتی اور سنجیدگی ظاہر کرنا ہو گی۔ افغانستان میں امن کیلئے سرگرم اور کون رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے یہ دیکھنا ہو گا۔ کشمیر سمیت دیگر معاملات کو بیٹھ کر بات چیت سے ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں کسی بہت بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں۔

ہارٹ آف ایشیاء

مزید : صفحہ اول


loading...