مغربی بنگالی کی وزیر اعلٰی ممتا بینرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان سیاسی محاذ آرائی میں شدت

مغربی بنگالی کی وزیر اعلٰی ممتا بینرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  بھارت میں ’’نوٹ بندی‘‘ سے پیدا ہونے والا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ دو وزرائے اعلیٰ یعنی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال مرکزی حکومت کے خلاف ڈٹ گئے ہیں اور فیصلے کو واپس لینے کیلئے تحریک کا آغاز کرچکے ہیں۔ جمعہ کے روز کولکتہ میں مودی کے خلاف شدید مظاہرے ہو رہے تھے تو پارلیمنٹ کے اندر بھی حزب اختلاف کی جماعتیں شدید احتجاج کر رہی تھیں۔ گزشتہ کئی دن سے احتجاجوں کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی چلانا مشکل ہوچکا ہے اور ہنگامہ خیز احتجاج کے بعد اجلاس ملتوی کرنا پڑ رہا ہے۔ مودی کے اقدام کا مقصد تو کالے دھن کو کنٹرول کرنا بتایا گیا تھا لیکن نقصان کا سارا نزلہ غریب غرباء پر گرگیا ہے جن کی تعداد پورے ملک میں کروڑوں میں ہے۔ ممتا بینر جی کے غصے کی تازہ وجہ مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی ہے جس کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ فوج کی تعیناتی سے پہلے ان سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی مغربی بنگال کی حکومت سے باضابطہ اجازت لی گئی ہے۔ فوج کی جانب سے بتایا تو یہ گیا ہے کہ یہ فوجی دستے معمول کی مشقوں کیلئے آئے ہیں لیکن مغربی بنگال کی حکومت کا خیال ہے کہ ایسا ان مظاہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا گیا ہے جو پوری ریاست میں وسیع پیمانے پر پھیلتے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے فوج کی واپسی تک گھر جانے سے انکار کردیا ہے اور وہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ میں ہی بیٹھ گئی ہیں۔ ان کے اس احتجاج پر سیکرٹریٹ کے علاقے سے تو فوج ہٹالی گئی لیکن کولکتہ کے دوسرے کئی علاقوں میں فوج بدستور موجود ہے جس کی واپسی کا ممتا بینر جی مطالبہ کر رہی ہیں۔ اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایا وتی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کو سیاسی نقصان پہنچانے کیلئے مرکزی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ دہلی کی ریاست کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال بھی نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، انہیں سیاسی طور پر ناتجربہ کار کہا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بھی بنایا جا رہا ہے لیکن ممتا بینر جی تو جہاں دیدہ سیاستدان ہیں انہوں نے اگر یہ عزم کرلیا ہے کہ وہ مریں یا جئیں وہ مودی کو ہٹا کر دم لیں گی تو اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں فوج بھیجنے کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ ادھر کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں بہت سے وزیراعظموں کا دور دیکھا ہے اور بہت سوں کے ساتھ تو کام بھی کیا ہے لیکن نریندر مودی جیسا ناکام وزیراعظم آج تک نہیں دیکھا۔ انہوں نے بھی فوج کی تعیناتی کے مسئلے پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کو اس معاملے پرصفائی دینا ہوگی۔ نریندر مودی کے بہت سے اقدامات کا بنیادی مقصد تو یو پی سمیت بہت سی ریاستوں کے انتخابات جیتنا تھا لیکن ان کی یہ حکمت عملی الٹی پڑ رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے کی وجہ سے ووٹر مودی سے سخت ناراض ہے اور اس کا بدلہ ریاستی انتخابات میں لے گا۔ یکم دسمبر کو سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے چیک ملے تو وہ یہ چیک کیش کرانے کیلئے مارے مارے پھر رہے تھے بینکوں کے باہر نوٹ تبدیل کرانے والوں کی لمبی لمبی قطاریں تو روز ہی لگتی ہیں۔ قطار میں کھڑے لوگوں کو خطرہ تھا کہ ان کی باری آنے تک بینک سے کیش ختم ہو جائے گا کیونکہ روزانہ جو کیش آتا ہے وہ دو تین گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے ایسے میں تنخواہوں کے چیک کون کیش کرتا؟ چنانچہ لوگ مایوسی کے عالم میں اگلے دن لائنوں میں لگنے کیلئے واپس چلے گئے۔ نوٹ بند ہونے سے جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا فوری خاتمہ بظاہر نظر نہیں آتا کالے دھن ختم کرنے کی جنگ سیاسی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مودی نے پچاس دن کے اندر اس فیصلہ کا نتیجہ سامنے آنے کا اعلان کیا تھا لیکن حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اور سیاسی محاذ آرائی بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔ چند ماہ میں پہلی دفعہ بھارتی سیاست میں یہ رجحان در آیا ہے کہ فوج کے کردار پر براہ راست بات ہونے لگی ہے۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سیاسی معاملات میں فوج کو گھسیٹا گیا ہو یا زیر بحث لایا گیا ہو۔ جس انداز میں مغربی بنگال میں فوج بھیجی گئی ہے اس پر بھی نکتہ چینی ہوئی ہے۔ ریاست کے آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں بھی فوج کی آمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں جبکہ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے مشقوں کیلئے 28 نومبر کو آنا تھا جس میں تاخیر ہوگئی۔

سیاسی محاذ آرائی

مزید : تجزیہ


loading...