ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت، اچھا فیصلہ ، مثبت اثرات ہوں گے

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت، اچھا فیصلہ ، مثبت اثرات ہوں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

وفاقی حکومت نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کر کے اچھے اقدام کیا ہے اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے اور پاکستان کا پر امن چہرہ اور ارادہ پھر سامنے آئے گا کہ بھارت کی بدترین اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے باوجود پاکستان عالمی اور علاقائی مسائل اور اجتماعات سے الگ تھلگ نہیں رہتا چہ جائیکہ بھارت جس نے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے کانفرنس ہی ملتوی کرادی تھی، اب پاکستان نے باضابطہ طور پر اعلان کردیا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کریں گے تو مودی پراس کے الٹے اثرات مرتب ہو ئے ہیں، بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے یہ واضح کیا گیا کہ مشیرخارجہ سرتاج عزیز سے دو طرفہ مذاکرات نہیں ہوں گے اور نہ ہی پاکستان نے اس کی درخواست کی ہے، یہ بھی عجیب جواب ہے کہ پاکستان کا موقف واضح ہے، وزیر اعظم بھی کہہ چکے اور دفتر خارجہ نے بھی بیان کردیا ہوا ہے کہ پاکستان تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا اور اس کے لئے ہر لمحہ تیار ہے لیکن کوئی بھی مذاکرات تنازعہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر نہیں ہوں گے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور تعصب برقرار ہے، اب سرتاج عزیز کی کانفرنس میں شرکت کا اعلان ہوتے ہی بی،جے،پی کی انتہا پسند تنظیم’’ شیو سینا‘‘ نے مخالفت شروع کردی اور اعلان کیا ہے کہ سرتاج عزیز کو کانفرنس میں شرکت نہیں کرنے دی جائے گی اور ساتھ ہی مظاہرے بھی شروع کردیئے ہیں، یوں پاکستان کے مثبت فیصلے سے بھارت کا منفی کردار پہلے ہی سامنے آگیا ہے، اچھا ہے سرتاج عزیز جائیں اور متعصب اور شر پسند ہندو مظاہرے یا توڑ پھوڑ کریں تو دنیا کو بھارتی حکمرانوں کے کردار کامزید علم ہو جائے، اس لحاظ سے یہ فیصلہ بہت بہتر ہے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو یہاں بھی بھارتی رویے کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں اورایک طبقے کا یہ خیال تھا کہ پاکستان کو بائیکاٹ کرنا چاہیے جیسے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کیا ہے ، حالانکہ ہر دو امور کا پس منظر مختلف ہے، ہاکی فیڈریشن نے جوابی فیصلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ بھارت میں ہو رہا ہے اور پاکستان جو نیئر ہاکی ٹیم شرکت کی اہل ہے، بھارتی ہائی کمیشن کو ویزوں کی درخواستیں دی گئیں جہاں سے ویزے نہیں دیئے گئے اور انکار کردیا گیا ہے، انٹر نیشنل ہاکی فیڈریشن نے بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے پاکستان کی جگہ ملائیشیا کی ٹیم کو دے دی ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے فیصلہ کرکے اعلان کیا کہ بھارت میں اب کسی بھی موقع پر کسی بھی مقابلے میں شرکت نہیں کی جائے گی۔ یوں یہ معاملہ مختلف اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مسئلہ الگ ہے۔ پاکستان غیر حاضر رہتا تو بھارت کو چالبازی کا موقع ملتا کہ پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرسکے اب تو پاکستان کو پوری تیاری کے ساتھ کانفرنس میں اپنا نقطہ ء نظر بیان کرنے کے علاوہ دنیا کے سامنے بھارتی چہرہ بھی رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں حکومتی فیصلوں پر تنقید کوئی عیب تو نہیں لیکن اس میں اتنا فرق ضرور ہونا چاہیے کہ قومی مسئلہ کیا اور سیاسی کیا ہے، ان کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ قومی امور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی ہونا چاہیے کہ معروضی حالات کے مطابق یوں بھی یہ مشکل دور ہے۔ بہرحال ہماری گزارش تو حکمران طبقے سے یہی ہے کہ ان کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ کتنی بار یہ گزارش کی جائے کہ وزیراعظم ایک بڑا فیصلہ کریں تمام سیاسی جماعتوں کو ہر صورت مشاورت کے لئے بلائیں اور بند کمرے میں بات چیت کرکے قومی امور طے کر لئے جائیں جن پر اتفاق رائے ہو، دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے ، صرف پاکستان میں ہی دوبدو ہو رہی ہے۔ بہتر ہے کہ سیاسی امور اور محاذ آرائی اپنی جگہ رہے لیکن قومی امور پر مکمل اتفاق رائے سے دنیا کو مثبت جواب ہوگا۔

اچھا فیصلہ

مزید : تجزیہ


loading...