پروفیسر رابن انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ نہیں،ماہرین

پروفیسر رابن انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستہ نہیں،ماہرین

لاہور (خصو صی رپورٹ) سپریم کورٹ میں زیرسماعت اورنج لائن میٹرو ٹرین کیس کے حوالے سے گزشتہ روز شائع ہونے والی خبروں کے بارے میں تعمیراتی شعبے اور انجینئرنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہپروفیسر رابن آرکیالوجی کے پروفیسر ہیں انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ نہیں وہ تاریخی مقامات پر میٹروٹرین چلنے سے پیدا ہونے والی زمینی تھرتھراہٹ کے بارے میں نیسپاک کی تیارکردہ رپورٹوں کے تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق کرنے کی نہ تو مہارت رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس کا کوئی تجربہ ہے۔ انہوں نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے ان عمارتوں پر اورنج لائن ٹرین کے بصری اثرات اور قانونی پہلوؤں پر تو بحث کی ہے مگر زمینی تھرتھراہٹ کے بارے میں نیسپاک کی رپورٹ کے تکنیکی پہلووں کے بارے میں بات کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ یہ ان کا شعبہ ہی نہیں۔ وہ ان رپورٹوں میں زمینی تھرتھراہٹ کی رفتار اور اعداد و شمار کے بارے میں بھی کوئی رائے نہیں دے سکے کہ یہ اعداد و شمارتاریخی عمارتوں کے لئے قابل برداشت حد کے اندر ہیں یا نہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر کی سماعت کے دوران میٹروٹرین چلنے سے پیدا ہونے والی وائبریشن ولاسٹی(زمینی تھرتھراہٹ) کے تاریخی مقامات پر اثرات کے بارے میں نیسپاک کی رپورٹوں کے قابل اعتبار ہونے کی دوبارہ تصدیق کرنے کے لئے فریقین سے تین تین ماہرین کے نام طلب کئے تھے اور 14اکتوبر 2016ء کو فریقین کے پیش کردہ ناموں میں سے دو تکنیکی ماہرین کا تقرر کیا ۔ان ماہرین میں میسرز ٹپسا‘ ایشین کنسلٹنگ انجینئر ز پرائیویٹ لمیٹڈ اور پروفیسر رابن کوننگم شامل تھے ۔ان دونوں ماہرین نے اپنی اپنی رپورٹ چیف سیکرٹری پنجاب کو جمع کروائی جو سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی ۔ ان ماہرین کا مینڈیٹ سال 2015 ء اور 2016ء میں نیسپاک کے انجینئرز کی طرف سے بنائی جانے والی والی رپورٹ کے قابل اعتبار ہونے کی تصدیق کرنا تھا جو خاصی تکنیکی اور منصوبے کی سٹرکچرل انجینئرنگ کے بارے میں تھی ۔واضح رہے کہ TYPSA سپین کی ایک انجینئرنگ فرم ہے جومقامی کنسلٹنٹ ایشین کنسلنٹنگ انجینئر ز کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں کام کر رہی ہے اوربین الاقوامی سطح پر سول انجینئرنگ کے تمام شعبوں ‘ پلاننگ ‘ آرکیٹکچر اور ڈیزائن سروسز وغیرہ میں کام کرتی ہے۔ یہ مایہ ناز فرم دیگر مختلف النوع منصوبوں کے ساتھ ساتھ سپین ‘فرانس ‘ پرتگال ‘برازیل ‘ امریکہ ‘ سعودی عرب‘ قطر وغیرہ سمیت60سے زیادہ ملکوں میں میٹروریل کے منصوبوں پر کام کرنے کا 50سال سے زیادہ تجربہ رکھتی ہے اور تعمیراتی شعبے میں نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ اس فرم نے نیسپاک کی رپورٹوں کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ" نیسپاک نے بہت اعتدال پسندانہ( محتاط ) ر استہ اختیار کیا ہے جو زمینی تھر تھراہٹ کی حقیقی سے زیادہ رفتار پیش کرتا ہے ۔ نیسپاک کی رپورٹ کا یہ نتیجہ بالکل درست ہے کہ حساب کے بعد حاصل کی جانے والی زمینی تھر تھراہٹ کی سطح قابل برداشت حدود(permissable limits)میں ہو گی اور ان تاریخی ورثے کی عمارتوں میں سے کسی پر بھی اس کے نقصان دہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ چنانچہ حتمی طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ موضوع کے حوالے سے نیسپاک کی رپورٹیں جامع اور مکمل ہیں اور ان کے نتائج درست اور قابل قبول حدود میں ہیں۔"واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے جس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ ان رپورٹوں کا جائزہ لے کر کرے گی۔ان حالات میں ایسی خبروں کی اشاعت معزز عدالت پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...