پولیس جھوٹے مقدمات درج کرکے ظلم کما رہی ہے، لاہورہائیکورٹ

پولیس جھوٹے مقدمات درج کرکے ظلم کما رہی ہے، لاہورہائیکورٹ

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور پولیس کی طرف سے شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے پولیس ظلم کما رہی ہے، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے یہ ریمارکس بزرگ میاں بیوی اور انکے بیٹے کیخلاف دولاکھ کے جعلی چیک کا جھوٹا مقدمہ خارج کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے دیئے ۔ ساٹھ سالہ خاتون کلثوم بانو اپنے شوہر سید اسرار اور بیٹے شاہد سمیت عدالت میں پیش ہوئیں۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ محمد سعید وغیر ہ کو دو لاکھ روپے کا چیک بطور گارنٹی دیا گیا تھا لیکن ملزموں نے دکان کا قبضہ دینے سے انکار کر دیا اور الٹا پورے خاندان پر جعلی چیک کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ عدالت نے ایس ایچ او سے استفسار کیا کہ وہ قانون پیش کرے جس کے تحت جعلی چیک کا مقدمہ ایک سے زائد افراد کیخلاف درج ہوتا ہے ۔ عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایس ایچ او کو بوڑھی خاتون پر صرف دولاکھ روپے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی، کمرہ عدالت میں کھڑی اس بزرگ خاتون کو دیکھے، شاید کوئی شرم آجائے، ہونا تو یہ چاہئے کہ جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر ایس ایچ او کیخلاف زیادہ سخت مقدمہ درج ہونا چاہئے، ایس ایچ او نے کہا کہ جو درخواست آئی، اس کے مطابق مقدمہ درج کردیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست کوئی آسمان سے نہیں اتری تھی، عقل استعمال کرنا تو ایس ایچ او کی ہی ذمہ داری تھی جس پر ایس ایچ او نے عدالت سے معافی مانگ لی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...