لاہور ہائیکورٹ اور بارز کے مابین تنازعات خوش اسلوبی سے طے پا گئے

لاہور ہائیکورٹ اور بارز کے مابین تنازعات خوش اسلوبی سے طے پا گئے

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ اور بارز کے درمیان مختلف تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا جس کے بعدوکلاء نے ہائی کورٹ کی 150سو سالہ تقریبات کا بائیکاٹ ختم کر دیا ۔ اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سید خورشید انور رضوی کے ہمراہ پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسو ایشن اور لاہوربار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے میڈیا بریفنگ میں اس بات کا اعادہ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ اور بارز کے مابین تمام ایشوز کو احسن طریقہ سے حل کر لیا گیا ہے،وکلاء اور بار زکے نمائندے لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات میں بھرپور شرکت کریں گے۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے میڈیا کو بتایا کہ آئندہ صرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ہی لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ1973 کی سیکشن54 کے استعمال کا اختیار ہوگا جبکہ سپروائزی کمیٹی وکلاء کے معاملات کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرے گی۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے مابین طے پایاہے کہ پنجاب بار کونسل لاہور بار کے نائب صدر رانا سعید ایڈووکیٹ کے خلاف جج سے بد تمیزی کے ریفرنس کے حوالے سے ان کے لائسنس کی بحالی سے متعلق اپنے سابقہ آرڈر واپس لے گی اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کا میرٹ پر فیصلہ کرے گی اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے میاں محمد شفیق بھنڈارا، طاہر نصر اللہ وڑائچ، مقصود بٹر، چودھری اشتیاق اے خان، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین چودھری محمد حسین، چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی ممتاز مصطفی، لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر رانا ضیاء عبد الرحمان، نائب صدر سردار طاہر شہباز، سیکرٹری انس غازی، لاہور بار ایسو سی ایشن کے صدر ارشد جہانگیر جھوجھہ ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میاں ظفر اقبال کلانوری اور رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سید خورشید انور رضوری بھی شریک تھے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...