پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں میرٹ لسٹ لگانے کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں میرٹ لسٹ لگانے کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے نجی میڈیکل کالجوں میں میرٹ پر داخلوں کیلئے دائر درخواستوں میں فریقین کو مصالحت کا موقع دیتے ہوئے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے طلبا کی میرٹ لسٹ لگانے کیخلاف حکم امتناعی میں 5 دسمبر تک توسیع کردی ہے۔ پی ایم ڈی سی اور سرکاری اداروں کی جانب سے اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف اور درخواست گزاروں کی جانب سے سید علی ظفر مل کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرینگے۔گزشتہ روز عدالت میں اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف پیش ہوئے جبکہ درخواست گزروں کی جانب سید علی ظفر ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔فاضل عدالت نے فریقین کی رضامندی سے معاملہ عدالت سے باہر حل کرنے اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ طلبہ کے مفاد کو پیش نظر رکھا جائے۔میڈیکل کالجز کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہوں نے میرٹ کے مطابق طلبہ کے میڈیکل میں داخلے کر لئے ہیں،نئے سال کی کلاسز شروع نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کا نقصان ہورہا ہے لہذا میڈیکل کالجز کو ان طلبہ کو پڑھانے کی اجازت دی جائے۔ درخواست گزار طلبہ کی طرف سے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ سنٹرل ایڈمیشن پالیسی کے ذریعے سیٹ ٹو کے ذریعے انٹری ٹیسٹ دینے والے تمام طلبہ کو داخلے کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے اور میرٹ پالیسی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس سے طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی کے وکیل نوشاب اے خان نے موقف اختیار کیا کہ تمام میڈیکل کالجز میں داخلے صرف میرٹ کی بنیاد پر ہی ہونگے۔ نجی میڈیکل کالجز 31 اکتوبر سے قبل داخلے نہیں کر سکتے تھے، اگر میڈیکل کالجز نے دھوکہ دہی سے طلبہ کے داخلے کئے ہیں ۔

حکم امتناعی میں توسیع

مزید : صفحہ آخر


loading...