سندھ اسمبلی میں پاس کردہ متنازعہ بل اسلام دشمنی اور پاکستانی آئین کیخلاف ہے: حافظ سعید

سندھ اسمبلی میں پاس کردہ متنازعہ بل اسلام دشمنی اور پاکستانی آئین کیخلاف ہے: ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں پاس کردہ متنازعہ بل سراسر اسلام دشمنی اور پاکستانی آئین کیخلاف ہے۔سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اس بل کی منظوری کیخلاف تحریک چلائیں گے۔سندھ میں ہندوؤں کے اسلام قبول کرنے پر نریندر مودی کو سخت تکلیف ہے۔ متنازعہ بل کی منظوری میں بھارتی اشاروں پر چلنے والے وڈیروں کا ہاتھ ہے۔ غیر اسلامی بل پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کو کوئی نیا بل آجائے گا۔ بھارت اسرائیل کو ساتھ ملا کر پاکستان کیخلاف خوفناک سازشیں کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو باہم لڑانے اور دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ فرقہ واریت ختم اور امت کا وجود مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سندھ اسمبلی نے قانون منظور کیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کاکوئی ہندو اسلام قبول نہیں کر سکتا اور اگر کوئی کرے گا تو اسے سزا ہو گی۔یہ قانون پاس کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آج سندھ میں ہندو بہت تیزی سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ماضی میں انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سندھ میں بسنے والے ہندوؤں کو پاکستان کیخلاف سازشوں کیلئے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن وہ اپنی ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اللہ کا شکر ہے کہ بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے میں جہاں دیگر بہت سے عوامل ہیں وہیں جماعۃالدعوۃ کا بھی اس میں بہت حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے رضاکاروں نے تھرپارکراور سندھ کے دیگر علاقوں میں ریلیف کا کام کیا ہے۔تھرپارکر میں ایک ہزار سے زائد کنویں کھدوائے اور دور دراز کے علاقوں میں پانی کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی۔ وہاں پانی نہ ہونے سے زراعت نہیں ہے ہم ان علاقوں میں سولر انرجی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگا رہے ہیں اورایسے پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں جن سے یہ علاقے آباد ہو سکیں اور فصلیں اگائی جا سکیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جوہڑوں کا بدبودار پانی پینا پڑتااور جانور قحط سے مر جاتے تھے آج انہیں صاف پانی میسر ہے اور سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں تبدیل ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم گجرات کا وزیر اعلیٰ رہ چکا ہے۔ ہندوستانی حکمران چاہتے تھے کہ سندھ کے ہندو پاکستان چھوڑ کر بھارت آجائیں تاکہ وہ ان کی خیمہ بستیاں بسائیں اور پھر پروپیگنڈا کے ذریعہ دنیا کو دھوکہ دیکر مشرقی پاکستان والا ڈرامہ رچایا جائے لیکن انڈیا کا یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ بھارتی حکمرانوں کی یہ سازشیں تو کامیاب نہیں ہو سکیں اس لئے نیا کھیل کھیلا گیا اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے فنڈ لینے اوربھارتی اشاروں پر چلنے والے سندھ کے وڈیروں کو تیار کیا گیا کہ وہ سندھ حکومت پر دباؤ بڑھاکر اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں کے اسلام قبول کرنے اوراسی طرح ایک خاص مدت تک قبول اسلام کو چھپانے کا بل منظور کروائیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...