143تحصیلوں میں کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف پر وکلاء، شہریوں کا تشدد معمول

143تحصیلوں میں کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف پر وکلاء، شہریوں کا تشدد ...

لاہور(عامر بٹ سے)رابطوں کا فقدان، نامناسب ٹریننگ اور ناقص پبلک ڈیلنگ،پنجاب لینڈ ریکارڑ اتھارٹی کے زیر انتظام پنجاب کے 36اضلاع کی 143تحصیلوں میں قائم کمپیو ٹرائزڈ اراضی ریکارڈز سنٹرز سٹاف پر وکلاء،شہریوں اور سیاسی لوگوں کے تشدد نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ، آئے روز کی مارپیٹ اور حکومت کی جانب کسی قسم کی سکیورٹی مہیا نہ کرنے کو پی سی ایس کے ذریعے امتحان پاس کرکے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ زاور سروس سنٹر انچارجز نے اپنی بے عزتی قرار دے دیا ،رواں سال پنجاب کے مختلف اضلاع میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تشدد کے متعدد واقعات کے بعدبھی حکومت ایف آئی آر اور معمولی کارروائیوں سے آگے نہ بڑھ سکی ،تشدد کا ذمہ دار کون "اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف یا سائلین" تاحال تعین نہ ہو سکا معلومات کے مطابق چند روز پہلے پنجاب لینڈریکارڈ اتھارٹی کے اراضی ریکارڈ سنٹر خانیوال میں ایک سابق ایم پی کی جانب سے بروقت کام نہ کرنے کی بناء پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اور تعینات سٹا ف پر کئے جانے والے تشدد نے ایک طرف جہاں بہت سے سوالوں کو جنم دیاہے تو دوسری طرف حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ان ارباب اختیار کے لئے بھی ایک الارمنگ صورتحال پیدا کر دی ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے پنجاب کے اراضی مالکان کو رشوت کے خاتمے اور منٹوں میں فردات اور انتقالات کی ایک نئی امید دلائی تھی اوراس کو ایک صاف شفاف پراجیکٹ ثابت کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیا تھا لیکن اس پراجیکٹ میں کرپشن ،رشوت وصولی اور ایجنٹ مافیا کی شکایات تو ایک طرف رہ گئیں ہیں اب تو یہ پراجیکٹ لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے تھانوں کی اندراج مقدمات بک کی ذینت بھی بن رہا ہے ،مارکیٹنگ اور لوگوں کو مختلف خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کے سٹاف کو دی جانے والی تربیعت میں ایک اصول پر ہر صورت کاربند رہنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ ''کسٹمر ہمیشہ حق پر ہوتا ہے اگر وہ غلط بھی ہے تو پھر بھی وہ ٹھیک ہے '' اگر اسی اصول کو مد نظر رکھا جائے تو لینڈ ریکارڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم انتظامیہ کی جانب سے پڑھے لکھے اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحان پاس کر کے آنے والے افسران کو دوران تربیعت یہ اصول کیوں نہ سیکھایا گیا ہے اور اگر دوران تربیعت یہ اصول سیکھایا گیا ہے تو غلطی کہاں پر ہے ، اس سے قبل بھی لاہور ،شیخوپورہ،خانیوال،گوجرانوالہ کے علاوہ متعدد اضلا ع میں وکلاء،عام شہریوں اور سیاسی شخصیات کے علاوہ حساس اداروں کے ریٹا ئرڈ ملازمین کی جانب سے اراضی ریکارڈ سنٹرز پر تعینات سٹاف پر تشدد اور مارپیٹ کی شکایات منظر عام پر آئیں تھی جس کے بعد بات معمولی سی ایف آئی آر اس کے بعد صلح پر ختم ہو گئی تھی لیکن لینڈ ریکار ڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم کی انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے کوئی ایسا لائحہ عمل سامنے نہ آسکا ہے جس میں اراضی ریکارڈ سنٹرز میں آئے روز کے جھگڑکوں کے سدباب کے لئے کوئی لائحہ عمل پیش کیا گیا ہو،اراضی ریکارڈ سنٹر میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو یا تو معمولی پڑھے لکھے ہوتے ہیں یا بلکل ہی ان پڑھ ہوتے ہیں اور وہ اپنی مخصوص ثقافت ،رہن سہن اور چودھرات نما سسٹم کو اراضی ریکارڈ سٹاف پر بھی مسلط کرکے کام نکلوانا چاہتے ہیں جہاں پر ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے یا فرق کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں ،اراضی ریکارڈ سنٹر ز پر تعینات سٹاف کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ہم ایک مربوط سسٹم کے تحت چلتے ہیں اور سائلین کو بہتر سے بہترین خدمات فراہم کرتے ہیں لیکن ہماری بہترین خدمات کی بدولت ہمیں درجہ چہارم کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے تو پھر دکھ ہو تا ہے ہم اپنے آپ کو اگلے شخص کی سطح پر رکھ کر بات کرتے ہیں اور اس کو ڈیل کرتے ہیں ،اس کا مسئلہ معلوم کرتے ہیں اور اس مسئلے کا حل جلد سے جلد فراہم کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ ا س جلدی میں ہوتے ہیں کہ ان کا ہر جائز اور ناجائز کام کر دیا جائے ،جب ہماری جانب سے اس کام کو سے انکار ہوتا ہے یا ہم جائز کام کو کرنے کے لئے اپنی باری کے انتظار کا کہتے ہیں تو لوگ مشتعل ہو کر مار پیٹ پر آجاتے ہیں ،ہمیں اپنی انتظامیہ اور حکومت پر دکھ ہے جنہوں نے اس پراجیکٹ پر اربوں روپے تو لگا دیئے لیکن ہماری عزت اور سیکیورٹی کے لئے ایک ہزار بھی مختص نہ کیا ہے ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب کی 143تحصیلوں میں قائم کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات سٹاف کو باقاعدہ پبلک ڈیلنگ کی تربیعت دی جاتی ہے ،ملازمین کی سکیورٹی اور عزت نفس کے لئے جلد ہی لائحہ عمل وضح کر دیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...