وہ ناراض کیوں ہوئی؟پراسرار کہانی

وہ ناراض کیوں ہوئی؟پراسرار کہانی
وہ ناراض کیوں ہوئی؟پراسرار کہانی

  


تحریر:محمد وقاص

ہماری ہمسفر دوسری مخلوق جس کو ہم جنّ کے نام سے جانتے ہیں الہامی کتابوں کے علاوہ دیگر کتب میں بھی اکثر لوگوں نے ان کے بارے میں پڑھ یا سن رکھا ہوگا۔ لیکن انسانوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات کی بابت باتیں ہمیں اچنبے میں ڈال دیتی ہیں۔ اسی حوالے سے ایک حقیقی واقعہ تحریر کرنے سے قبل میں اپنی تشویش کے حوالے سے لکھنا چاہوں گا کہ تشویش مجھے اس بات پر ہوئی آخر آج کل اس مخلوق سے ہمارے تعلقات کیونکر منقطع ہیں؟کیا اس میں ہمارے بے کار کی مصروفیت حائل ہے یا پھر خالق کی دیگر مخلوقات سے ہمارا ازلی تعلق کمزور پڑ گیا ہے؟

یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن پہلے ہمیں اپنے محسن کا وہ واقعہ پڑھ لینا چاہئے جو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا ’’ ہم لوگ پشتو ں سے ہی سنگھاڑوں کا کاروبار کرتے چلے آرہے ہیں یہ آج سے کوئی پچاس سال پہلے کا واقعہ ہے جب میں سنگھاڑوں کی رکھوالی کے لیے رات کو گاؤں سے باہر ہمارے کھیتوں میں سو یا کرتا تھا۔ اسی دوران ایک دفعہ میں نے رات کی پچھلی پہر سنا جیسے کوئی مجھے آوازیں دے رہا ہے لیکن میں نے اس کو اپنا وہم سمجھ کر ذہن سے جھٹک دیا۔ پر وہ آوازیں تو اتر سے مجھے سنائی دیتی ہیں۔ میرے دل میں عجیب عجیب سے وسوسے آنے لگے کیونکہ باہر والی چیزیوں(جنوں) کے بارے میں میں نے کافی کچھ سن رکھا تھا۔ دسمبر کی سرد ی ہونے کے باوجود مجھے پسینہ آنے لگا تھا۔ ایک بات جو مجھے جھونپڑی سے باہر نکلنے پر مجبور کر رہی تھی وہ میرا نام تھا۔ چونکہ صد ا دینے والا مجھے میرے نام سے پکار رہا تھا اس لیے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی جاننے والا مجھے بلا رہا ہے۔ لیکن رات کے اس پچھلے پہر نے میری حالت اس بے بس مسافر جیسی کر دی تھی جس کو گھنے جنگلوں میں خونخوار جانوروں نے گھیر رکھا ہو۔

آخر کار میں نے ہمت کرکے باہر جا کر اصل صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، پر موت کے خوف سے میری ٹانگیں کپکپا رہی تھیں۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے انگھیٹی پر پڑی دیا سلائی کو ٹٹول ٹٹول کر تلاش کرنا چاہا مگر جھونپڑی میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ انگیٹھی سے نیچے گر گئی۔ اب میرے اوپر قیامت اس وقت ٹوٹی جب میں دیا سلائی کی تلاش کرتے ہوئے نیچے بکھرے ہوئے برتنوں کو جلدی جلدی سے ادھر ادھر ہٹا رہا تھا کہ ایک دفعہ پھر کسی نے طفیل کی اس قدر لمبی صدا دی جیسے ماں بچے کو چوری چھپے کام کرتے ہوئے دیکھ کر مدہم سی آواز میں اس کے نام سے پکار کر اسے مخاطب کرتی ہے ۔اس سریلی آواز اور برتنوں کی خرخراہٹ سے ایک عجیب سا ترنم بن گیا۔ میں ٹھٹھر کر رہ گیا۔ میرے دل کی دھڑکن اس قدر بڑھ گئی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہیں اس خوف سے میرا دل نہ پھٹ جائے۔

تاہم میں نے اپنے خوف پر قابو پانے کی خاطر وہ ساری سورتیں پڑھ ڈالیں جو یاد تھیں، اس سے کچھ آفاقہ تو ہوا لیکن تب تک میں پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ ایک دفعہ پھر میں نے کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ایک جھٹکے سے جونپڑی کا پردہ ہٹ دیا تو سامنے ایک مسکراتی ہوئی عورت کھڑی تھی لیکن جیسے ہی میں نے کن اکھیوں سے اس کا جائزہ لیا تو میری آنکھوں میں خون اترتا ہوا محسوس ہوا کیونکہ وہ عورت نہیں بلکہ جننی تھی اور اس کے پورے جسم پر بال ہی بال تھے۔

گو کہ اب مجھے اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں لیکن مجھے یہ بات سوچ کر حوصلہ ہو رہا تھا کہ میں مرد ہوں اور میرا مد مقابل عورت ہے جو ایک صنف نازک ہے ۔میری ہمت اس وقت اور بڑھ گئی جب اس نے میرا حال چال پوچھا۔ اگرچہ خوف کی وجہ سے میرا کلیجہ منہ کو آرہا تھا لیکن اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ سے میرے حواس تھوڑے قائم ہونے لگے تھے اس لیے میں نے اپنی خیریت کا اظہار کیا اور خاموش کھڑا رہا۔

پھر اچانک سے اس نے بولنا شروع کر دیا اور مجھے بتانے لگی’’طفیل میں ہر روز تمہیں دیکھتی تھی لیکن تم سے بات کرنے سے ہمیشہ ہچکچاتی رہی بس پھر آج میں نے فیصلہ کیا کہ تم سے بات کرکے ہی رہوں گی‘‘

پھر وہ رک گئی اور تھوری دیر کے لیے سناٹا چھا گیا جسے چمگادڑوں کی آوازوں نے توڑ ڈالا۔ اس نے مجھ سے اگلا سوال کیا ’’ آج تم نے کیا کھایا ہے؟‘‘

میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر ڈرتے ڈرتے پوچھا’’ کیوں؟‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ چلی گئی ہے لیکن جب میں نے اوپر چہرہ اٹھا کر دیکھا تو وہ وہیں پر موجود تھی مگر اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے ناراضگی کے آثار صاف دیکھائی دے رہے تھے۔ میں نے اپنی نظریں نیچے کر لیں اور اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے اپنا سوال ایک دفعہ پھر دہرایا۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا ’’ کچا دودھ پیا تھا۔‘‘

ابھی میری بات مکمل بھی ہونے نہ پائی تھی کہ اس نے کہا ’’ مجھے کچا دودھ اور گوشت پسند نہیں ہیں اس لیے مجھے آج تم سے بو آرہی ہے‘‘

مجھے تھوڑی دیر کے لیے یوں لگا جیسے وہ میری کوئی بہت ہی قریبی ساتھی ہو۔ جو میرے سامنے اپنی پسند اور نہ پسند کا اظہار کر رہی ہو تاکہ آئندہ میں اس کی پسند کے خلاف کوئی کام کرکے اس کی دل آزاری نہ کروں۔

میں نے اثبات میں سر ہلا کر آئندہ ایسی چیزوں کے استعمال سے گریز کی ضمانت دی۔ پھر میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی نگاہیں اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنا چاہا تاکہ اب کی بار اس کے خوفزدہ چہرے کا جائزہ لے سکوں۔ لیکن میری خوش قسمتی کہ تب تک وہ جا چکی تھی ۔ میں کافی دیر تک پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا رہا پھر میں اپنی جھونپڑی میں واپس چلا گیا۔ باقی رات میں نے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے چارپائی پر گزار دی۔ یہاں تک کے صبح کی پو پھوٹنے لگی تھی۔ فجر کی آواز سنتے ہی میں سیدھا مسجد میں گیا اورنماز ادا کی ۔ پھر کافی دیر تک بیٹھے بیٹھے اس حوالے سے سوچتا رہا ۔بالآخر میں نے آئندہ ایسی چیزیں کھانا ترک کردیں جن سے جنات کو بھی انسانوں سے بو آنے لگتی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحاریر لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : مافوق الفطرت


loading...