”جوگر،جینزاور روحانیت“

”جوگر،جینزاور روحانیت“
”جوگر،جینزاور روحانیت“

  


سید بلال قطب

روحانیت کیا ہے،کیوں لوگ روحانی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کا مقرب ہونے کے لئے کیا روحانی بیداری لازم ہے۔چلیں اس پر کچھ بات کرتے ہیں ۔

تین طریقے ایسے ہیں جن سے اس دنیا کے تمام مذہبی اور غیر مذہبی لوگ روحانیت کی جہت سمجھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، محنت میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلا طریقہ ہے جسمانی طور پہ محنت کرنا یعنی آپ چلہ کاٹیں، وظیفہ پڑھیں، آپ مجاہدہ کرکے خود کو کوئی تکلیف دیں کہ جس سے آپ کی اللہ کی طرف توجہ ہو۔ آپ پانی میں کھڑے ہو کے چلہ کاٹیں،آپ جاگ کر ، کھڑے ہوکر ایک ٹانگ پہ عبادت کریں ساری رات، منت مان لیں کوئی اس طرح کی، یہ bodily effect ہے اور ہمارے ہاں بھی یہ چیزیں کہیں نہ کہیں رائج ہیں۔ پھر دوسری چیز ہے کہ انسان spiritually یعنی روحانی طور پہ روح کے لیے ہے ۔ یہ spiritکا لفظ بھی تھوڑا سا غلط ہے کیونکہ میرا اپنا خیال ہے کہ spiritکا لفظ ہم نے بنیادی طور پہChristianity سے لیا ہے کیونکہ وہاں پہspirit کا جو تصور ہے وہ خدا سے لیا جاتا ہے یعنی :

The Holy Spirit, the Father and the Ghost

اور تیسری چیزجو روحانیت ہے اس کا ادراک صرف مسلمانوں کے پاس ہو سکتا ہے اور اگر آپ ایک اچھے مسلمان نہیں تو آپ خدا کی تلاش محنت سے کریں گے یا آپ spirituality سے کریں گے جس کو ہم mystic یا mysticism کا نام دیتے ہیں۔اس پہ دو جملے اور عرض کروں گاکہ اللہ نے اس ضمن میں صرف دو جملے قرآن میں کہے جو میرے خیال میں پہلی دونوں چیزوں کو شدت سے رد کر دیتے ہیں۔ ایک تو خدا نے بہت ہی اہتمام سے آپ کو بر ا بھلا کہااور وہ برابھلا کیسے کہا اللہ نے؟ اب دیکھو کہ خدا کس طرح برا بھلا کہہ سکتا ہے، کتنا بر ا بھلا کہے گا، اُس نے فرمایا کہ” تم اندھے بھی ہو، تم بیل ہو، کیوں کہا اندھا اور بیل؟ چوپایہ کہا ناں آپ کو، دو ٹانگوں پہ کھڑا ہوا نہیں کہا۔ آپ کوآپ کی حیثیت سے گرا دیا کیوں گرا دیا؟ اس لیے گرا دیاتھا کیوں کہ آپ بغیر سوچے سمجھے ایمان لے آتے ہیں اور ہمیں کیا سکھایا گیا کہ ایمان ہے ہی وہ حالت جس میںآپ اپنی عقل کا استعمال نہ کریں۔ پھر دوسری طرف ذرا اس جملے کو پہلے جملے کے ساتھ ملا کے دیکھئے کہ خدا تعالی کے پاس یہ option تھی کہ اللہ تعالی آپ کو کہہ دیتے کہ جو دوپٹہ بہت زیادہ کھول کے لے گا، وہ افضل ہو گا، جو دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے گا، وہ افضل ہو گا، جو عمرے بہت زیادہ کرے گا وہ افضل ہو گا جو حج کرے گا وہ افضل یا جس کے ماتھے پہ محراب بن جائے گاوہ افضل ہو گا۔ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، اللہ کہہ تو سکتا تھا،وہ کوئی بھی فیصلہ کر سکتا تھا۔ خدا نے کیا کہا؟ اللہ نے کہا کہ ہر علم والے پر ایک علم والا ہے۔ اب جب خدا کی statement آجاتی ہے ناں خواتین و حضرات! توباقی تمام معاملات پر پھر کاٹا (X) پھر جاتا ہے اور وہ null and void ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے ہاںculture of religion ہی important نہ رہا بلکہ اللہ کے ہاں جو چیز important ہوئی، وہ صرف ایک ہی ٹھہری، علم۔ اسی لیے جو پہلا لفظ کہا گیا رسول پاک ﷺ کووہ ©”اقرائ“ کہا گیا یعنی ”پڑھو“، اب یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کو کہا جائے کہ پڑھو! توآپ پڑھ لیتے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں پڑھتا۔ غور طلب بات ہے کہ آپﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں نہیں پڑھوں گا بلکہ یہ کہا کہ میں نہیں پڑھتا۔ یہ ترجمہ جو ہے ناں یہ ابوبکر سراج نے The Life of Muhammad from the Regional Source میں کیا۔ اُس نے کہا کہ یہ اس طرح مت کہا کروکہ میں نہیں پڑھا ہوا بلکہ اس جملے کو یوں translate کیا کرو کہ میں نہیں پڑھتا۔ یہ ضد کا جملہ ہے۔ پھر دیکھئے ناں کہ حضور پاک ﷺ بھی تو اُستاد محترم ہیں ناں اِس اُمت کے، اگر آپﷺ کہہ دیتے اس جملے پہ کہ میں پڑھتا ہوں تو آج ہم اس مجلس میں کہہ سکتے تھے کہ رسولﷺ کا اُستاد جبرائیلؑ تھا۔ حضرت جبرائیلؑ آپﷺ کے استاد ٹھہرے جب تک جبرائیلؑ نے یہ نہیں کہا کہ اے محمدﷺ! تو اللہ کے نام پہ پڑھ۔ رسولﷺ نے کہا کہ ہاں!اب میں پڑھتا ہوں۔ پھر سینے سے علم transfer ہوا۔ اب ایک استاد کا جو استاد ٹھہرا،وہ رب العالمین خودتھا۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے علم کی غیرت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ ہم لوگ اپنے ایمان کی درستی کے لیے بھی دوسروں کا سہارا چاہتے ہیںکہ کوئی ہماری روحانیت کو بڑھا دے۔ اگر کوئی روحانیت کو بڑھائے گا تو ہم کیا ایل پی آر پہ ہیں، کیا ہم نے ریٹائرمنٹ لے رکھی ہے! میںنے کیا کرنا ہے میں توہوں ہی کند ذہن ، مجھے تو عقل ہی نہیں ہے، تو اُس دن سجدے میں گر جاﺅاور اﷲ کا شکر ادا کرو جس دن تمھیں پتا چلے کہ تم میں عقل نہیں ہے۔ کیونکہ سوئے ہوئے پہ اورمجنون پہ اﷲکا قلم نہیں چلتا۔ تم تو بغیر حساب جنت میں جانے والے ہو۔

یہ ہماری بے عقلی کی حد ہے کہ ہم کہیں کہ مجھ میں تو کوئی عقل ہے ہی نہیں، کوئی باہر سے آئے اور مجھے علم دے، عقل دے۔ ہم جو بیعت کرتے ہیںچاہے کوئی پیر صاحب ہوں یا مفتی صاحب اور ہماری حالت اور نقش بدلتے ہیںاس کی وجہ سے ہمارا صرف لباس ہی رہ گیا ہے مسلمانوں والا ۔

حافظ آباد میں ایک بہت بڑے مفتی صاحب سے بات ہو رہی تھی اور میں بھی وہاں بیٹھا ہواتھا۔ میں نے جوگرز اور جینز پہنی ہوئی تھی۔ انھوںنے مجھ پہ طنز کیا اورایک سفید لباس والے شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ” یہ ہیں رسولﷺ کے سپاہی “ یہ ان جیسے لوگوں کا وتیرہ ہے۔سوٹ بوٹ،جنیز میں انہیں عشق خدا اور عشق رسول والے کلین شیو دکھائی نہیں دیتے۔حالانکہ عشاق کا ایک بڑا طبقہ اس لباس میں اللہ ھوالصمد،اللہ ھو الرحیم کا ذکرکرتا ہے۔

جب میرا وقت آیا بات کرنے کا تو میں نے کہا کہ بھائی مجھے نہیں پتا تھا کہ رسول اکرمﷺ 1970ءکے عشرے میں آئے ہیں کیونکہ یہ لباس تو بھٹو لے کر آیا تھا اور بھٹو کے لائے ہوئے لباس کو اگر ہم رسولﷺ کا لباس سمجھنے لگے تو ہمارے علم میں بہت بڑا نقص رہ گیاہے۔ اس لیے اگر ہم لوگ اپنے ایمان کی درستی کے لیے دوسروں کا سہارا چاہیں گے کہ کوئی ہماری روحانیت کو بڑھا دے،علم کو طول دے،ہماری عقل کو زیادہ کر دے تو اس طرح لوگوں سے بھیک لینا پڑے گی۔ اس سے ایک ادارہ بنے گا public training جس میں پڑھائی کر کے ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم نہیں ہیں۔ اب ادارہ بنانے والا تو امیر ہو گیا، آپ نے اپنی عقل استعمال کر کے اس سے کیا حاصل کیا ؟

اگر اس چیز کی طلب ہے کہ اﷲ کے دین کو سمجھنا ہے اور اﷲ کو پانا ہے تو اس پانی میں کود جاﺅ، آپ لوگوں سے کہتے ہو کہ تیرنا سکھا دیں پھر پانی میں کودوںگا! اﷲ نے دوinstitutions بنا د ےے ۔ان میں سے ایک دعا ہے۔آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے اﷲ! مجھے دین و دنیا دونوں کے علوم عطا فرما۔ یہی دین، دنیا سکھاتا ہے اور دنیا، دین سکھاتی ہے۔ہمارے گزرے ہوئے مفکروں اور سائنس دانوں میں کوئی بھی عالم دین نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے عروج اور آخری زمانہ میں اسلام کو سمجھا۔ چاہے ابن رشد ہوں یا غزالی یہ سب سائنس دان تھے اور سب نے دنیا کے علوم سے دین کو سیکھااور سمجھا ہے۔

( سید بلال قطب ممتاز ترین دینی روحانی سکالر کی حیثیت میں نوجوانوں کو الجھنوں اور گمراہی سے بچارہے اور ان میں اللہ و رسولﷺ سے محبت کا سلیقہ اور شعوربیدار کررہے ہیں ۔ٹی وی چینلز پر انکے پروگراموں اور تعلیمی و پیشہ وارانہ اداروں میں انکے لیکچرز کی وجہ سے لوگوں میں قرآن فہمی کا جذبہ عود آیا ہے۔ایک دنیا انکی گرویدہ ہے۔انکے لیکچرز پر مبنی دو کتابیں ” بنام خدا“ اور ”بنام محمدﷺ“ دور حاضر کی مقبول کتابیں ہیں ۔ انکی ویب سائٹ http://www.bilalqutab.com/ اور فیس بک

https://www.facebook.com/syed.bilal.qutab/ پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے)

مزید : بلاگ


loading...