’میں بھولا نہیں۔۔۔‘ سکول میں تنگ کرنے والے بچوں کو 40 سال بعد آدمی نے ایسا شرمناک تحفہ بھیج دیا کہ جس نے کھولا بچپن کی غلطی پر پچھتانے پر مجبور ہوگیا

’میں بھولا نہیں۔۔۔‘ سکول میں تنگ کرنے والے بچوں کو 40 سال بعد آدمی نے ایسا ...
’میں بھولا نہیں۔۔۔‘ سکول میں تنگ کرنے والے بچوں کو 40 سال بعد آدمی نے ایسا شرمناک تحفہ بھیج دیا کہ جس نے کھولا بچپن کی غلطی پر پچھتانے پر مجبور ہوگیا

  


ٹوکیو (نیوز ڈیسک)سکول کے زمانے کے وہ شریر اور بدمزاج بچے آپ کو ضرور یاد ہوں گے جو اپنے کمزور ساتھیوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بلکہ ان بیچاروں کا جینا حرام کردیتے ہیں۔ ایسے بگڑے ہوئے بچے ہر سکول میں پائے جاتے ہیں اور ان کی بدسلوکی کا نشانہ بننے والے اکثر بچے بدلے کی آگ دل میں چھپائے اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔ جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک کمسن طالبعلم کو بھی سکول کے دور میں کچھ ایسی ہی افسوسناک صورتحال کا سامنا رہا۔ آج سے 30 سال قبل وہ ایک ایلیمنٹری سکول کا طالبعلم تھا تو اس کے چار ساتھی اسے چھیڑ خانی، تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بناتے تھے۔ بیچارہ طالبعلم اپنے شیطان صفت ساتھیوں کی وجہ سے ہمیشہ تنگ رہا۔ بچپن میں تو وہ کبھی ان کے خلاف کچھ کرنے کی ہمت نہ کرسکا، لیکن جب 40 سال کی عمر کو پہنچ گیا تو بالآخر بچپن کا حساب چکانے کا فیصلہ کیا۔

وہ آدمی جس نے خود اپنے ہاتھوں سے جیتی جاگتی اپنے خوابوں کی دلہن ’بنا ‘ ڈالی، یہ کوئی گڑیا نہیں بلکہ۔۔۔

ویب سائٹ WWWNکی رپورٹ کے مطابق جاپانی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے چار افراد سے ان کے سکول کے ساتھی نے عبرتناک بدلا لیا۔ ان چاروں نے پولیس کو شکایت کی کہ انہیں گلی سڑی اشیاءسے بھرے ہوئے سینکڑوں ڈبے موصول ہوئے ہیں۔ چاروں افراد کو مجموعی طور پر 500 سے زائد ڈبے موصول ہوئے تھے، جن میں گلی سڑی اشیاءخواتین کے زیر جاموں میں لپیٹ کر پیک کی گئی تھیں۔ یہ بدبودار ڈاک موصول ہونے پر چاروں اتنے پریشان ہوئے کہ پولیس سے رابطہ کرلیا۔

جب پولیس نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ چاروں کو غلیظ ڈاک ایک ہی شخص کی جانب سے بھیجی گئی تھی۔ اس شخص کا سراغ لگاکر تحقیقات کے لئے اسے تحویل میں لے لیا گیا۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس نے 30 سال قبل اپنے ساتھ سکول میں ہونے والی بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لئے اپنے چاروں سابقہ کلاس فیلوز کو غلاظت سے بھرے سینکڑوں ڈبے بھیجے تھے۔

’اوئے کچھ کر گزر‘ پاکستان کی پہلی آن لائن فلم

اس کا کہنا تھا کہ وہ بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو کبھی بھی بھلا نہیں سکا تھا۔ تین دہائیوں تک بدلے کی آگ میں سلگنے کے بعد بالآخر اس نے اپنے سابقہ کلاس فیلوز سے نفرت کا اظہار کرنے کے لئے انہیں سینکڑوں ڈبوں پر مشتمل غلیظ ڈاک بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس حرکت پر اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن وہ مطمئن ہے کہ بالآخر اس نے اپنی نفرت کا اظہار بھرپور ترین انداز میں کردیا ہے اور اب اس کا ذہن مطمئن ہوگیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...