’کوڑے سے ملی یہ چیز میں تو2ہزار کی بیچ رہا تھا لیکن دراصل کروڑوں کی نکلی‘ آدمی کی ایک ایسی بظاہر بے کار سی چیز کروڑوں کی بک گئی کہ جان کر آپ بھی کہیں گے قسمت ہو تو ایسی

’کوڑے سے ملی یہ چیز میں تو2ہزار کی بیچ رہا تھا لیکن دراصل کروڑوں کی نکلی‘ ...
’کوڑے سے ملی یہ چیز میں تو2ہزار کی بیچ رہا تھا لیکن دراصل کروڑوں کی نکلی‘ آدمی کی ایک ایسی بظاہر بے کار سی چیز کروڑوں کی بک گئی کہ جان کر آپ بھی کہیں گے قسمت ہو تو ایسی

  


لندن (نیوز ڈیسک) قسمت مہربان ہوجائے تو مٹی کو سونا بنتے دیر نہیں لگتی۔ مقدر نے کچھ ایسا ہی عجب کھیل برطانیہ کے ایک کباڑیے کے ساتھ بھی کھیلا، جسے پرانے سامان سے ملنے والا بظاہر بے وقعت ہار پورے سوا لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 2کروڑ پاکستانی روپے) میں بک گیا۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق سرے شہر سے تعلق رکھنے والا کباڑیا خالی ہونے والے گھروں سے بچا کھچا سامان خریدنے کا کاروبار کرتا تھا۔ حال ہی میں اس نے ایک گھر سے پرانا سامان اٹھایا تو اس میں سے ایک پرانا ہار برآمد ہوا۔ کباڑیے کا خیال تھا کہ یہ چند پاﺅنڈ میں فروخت ہوجائے گا۔ وہ اسے بیچنے کے لئے ایک قریبی بازار میں گیا لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے سڑک پار کی اور نوادرات کی نیلامی کرنے والے ماہرین کے پاس چلا گیا۔

حضرت عیسیٰؑ کے زمانے کی 2ہزار سال پرانی کتاب دریافت، اس میں اُن کے بارے میں کیا تفصیلات درج ہیں؟ دیکھ کر سائنسدانوں کے منہ بھی کھلے کے کھلے رہ گئے

کباڑیے کے پاس موجود ہار کو سب سے پہلے کرس ایوبینک نیلام گھر کے ایک ماہر نے دیکھا اور اس پر نظر پڑتے ہی بتادیا کہ یہ کوئی عام چیز نہیں۔ مزید ماہرین نے اسے دیکھ کر بتایا کہ یہ 18ویں صدی کے زمانے سے تعلق رکھنے والا نادر ہار ہے جسے جنوبی بحرالکاہل کے جزائر پر بسنے والی امیر کبیر خواتین پہنا کرتی تھیں۔ اسے ’افزائش نسل کی مالا‘ کا نام بھی دیا جاتا تھا کیونکہ جنوبی بحرالکاہل کے جزائر پر بسنے والے قدیم لوگوں کا ماننا تھا کہ اسے پہننے والی خواتین کی اولاد کی مراد پوری ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہار بحرالکاہل میں پائی جانے والی سپرم وہیل کی ہڈیوں سے بنایا گیا ہے۔

’اوئے کچھ کر گزر‘ پاکستان کی پہلی آن لائن فلم

ایوبینک نیلام گھر میں جب اس ہار کی نیلامی شرو ع ہوئی تو اس کی قیمت تیزی سے بڑھتی گئی اور بالآخر یہ سوا لاکھ پاﺅنڈ میں فروخت ہوا۔ خوش قسمت کباڑے کا کہنا تھا کہ وہ اسے مقامی بازار میں 15 پاﺅنڈ (تقریباً 2 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت کرنے والا تھا، لیکن قسمت نے زور مارا اور عین آخری لمحے وہ اسے بیچنے کا خیال ترک کرکے قدیم نوادرات کے ماہرین کے پاس لے گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...