آسٹریلیا میں مقیم 15 سالہ پاکستانی لڑکی اپنے والدین کے خلاف مقدمہ جیت گئی، والدین نے ایسا کیا کردیا کہ عدالت جاپہنچی؟ جان کر پاکستانی والدین کو راتوں کو نیند نہ آئے

آسٹریلیا میں مقیم 15 سالہ پاکستانی لڑکی اپنے والدین کے خلاف مقدمہ جیت گئی، ...
آسٹریلیا میں مقیم 15 سالہ پاکستانی لڑکی اپنے والدین کے خلاف مقدمہ جیت گئی، والدین نے ایسا کیا کردیا کہ عدالت جاپہنچی؟ جان کر پاکستانی والدین کو راتوں کو نیند نہ آئے

  


سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں قبیح سماجی روایات اس قدر مضبوط ہوچکی ہیں کہ لوگ ان کے اسیر بن کر قانون اور مذہب کے احکامات کی خلاف ورزی پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں مکروہ روایات کی پابندی کرنے والے بیرون ملک جاکر بھی انہی روایات پر کاربند رہتے ہیں اور یوں اپنی رسوائی کا سامان بھی کرلیتے ہیں۔ آسٹریلیا میں مقیم وہ پاکستانی والدین بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں کہ جنہوں نے اپنی 15 سالہ بیٹی کو پاکستان لا کر زبردستی بیاہ ڈالا، لیکن ظلم کا نشانہ بننے والی لڑکی نے بھی ایسا قدم اٹھالیا ہے کہ جس کی مثال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

آدمی 57 لاکھ روپے کی پراڈو گاڑی خریدنے شوروم پہنچ گیا لیکن جب پیسے دینے کی باری آئی تو ایسی چیز نکال لی کہ ملازمین کے پیروں تلے زمین نکل گئی، اسلحہ نہ تھا بلکہ۔۔۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق زبردستی بیاہی گئی عائشہ نامی لڑکی نے قانونی مدد فراہم کرنے والے ادارے لیگل ایڈ کی مدد سے آسٹریلیا پہنچ کر اپنے ہی والدین کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ لڑکی کا مﺅقف تھا کہ اس کی والدہ اسے دھوکے سے پاکستان لے گئی، شادی کرنے کے لئے اس پر دباﺅ ڈالا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا، لہٰذا وہ ایسے ظالموں کو اپنے والدین تسلیم نہیں کرتی۔لڑکی کا کہنا تھا کہ والدہ اس کا پاسپورٹ لے کر واپس آسٹریلیا فرار ہوگئی تھی۔ تنہا اور بے بس ہونے کے باوجود اس نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانونی مدد فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کیا اور دوبارہ آسٹریلیا پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نے آسٹریلیا پہنچتے ہی عدالت سے رجوع کرلیا اور والدین سے ہمیشہ کے لئے اپنا تعلق توڑنے کے لئے درخواست دائر کردی۔

آسٹریلوی سپریم کورٹ میں پہنچنے والے اس مقدمے نے ملک میں ہلچل برپا کردی ہے۔ لڑکی کی حفاظت کے لئے اسے سرکاری ادارے کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ اس کیس نے متعلقہ سرکاری محکموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خاندانی و معاشرتی خدمات کے وزیر بریڈ ہیزرٹنے نوعمر لڑکی کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا ”اس لڑکی کا حوصلہ ایک روشن مثال ہے اور دیگر بچوں کے لئے راہنمائی ہے کہ کس طرح وہ جبری شادی کی مکروہ روایت کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں۔“

’اوئے کچھ کر گزر‘ پاکستان کی پہلی آن لائن فلم

اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ ایک نوعمر لڑکی کو جبری شادی کے چنگل سے نکلنے کے لئے اس قدر مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر اسے عدالت پہنچ کر اپنے والدین کو دھتکارنے کے لئے درخواست دائر کرنا پڑی۔ اس واقعے کے بعد آسٹریلوی وفاقی پولیس، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ پروٹیکشن ایجنسیاں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کررہی ہیں تاکہ ایسا لائحہ عمل مرتب دیا جائے کہ آئندہ کسی بچے کو اس عذاب سے نہ گزرنا پڑے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...