سی ایم ایچ میں5 جن زادیوں کا خاتمہ

سی ایم ایچ میں5 جن زادیوں کا خاتمہ
سی ایم ایچ میں5 جن زادیوں کا خاتمہ

  


پیر ابونعمان سیفی

وہ5 قسم کی جن زادیاں تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں جنات کا ہماری دنیا اور لوگوں سے اور ہمارے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے،  میں یہ کیس آپ کو سنا رہا ہوں خود اندازہ کر لیں کہ اگر جنات بھی سگریٹ پیتے ہوں تو ان کے سماجی و تہذیبی معاملات کیسے ہوتے ہیں؟ انکی عادات کیسی ہوں گی؟ وہ انسانوں سے مختلف ہونے کے باوجودانسانوں کے ساتھ کتنے مانوس ہوچکے ہیں کہ ان کی عادتیں اپنانے لگتے ہیں۔کسی زمانے میں یہ ہوگا مگر اب میں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے کہ جنات صرف ہڈیوں پر اکتفا نہیں کرتے،وہ بڑے ندیدے ہوگئے ہیں اور انسانوں کی غذاوں کو رغبت سے کھاتے ہیں لیکن اس وقت جب یہ انسانی روپ میں ظاہر ہوجائیں۔

راﺅ بہادر جن کا میں علاج کر چکا تھا،  ان کے ایک ساتھی بشیر احمد بھی شیطانی مخلوق کے نرغے میں پھنس گئے تھے اور وہ کئی مہینوں سے بیہوش تھے۔ گنمبر چھاﺅنی میں سی ایم ایچ ہسپتال میں علاج کرایا گیا مگر انہیں ہوش نہیں آیا ،  وہ پاکستان ملٹری فارم میں ملازم تھے اور دودھ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ انہیں ڈیڑھ مہینہ تک نشتر ہسپتال میں بھی رکھا گیااور  اس کے بعد اوکاڑہ سی ایم ایچ میں لایا گیا ، ڈاکٹرز  ان کے مرض کو جاننے سے عاجز تھے۔ اوکاڑہ میں ہمارے جاننے والوں نے انہیں اس خاکسار کا پتہ دیا تو وہ میرے پاس آ گئے۔ اس زمانے میں ابھی میں بیعت نہیں کرتا تھا، میں نے کیس سنااورچار شاگرد ساتھ لئے تاکہ وہ میری ہدایت پر پڑھائی کر سکیں۔بعض کیس ایسے ہوتے ہیں جن میں آیات مبارکہ کی پڑھائی کرانی پڑتی ہے تاکہ شیطانی مخلوق کے شر سے محفوظ رہا جاسکے اور مریض کی جان کو بھی خطرہ لاحق نہ ہو ،  میں نے جب بشیر احمد کی حالت دیکھی تو اپنے مرشد کے صدقے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ سخت پکڑ میں ہیں۔

میں نے حاضری کرائی تو بشیر احمد کے اندر پانچ عورتیں حاضر ہو گئیں ،  وہ نسوانی آواز میں سگریٹ مانگنے لگیں۔ ان کی ڈیمانڈ اورآواز سن کر اردگرد وارڈز میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ، بشیر احمد کے معالج ڈاکٹر فقیر حسین گیلانی حیران و پریشان تھے، انہوں نے آ کر پوچھا ”پیر صاحب یہ کیا ماجرا ہے؟“

میں نے عرض کیا ”ڈاکٹر صاحب ، بشیر احمد کو کوئی جسمانی عارضہ نہیں ہے،  اسے پانچ جناتی عورتوں نے قابو کر رکھا ہے اور آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بشیر احمد کے اندر سے بول رہی ہیں اور بیک وقت پانچ سگریٹ پی رہی ہیں۔کیا کوئی انسان بیک وقت اتنے لہجوں میں بول سکتا اور بیک وقت پانچ انگلیوں میں سگریٹ دبا کر کش لگا سکتا ہے؟  ڈاکٹر فقیر حسین گیلانی آنکھوں دیکھی حقیقت کو کیسے جھٹلا سکتے تھے۔

میں نے ان جنات عورتوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا اور کہا سب سے پہلے میں تم سے واپس جانے کی درخواست کروں گا،  اس کی جان چھوڑ دو اور چلی جاﺅ“۔ جن زادیوں نے کہا”ہم ان کی جان چھوڑ دیتی ہیں مگر اس کو سزا دیکر ہی جائیں گی“۔

ناں بھئی ایسا نہ کرنا، ویسے تم کیوں سزا دینا چاہتی ہو ، اس نے کیا جرم کیا ہے؟“ میں نے نفی اثبات کرتے ہوئے لمحہ بھر کیلئے رک کر سوال کیا۔

”بھینسوں کے جس باڑے میں ہمارا خاندان آباد ہے۔ وہاں گندگی بہت پھیلاتے ہیں یہ لوگ ، اس روز ہمارے گھر میں شادی ہو رہی تھی اور شادی کے کھانے کا بہت اچھا انتظام کیا ہوا تھا مگر اس بدبخت انسان نے ہمارے کھانے میں گوبر لا پھینکا تھا،  ہمیں بہت زیادہ شرمندگی ہوئی،  سارا کھانا خراب ہو گیا اور سارے مہمانوں کو کھانا نہیں ملا،  لہٰذا ہم نے غصے میں آ کر اس کم بخت کو پکڑ لیا“۔

”اچھا اب تو یہ پانچ ماہ سے بیہوش ہے اور کافی سزا بھگت چکا ہے  اسے معاف کر دو  اور چلی جاﺅ“۔

خیر مذاکرات کامیاب ہوئے،  ان میں سے ایک عورت زیادہ زہریلی تھی،  وہ بشیر احمد کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتی رہی لیکن میں نے ذکراور نفی اثبات کی قوت سے اسے نڈھال کر دیا اور پھر وہ جب رخصت ہوئیں تو کچھ دیر بعد بشیر احمد ہوش میں آ گیا۔

سی ایم ایچ اوکاڑہ کا عملہ اس واقعہ کا گواہ ہے۔ ملٹری فارمز میں کئی ایسے واقعات پیش آئے تھے۔ راﺅ بہادر نے ایسی بھینس کا دودھ پی لیا تھا جس پر سایہ تھا۔ سائے والی بھینس کا دودھ پینے والوں پر بھی اثر ہو جاتا ہے،  وہ بھینس اس درخت کے نیچے باندھی جاتی تھی جس پر جنات کی بستی آباد تھی، وہ اس کی گندگی سے تنگ آ کر بھینس میں داخل ہو گئے تھے اور اس کا دودھ زہریلا ہو گیا تھا ، یہ دودھ راو بہادر نے پیا تو اس پر سایہ کے اثرات ہوگئے تھے۔

یہ بات معروف ہے کہ جنات انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں،  وہ اپنی طبع و جبلت اور خاصیت و ماہیت کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں بالخصوص وہ جنات جن کی بستیوں میں انسان خلل پیدا کرتے ہیں، حالانکہ انسان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس کی کسی عام سی حرکت سے جنات وغیرہ ڈسٹرب ہو جاتے ہیں۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے،  اسلامی تعلیمات میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ویران اور مقدس جگہوں پر پیشاب وغیرہ نہیں کرنا چاہئے، کھاتے پیتے ہوئے بسم اللہ شریف پڑھنی چاہئے، دراصل یہ اعمال انسان کی روحانی طور پر حفاظت  کرتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے میں عافیت ہوتی ہے جس طرح ڈاکٹر لوگوں کو حفظان صحت کیلئے ہدایات دیتے ہیں اور انہیں وائرس، جراثیموں سے بچا کر ان کی جسمانی صحت و تندرستی کیلئے ادویات دیتے ہیں، اسی طرح ایک روحانی بندہ بھی انسانوں کو روحانی اور شیطانی بیماریوں سے بچانے کیلئے معالج کی حیثیت رکھتا ہے۔

(پیر ابو نعمان جامعہ جیلانیہ رضویہ حسنین  آباد لاہور کینٹ کے منتظم ہیں ، ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔snch1968@gmail.com)

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت


loading...