ہارٹ آف ایشیا کانفرنس۔۔خطے میں امن کی شمع

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس۔۔خطے میں امن کی شمع
 ہارٹ آف ایشیا کانفرنس۔۔خطے میں امن کی شمع

  


پاکستانی شہر لاہور کے ہمسائے میں بھارتی شہر امرتسر واقع ہے جہاں چالیس ممالک کے وزراءخارجہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے جمع ہیں،ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے نام سے اس اکٹھ میں پاکستان سے شرکت کیلئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی پہنچ چکے ہیں،سنا ہے کہ اس کانفرنس میں خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام،بدامنی ،دہشتگردی کو قابو کرنے کی بھی بات ہوگی،افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کچھ فیصلے بھی متوقع ہیں،یہ کوئی نئی کانفرنس نہیں یا اس کا کوئی نیا ایجنڈا ہوسکتا ہے یہ استنبول عمل کا حصہ ہے جو 2011ءمیں افغانستان میں امن کیلئے شروع کیا گیا تھا ،اس کانفرنس کا گزشتہ دور پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں متعدد ممالک کے وزراءخارجہ نے شرکت کی تھی،بھارت سے سشما سوراج بھی شریک ہوئیں تھیں۔

استنبول عمل کے بعدافغانستان کی حکومت اور برسر پیکار افغان طالبان کے مابین مذاکرات کاسلسلہ شروع ہوا ،چین میں بات ہوئی پھر پاکستان کے شہر مری میں کچھ گلے شکوے سامنے آئے ،گزشتہ برس دس ممالک کے وزراءخارجہ اسلام آباد میں سرجوڑ کر بیٹھے ،ان سب کوششوں کے باوجود بات نہ بن سکی،اب کی بار چونکہ پہلے سے زیادہ ممالک اس میں شریک ہیں،ان کے سر جوڑنے کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں ؟پاکستان اورچین کا کردار کیا ہو سکتا ہے ؟ اس سب کو سمجھنے اور مستقبل کی پیشگوئی کیلئے ماضی میں جھانکنا ضروری ہوجاتا ہے۔

نوازشریف کیسے ہیں ؟ بھارتی وزیر اعظم مودی کااپنے پاکستانی ہم منصب کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار

جس آگ اور خون کی لپیٹ میں افغانستان ہے اس سے پاکستان بھی متاثر ہے پاکستان میں تقریباً 60ہزار افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے،افغانستان میں پاکستان کے بغیر امن تو کیا خواب دیکھنا بھی حرف غلط لگتا ہے،افغانستان میں امن کے تمام راستے پاکستان سے ہی گزرتے ہیں پورے خطے میں ایسا کوئی ملک نہیں اور نہ ہی کسی ایسے ملک میں صلاحیت ہے کہ وہ پاکستان جیسا کردار نبھا سکے افغانستان کے دنیا سے تجارت کے تمام راستے پاکستان سے ہوکر ہی گزرتے ہیں،افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کو ساتھ رکھنا دنیا کی مجبوری ہے۔

پاکستان کی پولیٹیکل جیو گرافی ایسی ہے کہ اس کا افغانستان ،بھارت ،ایران اور چین کے ساتھ تعلقات میں تناﺅ پورے خطے کے امن کو برباد کرسکتا ہے، پاکستان اور افغانستا ن کی 2640کلومیٹر لمبی سرحد آپس میں ملتی ہے جیسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں یہ سرحد 1893ءمیں ایک معاہدے کے تحت وجود میں آئی تھی،چین پاکستان کا فطری دوست ہے ،چین پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کر رہا ہے،چین نے گزشتہ برس افغان طالبان سے رابطے کیلئے اپنا ایک نمائندہ مقرر کیا جس کی کوششوں سے ہی آج 40ممالک کے وزرائے خارجہ مل بیٹھے ہیں، افغانستان، پاکستان اور عالمی برادری قیام امن کے لئے مخلصانہ تعاون کیلئے پرعزم ہے تو آئے برسوں سے جلتے ہوئے پہاڑوں،دہکتے ہوئے ریگزاروں میں محبت امن کے پھول کھلائے جائیں،امن کی پیاسی سرزمین کو پیار سے سیراب کیا جائے،جنگ کے ترانوں کو محبت کے سریلے نغموں سے مات دی جائے۔

’اوئے کچھ کر گزر‘ پاکستان کی پہلی آن لائن فلم

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج جب پاکستان آئیں تو انہوں نے پاکستان سے رشتہ سدھانے کی بات کی تھی ،رشتہ کیا سدھرنا تھا یہ تو پہلے سے بگڑ گیا،بھارت کو اس بات کا اعترف کرلینا چاہیے کہ رشتہ سدھارنے کی بات کرنے سے پہلے رشتہ بنانا پڑے گا،یہ رشتہ اسی صورت بن سکتا ہے جب دونوں فریق برابری کی سطح پر آکر بات کرینگے،مان لیا کہ دہشگردی پر بات کرنی ہے تو جو بھارتی فوج کشمیر میں کر رہی ہے وہ کیا ہے؟ کیا جبری قانون کے تحت ریاست کے نام پر کشمیریوں کا قتل عام دہشتگردی نہیں؟ کیا وہاں پر تشدد واقعات نہیں ہوتے؟ حق کیلئے آواز بلند کرنیوالوں کی زباں بندی کیا ہے؟

یہ سب لوگ اگر امن کیلئے مل بیٹھے ہیں تو ان کو اس عہد کے ساتھ اٹھنا چاہیے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے،یہ جنگ چاہے افغانستان میں ہو،شام ،عراق ،افغانستان،کشمیر یا کسی بھی جگہ ہواسے ختم ہونا چاہیے،ناحق خون جہاں کہیں بھی بہہ رہا ہے  بندہونا چاہیے،ساحر لدھیانوی اپنی شاعری میں شاید انہی لوگوں کو پیغام دے گئے ہیں-

خون اپنا ہو یا پرایا ہو

نسل آدم کا خون ہے آخر

جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں

امن عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر

روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے

کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے

زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں

کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے

فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ

زندگی میتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لئے اے شریف انسانو!

جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں

شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...