اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوبدلنے سے محرومیاں بڑھیں گی،انتہا پسندی مذہبی ہو یا علاقائی اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے:قمر زمان کائرہ

اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوبدلنے سے محرومیاں بڑھیں گی،انتہا پسندی مذہبی ...
اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوبدلنے سے محرومیاں بڑھیں گی،انتہا پسندی مذہبی ہو یا علاقائی اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے:قمر زمان کائرہ

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوبدلنے سے محرومیاں بڑھیں گی،اٹھارہویں ترمیم کے روڈ میپ پر من وعن عمل کرکے صوبوں کے اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے،ہمیں پہلے پاکستانی پھر پنجابی،سندھی یا بلوچی بننا ہے،ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے،بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کیلئے بھارتی ادارے ہیں،انتہا پسندی مذہبی ہو یا علاقائی اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:پانامہ لیکس لٹیروں کے گلے کا پھندا بن چکا،قوم کے خون پسینے کی کمائی ہڑپ کرنے والے بچ نہیں سکتے:سینٹر سراج الحق

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صدر اور وفاق سے اختیارات لے کر صوبوں کو منتقل کئے،این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو مالی وسائل دیئے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی بنگال کی علیحدگی کے اسباب سے ہم نے سبق نہیں سیکھا، اس وقت بنگالی یہی کہتے تھے کہ وسائل ہمارے استعمال ہو رہے ہیں اور ترقی مغربی پاکستان کو مل رہی ہے،آج بھی یہی صورتحال ہے اور صوبے وسائل میں حصہ نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی اور سنٹرل پنجاب کے لوگ جب لاہور جاتے ہیں تو احساس محرومی مزید بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے تھا،موجودہ حکومت نے سی پیک کے مغربی روٹ کو بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے روڈ میپ پر من وعن عمل کیا جائے،آج صوبوں کی شکایت ہے کہ مرکز ان کے اختیارات میں مداخلت کر رہا ہے، ہم پہلے پاکستانی ہیں پھر پنجابی یا سندھی ہیں،اگر پہلے پنجابی یا سندھی بنیں گے تو جھگڑا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب4بھائیوں میں اتفاق ہو تو دشمن کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو اس سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے لیکن اگر بھائی اتفاق میں نہ ہوں تو دشمن فائدہ اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں انتہا پسندانہ رویے کے خلاف پاکستان میں انتہا پسندی کا رجحان مسئلے کا حل نہیں،بھارت کے انتہا پسندانہ رویے کا علاج بھارتی جمہوریت ہے،ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے بھارت کو ٹھیک کرنے کیلئے وہاں کے ادارے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ویژن سیکولر پاکستان تھا،بھٹو نے جمعہ کو چھٹی علماء کے دباؤپر دی تھی،یہ کارنامہ نہیں مجبوری تھی،عالمی سامراج ذوالفقار علی بھٹو کو مارنا چاہتا تھا بھٹو کو مارنے والے کوئی اور لوگ تھے۔

مزید : قومی