مدارس رجا کارانہ خدمت میں سب سے آگے علماء کی توہین برداشت نہیں کر یں گے، حنیف جالندھری

مدارس رجا کارانہ خدمت میں سب سے آگے علماء کی توہین برداشت نہیں کر یں گے، حنیف ...

ملتان‘ وہاڑی(سٹی رپورٹر‘بیورو رپورٹ ‘ نمائندہ خصوصی) قرآن کریم کی تعلیم دیناسنت نبوی کے مقاصد میں سے ہے۔ مدارس مقاصد (بقیہ نمبر52صفحہ12پر )

سنت کے مراکز ہیں، اب تک اسلام اور حضورر ؐکی سیرت مدارس کی وجہ سے محفوظ ہے۔ مدارس قومی ضرورت کی تکمیل کر رہے ہیں۔ مدارس رضاکارانہ خدمت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ہمارے ہاں ہڑتال اورچھٹی کاکوئی تصور نہیں۔ مدارس نہ صرف دینی و عصری تعلیم مفت دے رہے ہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کی رہائش اور علاج و معالجہ بھی مدارس کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب تعلیم کو فروخت کیا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستا ن کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے پیغام مدارس و سیرت النبیؐ کانفرنس وہاڑی میں خطاب ،ملتان میں علماء کے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا،۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں ساڑھے تین ملین طلبہ زیر تعلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم کا انتظام حکومت کا کام تھا، لیکن حکومت کے اعراض کی وجہ سے مدارس رضا کارانہ طور پر سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن بجائے قدر دانی کے مدارس کی بے قدری کی جارہی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت مدارس بند نہیں کر سکتی، ہم نے تو گھروں میں بچیوں کے بھی مدارس قائم کر دئیے ہیں۔ مدارس قومی ضرورت کاپرچار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ اور اسلام لازم ملزوم ہیں۔پاکستان کی حفاظت کے لیے یہی طلبہ ہی سب سے آگے ہوں گے، یہ مدارس جغرافیہ اور ہم نظریہ کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مدارس کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتوں کی پالیسی کی وجہ سے ہے، انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن میں حکومت رکاوٹ ہے، ملک بھر میں رجسٹریشن کا یکساں قانون لائے، نیز محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کیا جائے۔ عمران خان نے اس کا وعدہ کیا لیکن ابھی تک ایفاء نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ مدارس میں کوائف طلبی ہے، سکولوں، کالجوں سے نہیں؟انہوں نے کہا کہ خواتین کے نام دریافت کرنا باعث شرم ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو طلبہ کوسڑکوں پر لائیں گے ،حکومت اپنے تمام وعدے پورے کرے۔ کانفرنس سے ممتاز عالم دین اور سابق سنیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس امن کے علمبردار ہیں،مدارس نے کبھی نہ دہشت گردی کی اور نہ معاون بنے۔ بلکہ ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت فلاحی و تعلیمی امور میں مصروف رہے۔ اس موقع پروفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب کے ناظم مولانا زبیر احمد صدیقیؔ نے کہا کہ ریاست مدینہ میں رسول اللہؐنے سب سے پہلے مسلمانوں میں اخوت قائم فرمائی، اس کے بعد امت کو ایک بہترین جامع نصاب تعلیم اور نظام تعلیم مراحمت فرمایا، یہ نصاب و نظام تعلیم طبقاتی نہیں بلکہ یکساں تھا۔جو صرف دنیوی ہی نہیں بلکہ دینی اور دنیوی تقاضوں پر محیط تھا۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا ظفر احمد قاسمؔ نے اپنے خطاب میں مدارس کے وجود کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم قرآن کی برکت سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو رزق عطاء فرماتے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان وہاڑی کے مسؤل مفتی محمد زبیر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مہر اقبال چوہدری، مولانا قاری محمد طیب حنفیؔ ، مولانا زاہد الراشدی،مولانا احمد حنیف جالندھری،مولانا غلام مرتضیٰ، میاں عبدالخالق وٹو،چوہدری مقصود احمد، قاری رشید احمد وٹو،شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق، حافظ بشیر احمد، محمد صدیق بھٹی، راؤمولانا منور احمد، مولانا قاری عبدالرزاق، مولانا قاری محفوظ احمد،مولانا عبدالعزیز نقشبندی، شہباز ظفر قریشی، جاوید اقبال بلوچ ایڈووکیٹ، حاجی محمد سلطان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کانفرنس میں معروف روحانی پیر ناصر الدین خاکوانی نے خصوصی دعا کرائی۔ دریں اثناء ناظمِ اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانامحمدحنیف جالندھری نے العربیہ پاکستان مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہاہے کہ حضورؐکی آمدکے مقاصداورتمام مذہبی اورسیاسی مقاصدکومدارس پوراکررہے ہیں تمام اسلامی دنیامیں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں کومدارس مسلمانوں تک پہنچانے میں اہم سنگ میل ہیں۔دینی تعلیم عوام کوفراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ حکمران دینی مدارس پرمختلف جھوٹے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔پرویزمشرف نے دینی مدارس کوبندکرنے کی کوششیں کیں وہ دینی مدارس توبندنہ کرسکاپاکستان میں اپناداخلہ بندکرابیٹھاہے۔وہ گزشتہ روزوفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام وہاڑی میں بہت بڑی سیرت النبی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پرایم این اے طاہراقبال چودھری،مولانامفتی ناصرالدین خاکوانی،مولانامفتی محمدزبیر،مولاناظفراحمدقاسم،مولانامحمدطیب حنفی،قاری محمدمنور،مولانامحمدہارون،قاری محفوظ الحق قاسمی،قاری نورمحمدشاہین،قاری محمدصدیق،مولاناغلام مرتضیٰ،چودھری مقصوداحمد،عبدالخالق وٹوکے علاوہ دینی مدارس کے اساتذہ اورطلباکی کثیرتعدادموجودتھی۔

حنیف جالندھری

مزید : ملتان صفحہ آخر