فرانس میں احتجاج ،توڑ پھوڑ جاری صدر کا ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور

فرانس میں احتجاج ،توڑ پھوڑ جاری صدر کا ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور

پیرس(اے این این) فرانس میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شہریوں کا تیسرے ہفتے بھی احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے کئی (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جب کہ پولیس نے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات میں مہنگائی میں کمی اور فرانسیسی صدر سے استعفی کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔مظاہرین نے جگہ جگہ احتجاج کرتے ہوئے راستے بھی بند کر دیے ہیں جب کہ مظاہرین مظاہرین وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس نے الیزے پیلس کے تمام داخلی دروازے سیل کر دیے ہیں۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ پرس میں پرتشدد احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے، تیل پر ٹیکس کا مقصد صاف توانائی کے استعمال کو بڑھانا اور ملک سے آلودگی کو ختم کرنا ہے جب کہ پر تشدد احتجاج سے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے احتجاج کے باعث پولینڈ کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر