امن ترجیح،فرد واحد کا بیان پوری اہل سنت کا موقف نہیں ، صاحبزادہ رضائے مصطفی

امن ترجیح،فرد واحد کا بیان پوری اہل سنت کا موقف نہیں ، صاحبزادہ رضائے مصطفی

ؒ ٓلاہور (سٹی رپورٹر )لاہور پریس کلب میں تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر صاحبزادہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فرد واحد کا بیان پوری اہل سنت کا موقف نہیں ہے ۔ ہم اس ملک کے 80فیصد اکثریتی مسلک ہیں اور ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ہیں ۔ اس لیے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ پریس کانفرنس میں اہل سنت کی 20سے زائد جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ آسیہ مسیح کیس کے ریویو کا فیصلہ آنے تک اس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ مولانا محمد علی نقشبندی نے کہا کہ سیکورٹی کی آڑ میں اہل سنت کی مساجد اور مدارس کی بے حرمتی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ یہ شعائر اللہ کی بے حرمتی ہے۔ ڈاکٹر مفتی محمد کریم نے کہا کہ فوج اور دیگر اداروں کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔

اہل سنت اس ملک کے بنانے والے محب وطن اور پرمن ہیں ہم کسی کو بھی اہل سنت کا تشخص مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ حافظ نصیر احمد نورانی کا کہنا تھ اکہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک کو دلدل کی طرف نہ دھکیلے ۔ پیر ذوالفقار مصطفیٰ ہاشمی نے کہا کہ اہل سنت کی تمام بند مساجد کو فی الفور کھولا جائے اس جمعہ کو بہت ساری مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں کرنے دی گئی۔ جس کی ہم مذمت کرتے ہیں علامہ عمران الحسن فاروقی نے کہا کہ 295-C ختم کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ حککومت قانون تحفظ ناموس رسالت میں تبدیلی سے باز رہے۔ پیر بشیر احمد یوسفی، معاذ المصطفیٰ ، ممفتی مسعود الرحمن ، مفتی قیصر شہزاد، علامہ نعیم جاوید نوری، علامہ محمد مستقیم، امانللہ شاکر ، مولانا طاہر شہزاد، مفتی محمد حسیب قادری، علامہ مشتاق احمد سمیت دیگر علما و شرکا و طلبا نے بے گناہ اہل سنت افراد کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا

مزید : میٹروپولیٹن 1