اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں صدرعارف علوی کا دو ٹوک اعلان

اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں صدرعارف علوی کا دو ٹوک اعلان

  

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم رول بیک کرنے پر کوئی کام نہیں ہو رہا، تاہم صوبوں کو حاصل اختیارات میں توازن لانے اور اُن کی استعداد میں اضافے کے لئے وفاقی حکومت بعض امور پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے وزیراعظم، آرمی چیف اور عدلیہ مشترکہ طور پر غور کر رہے ہیں تاکہ مسئلہ بھی حل ہو اور معلوم کیا جا سکے کہ غائب شدہ افراد کہاں گئے۔ صدر کی بنیادی اور آئینی ذمے داری صوبوں کے مابین روابط قائم کرنا ہے، جس کے لئے مَیں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔انہوں نے پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اِن خیالات کا اظہار کیا۔

آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے متعدد آئینی دفعات میں ردوبدل اور ترمیم و اضافہ کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے آئین کا وہ پارلیمانی کردار بحال کیا گیا ہے، جو1973ء کے آئین کے نفاذ کے وقت موجود تھا۔اگرچہ اس آئین میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہی کئی ایسی آئینی ترامیم بھی کر دی گئی تھیں،جنہیں ہمیشہ متنازعہ تصور کیا گیا اور اُن پر مخالف سیاسی جماعتیں نکتہ چینی بھی کرتی رہیں تاہم اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے جو سب سے بڑا کام کیا گیا وہ صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کا ایک بار پھر خاتمہ تھا، جو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران اس وقت کی اسمبلی کے ذریعے آئین میں داخل کیا گیا تھا۔ یہ معروف دفعہ58(2) بی ہے،جس کے تحت صدر کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ مختلف وجوہ کی بنیاد پر اسمبلی (اور حکومت) توڑ سکتے ہیں،اس دفعہ کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال بھی سب سے پہلے جنرل ضیاء الحق ہی نے کیا اور وزیراعظم جونیجو کی حکومت ختم کی اور قومی اسمبلی توڑ دی۔اُن کے بعد اس اختیار کا استعمال دو بار (صدر) غلام اسحاق خان نے کیا اور ایک بار بے نظیر بھٹو اور دوسری بار نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا، چوتھی مرتبہ یہ اختیار(صدر) فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف استعمال کیا۔

اس کے بعد جو انتخابات ہوئے اُن میں نواز شرف دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے تو انہوں نے آئین میں تیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کر دیا،لیکن حیرت اُس وقت ہوئی جب بعض ایسے سیاست دان اس حق کی بحالی کے لئے سپریم کورٹ چلے گئے، جو ہمیشہ صدر کو ایسا اختیار دینے کے نہ صرف خلاف تھے، بلکہ پارلیمانی جمہوریت کے پُرجوش حامی بھی تھے اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے صدر کا اختیار بحال تو کر دیا،لیکن سیاسی اور آئینی بحران نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ فاروق لغاری اگرچہ اسمبلی توڑنے کے لئے تیار بیٹھے تھے، لیکن اُنہیں اس کا موقع نہ ملا اور چند ہی گھنٹوں میں اُنہیں استعفا دے کر گھر جانا پڑا۔

جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا تو اُس وقت صدر کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں تھا تاہم ماورائے آئین اقدام کرتے ہوئے انہوں نے اسمبلی بھی ختم کی اور حکومت بھی،نواز شریف کو طیارہ کیس میں عمر قید کی سزا ہوئی اور بعد میں اُنہیں جلا وطن کر دیا گیا، 2002ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر جو انتخابات ہوئے اُن کے نتیجے میں جو اسمبلی معرضِ وجود میں آئی،اس نے ایم ایم اے کے تعاون سے آئین میں سترہویں ترمیم منظور کی، جس کے تحت صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار ایک بار پھر بحال ہو گیا جسے جنرل پرویز مشرف نے ہمیشہ ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا نام دیا،لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے ان کے دور میں اختیارات کا جھکاؤ عملاً صدر ہی کی جانب رہا اور یکے بعد دیگرے چار وزرائے اعظم نے اقتدار سنبھالا،ان کے عہد میں آخری وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے، جو 2008ء کے انتخابات کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے، پھر اگست میں جنرل پرویز مشرف استعفا دینے پر مجبور ہو گئے۔

صدر اور اسمبلی یا وزیراعظم کے اختیارات کی جنگ کی اس مختصرروداد سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فوجی صدور کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اُن کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس صدارتی اختیار کی وجہ سے چار اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں، مدت تو نواز شریف کی دوسری حکومت نے بھی پوری نہ کی،لیکن اس کا خاتمہ آئینی نہیں ماورائے آئین طریقے سے ہوا،اِسی لئے جب پیپلزپارٹی نے2008ء میں اقتدار سنبھالا اور چند ماہ بعد ہی جنرل پرویز مشرف کی جگہ آصف علی زرداری صدر بنے تو آئین میں اٹھارہویں ترمیم لانے کا فیصلہ کیا گیا اور طویل عرصے تک کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے اجلاسوں کے بعد ترامیم کا پیکیج تیار کیا گیا،جس کے تحت نہ صرف صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہوا،بلکہ صوبوں کو بھی بہت سے ایسے اختیارات دے دیئے گئے،جو اس سے پہلے اُنہیں کبھی حاصل نہ تھے۔اگرچہ صوبوں کو اب تک وہ تمام اختیارات استعمال کرنے کا پوری طرح موقعہ نہیں مل سکا، جو اُنہیں اس ترمیم کے ذریعے ملے،لیکن بہت سے حلقوں کو یہ اختیارات بھی بُری طرح کھٹکتے ہیں اور اُن کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ترمیم رول بیک ہو۔

اس آئینی ترمیم کے روحِ رواں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی کئی بار ایسے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اِس لئے صدرِ مملکت نے دو ٹوک اعلان کر کے بہت اچھا کیا ہے۔توقع ہے کہ اس اعلان کے بعد اس سلسلے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں اور افواہیں دم توڑ جائیں گی۔ یہ درست اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کے بعض اختیارات پر اختلاف رائے موجود ہے، تاہم اگر کسی مثبت تبدیلی یا حقیقی توازن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو اِس کا حل یہ نہیں ہے کہ پوری ترمیم ختم کی جائے۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت اور تمام اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھ کر آئین میں مزید ترمیم پر اتفاقِ رائے پیدا کریں اور جو امور طے پا جائیں اور جو تبدیلی ناگزیر ہو،وہ مزید ترمیم کے ذریعے کر لی جائے،ویسے بھی موجودہ حکومت تو اب تک پارلیمینٹ میں کوئی قانون سازی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت قومی اسمبلی کی کوئی کمیٹی بھی نہیں بن سکی،ایسے میں حکومت اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی،کیونکہ ترمیم کے لئے مطلوبہ اکثریت اُسے قومی اسمبلی میں حاصل ہے اور نہ ہی سینیٹ میں، البتہ اپوزیشن جماعتوں کے تعاون سے ترمیم ہو سکتی ہے،لیکن حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات کار ایسے نہیں کہ اپوزیشن کا تعاون آسانی سے مل سکے، ایسے میں صدر عارف علوی نے وضاحت کر کے افواہوں کو ختم کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ مستحسن ہے۔البتہ صوبوں کے اختیارات کے ضمن میں جس توازن کی بات کی جا رہی ہے اس پر بھی پارلیمینٹ میں سیر حاصل بحث ہونی چاہئے اور اس سے بالا بالا کوئی اقدام کرنے سے گریز ضروری ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -