پولیو وائرس، سات بڑے شہروں میں؟

پولیو وائرس، سات بڑے شہروں میں؟

شدید نوعیت کے خطرناک امراض میں پولیو بھی شامل ہے۔ یہ وائرس سے ہوتا ہے اور خصوصی طور پر معصوم بچوں کو نشانہ بناتا ہے جو مختلف نوعیت کی معذوری میں مبتلا ہو کر زندگی بھر کا روگ پال لیتے ہیں۔ یہ مرض بڑے شہروں میں بھی پایا جاتا ہے تو شمالی علاقوں میں زیادہ بچے شکار ہوتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کے مذہبی راہنما اعتراض ہی نہیں کرتے فتوے بھی دے دیتے ہیں، ان میں خصوصی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پولیو کے قطرے نہ پلائے جائیں کہ یہ فرنگیوں کی سازش ہے جو آبادی کو غیر قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لئے ہے۔ چنانچہ کے پی کے میں خصوصی طور پر پولیو مخالف مہم میں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں بھی علم کی کمی کے باعث ایسا ہوتا ہے یا پھر پولیو مہم میں کمزوری یا غفلت بھی باعث بن سکتی ہے۔پولیو سے بچاؤ کے لئے بڑی تحقیق کے بعد یہ ویکسین تیار کی گئی جو پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کو پلانا ہوتی ہے اور اس سے ان بچوں کے اندر دفاعی قوت پیدا ہوتی ہے جو پولیو وائرس کے اثر سے بچاتی ہے ۔دنیا بھر میں پولیو قطرے پلانے کا پروگرام اقوام متحدہ کی وساطت سے شروع کیا گیا اور فیس بک کے مالک زگربرگر اس میں مالی معاونت کرتے ہیں، ماضی میں یہ مرض بہت زیادہ تھا لیکن پولیو قطروں کی وجہ ے واضح کمی ہوئی۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب پاکستان کو پولیو فری قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم اس دوران پولیو وائرس سے متاثر بعض کیس سامنے آ گئے اور پھر سے یہ مہم شروع کرنا پڑی اب پولیو کے ماہرین نے بتایا ہے کہ حال ہی میں تحقیق کے مطابق پاکستان کے سات بڑے شہروں اسلام آباد، کراچی، سکھر، لاہور، راولپنڈی، مردان اور پشاور میں گٹروں کے پانی میں پولیو وائرس کی شناخت ہوئی اور یہ وائرس بچوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اس صورت حال سے آگاہ ہوں اور احتیاطی تدابیر کے طور پر بچوں کو قطرے پلوا کر انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنوائیں۔یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ سات بڑے شہروں میں وائرس کی تصدیق ہو گئی، اس لئے خبردار رہنا انتہائی ضروری اور لازم ہے۔ پولیو قطرے پلانے کی مہم نہ صرف موثر طور پر شروع کی جائے بلکہ تشہیری مہم کے ذریعے عوام کو آگاہ بھی کیا اور ان کو معاونت پرآمادہ کیا جائے کہ وہم اور کم علمی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مزید : رائے /اداریہ