ہوا ثابت کہ ہر فرزندِآدم مجھ سے بہتر تھا

ہوا ثابت کہ ہر فرزندِآدم مجھ سے بہتر تھا
ہوا ثابت کہ ہر فرزندِآدم مجھ سے بہتر تھا

  

کچھ لوگوں کے نزدیک اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ’’یہ‘‘ ہے۔ کچھ دوسروں کے خیال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ’’وہ‘‘ ہے۔ ایک اور گروہ کے ذہن میں آتا ہے کہ نہ یہ مسئلہ ہے اور نہ وہ مسئلہ ہے ، مسئلہ وہی ہے جو وہ سوچ رہے ہوتے ہیں۔ ان تمام مفکرین و فلاسفہ کو ہم ان کے حال پر چھوڑتے ہیں کہ اختلاف کی گنجائش تو ان کے ہاں ہے ہی نہیں۔

یاد آیا ایک زمانے میں اپنے مرحوم جنرل ضیاء الحق بھی اس کھوج میں رہے تھے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ اس سراغ رسانی کی خاطر انہوں نے کوئی تین سو افراد، جو ان کے خیال میں معاشرے کا جوہر تھے، جمع کیے۔ ان کے ورکنگ گروپ بنائے۔

ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا کہ جاؤ! خوب سوچ سمجھ کر خوب جدل و مناظرے اور بحث و تمحیص کے بعد واپس آ کر مجھے بتاؤ کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ پھر ہوا یہ کہ وہ جو بھٹو صاحب نے بائیس خاندان کے نعرے پر انتخابات جیتے تھے کہ ملک کی دولت کا معتدبہ حصہ ان بائیس خاندانوں کے پاس جمع ہے۔ یہ دولت مجھے ان سے نکلوانے کی اجازت دو، ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

اب صورت یہ ہے کہ ملک کی اسی معتدبہ دولت کا بڑا حصہ اور عشروں کے بُعد سے پیدا شدہ مزید بے حساب دولت کے رکھوالے، اگر کہا جائے کہ بائیس خاندان نہیں رہے، بائیس سو بھی نہیں ہیں، بلکہ بائیس ہزار سے بھی زائد ہیں تو یہ بات ہرگز غلط نہیں ہو گی۔

سب سے بڑے مسئلے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایک سب سے بڑے مسئلے کی جستجو ضیا الحق کر رہے تھے، لیکن آج مسائل کا ایک گرداب ہے اور ہم ہیں دوستو! ۔۔۔جنرل ضیاء الحق مرحوم کے عہد میں معلوم ہوا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ، ایک ورکنگ گروپ کے خیال میں ’’یہ‘‘ تھا۔

دوسرے گروپ کے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ ’’وہ‘‘ تھا۔ اختلاف رائے کے اس تنوع کے باوجود ہانکا کر کے جو مسائل پکڑے گئے، ان کی تعداد کوئی درجن بھر سے زیادہ نہیں تھی۔ ان مسائل پر نظر ڈالیں۔ دو ایک ماہ کے اخبارات کا بغور مطالعہ کریں۔ شام کو ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھ کر مفکرین کے افکارِ عالیہ سے مستفید ہوتے رہیں، ہم سب اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ:

*۔۔۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ صوبائیت ہے۔

*۔۔۔ملک کا سب سے بڑا مسئلہ لسانیت ہے۔

*۔۔۔وطنِ عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ ملائیت ہے۔

*۔۔۔اُمتِ مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ اہلِ حدیث ہیں۔

*۔۔۔یہ جو شیعہ آبادی ہے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

*۔۔۔بریلویت سے بڑھ کر کوئی مسئلہ نہیں۔

*۔۔۔فساد کی جڑ دیوبندی ہیں بس۔

*۔۔۔لا دین عناصر اور آزاد خیال افراد ہی سب سے بڑا فتنہ ہیں۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ لاینحل بحث بڑی پرانی ہے، لیکن اسے مزید تقویت دینے والے جسٹس منیر ہیں۔ اس بحث کو دو آتشہ کیا تو جسٹس منیرنے کیا۔ اگر وہ اپنی تحریر کسی انگریزی روزنامے میں اشاعت کے لئے بھیجتے تو مجھے یقین ہے کہ اخبار کا کوئی سب ایڈیٹر ہی اسے نظرانداز کر دیتا، بالکل عام سی، سطحی اور سوقیانہ باتیں جو ہمارے مولوی حضرات، اینکرپرسن، این جی او کے عہدے دار خواتین و حضرات دن رات کان میں انڈیلتے رہتے ہیں۔

ایسی باتوں سے اس زمانے میں بھی معاشرے کے ہر فرد کے کان پک چکے تھے تو سب ایڈیٹر ایسے مضمون سے اپنے موقر اخبار کو کیوں آلودہ کرتا، وہ اخبار جس سے اس کی روزی روٹی بندھی ہوئی ہو۔ پھر مَیں نے سوچا کہ جسٹس منیر سے کیا شکوہ ، یہ چلن تو معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ چپکا ہوا ہے۔

کیوں؟ اس کیوں کا کوئی شافی جواب تو میرے پاس نہیں ہے ،لیکن میری رائے یہی ہے کہ کوئی انسان اپنی ذہنی سطح سے اوپر اُٹھنا چاہے بھی تو نہیں اُٹھ سکتا۔ مَیںآپ کو اپنے پیشۂ تدریس کی طرف لاتا ہوں۔

پی ایچ ڈی کا مقالہ ترقی یافتہ ممالک کی کسی جامعہ کے کسی پروفیسر کو رائے دہی کے لئے بھیجنا ضروری ہوتا ہے۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی اس بھدی سی شرط کو ہمارے بعض نالائق پروفیسر حضرات یوں پورا کر لیتے ہیں کہ جس ذہنی سطح کے وہ خود ہوتے ہیں، لازم ہے کہ ان کی اٹھک بیٹھک بھی انہی جیسے نالائق افراد سے ہو۔

اور دنیا کا کوئی ایک ملک ایسا نہیں ہے جہاں اعلیٰ پائے کی جامعات سے لے کر اپنے ہاں کے کسی کالج سے بھی کم تر درجے کی جامعات نہ پائی جاتی ہوں۔

اپنے پروفیسر حضرات جس کم تر ذہنی سطح کی زندگی یہاں بسر کر رہے ہوتے ہیں، فرانس، بلجیم یا امریکہ میں مقیم اُسی کمیت کے ایسے ہی کسی پروفیسر کو مقالہ بھیج کر وہ اس سے واہ واہ کرا لیتے ہیں۔ یوں ایچ ای سی کی شرط پوری، پروفیسر صاحب کے دام کھرے اور طالب علم شاداں و فرحاں سینہ پھُلائے اکڑ رہا ہوتا ہے کہ مَیں اب ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہو چکا ہوں۔ ذہنی سطح کے اعتبار سے جو یہاں بدو وہ مکے میں بھی بدو!

جسٹس منیر بھی تو اسی معاشرے اور اسی ماحول کا ایک قسم کا نکھار تھے۔ اپنی ہی ذہنی سطح کے چند مولویوں کو 1953ء کے فسادات کی عدالتی تحقیقات کے لئے دربار میں بلایا، ایک نے دوسرے کو کافر کہا تو دوسرے نے پہلے کو ملحد گردانا۔ تیسرے نے چھٹے کو زندیق کہا تو پانچویں نے تیسرے کو فاسق و فاجر کا لقب دیا۔ ان بے چارے مرغانِ صحرا کے اچھوتوں کے یہ اعلیٰ اور ارفع ملفوظات جج صاحب نے قیمتی موتی سمجھ کر صفحۂ قرطاس پر بکھیر دئیے۔ انہی موتیوں کی مالا آج ہر اس شخص کے گلے میں دیکھی جا سکتی ہے جسے اسلام، اسلامی تعلیمات اور شعائر اسلام سے خدا واسطے کا بیر ہو۔

جسٹس منیر اگر ان دو رکعت کے اماموں کی سطح کے نہ ہوتے تو آج ان کے محررہ فیصلے دنیا بھر کی عدالتوں میں بطور نظائر پیش کیے جاتے، جیسے ہمارے ہی ملک کے کئی دیگر ججوں کے فیصلے صرف عدالتی نظائر ہی کے طور پر پیش نہیں کیے جاتے، بلکہ اصول قانون کی کتب میں ان فیصلوں نے اس خوب صورتی سے جگہ بنائی ہے کہ انہیں دنیا کی کئی دیگر جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔

آج کیفیت یہ ہے کہ اسلام اور شعائراسلام پر بات کرنا اگر اس ملک میں بڑی حد تک ناممکنات میں سے ہے تو اس کا حل مولوی پر تابڑ توڑ حملے کر کے نکالا جاتا ہے، حالانکہ جسٹس منیر ان مولوی حضرات کو نظرانداز کر کے براہِ راست قرآن و سنت سے اکتساب کرتے تو آج معاشرے کے اندر ان دونوں گروہوں میں وہ بُعد المشرقین نہ ہوتا جسے انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔

آج اس خوبصورت ملک کے اندر جو فکری تفریق دیکھی جا رہی ہے اور جس کی اٹھان پر ملک کے اندر قتل و غارت کا بازار گرم رہا ہے، ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ ننھی سی تِیلی ہے جس نے پورے جنگل کو اپنی آگ کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

نفرت اور دینی علامتوں سے نفرت کو جس بُری طرح جسٹس منیر نے بگھار لگائی، بعد کی جملہ بدعنوانیوں کے ذمہ دار یہی جج صاحب ہیں، جن کے عدالتی منصب نے ملک کی یکجہتی اور وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سنگِ بنیاد 1953ء ہی میں رکھ دیا تھا۔ لوگ موصوف کے صرف اس عدالتی فیصلے کو روتے ہیں جسے ہم مولوی تمیز الدین کیس کے نام سے جانتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایک سیمینار میں کچھ اسی طرح کے موضوعات زیرِبحث تھے۔ شرکا میں وہ تمام مسلکی، لسانی، علاقائی، فکری، لبرل، لادین، این جی او برانڈ، غیرممالک کے گیت گانے والے (پتہ نہیں کیوں، آپ کو پتہ ہو تو مجھے بتا دیجئے) سب لوگ موجو دتھے۔

سمجھ دار لوگ باخبر ہیں کہ اس طرح کے سیمیناروں کی وڈیو بنتی ہے، رپورٹ مرتب ہوتی ہے جو ان کے خبرنامے میں شائع ہوتی ہے اور امداد کی اگلی قسط کے لئے منتظمین سیمینار منہ کھول کر انہی افراد اور اداروں کی طرف دیکھنے لگتے ہیں جنہوں نے یہ سیمینار منعقد کرایا ہوتا ہے۔

اس سیمینار میں بھی یہی کچھ زیرِبحث تھا۔۔۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے اور جواب وہی دیوبندی، بریلوی، لبرل، لادین، اہلِ حدیث، ایرانی لابی، سعودی لابی ہی تھا۔ ہم چب رہے، ہم ہنس دیئے، حالانکہ ان اصحاب کا پردہ بھی منظور نہ تھا ،پھر بھی ہم چپ رہے، ہم ہنس دیئے۔ بولنے کا موقع ملا تو مَیں نے سب کو معاف کر دیا۔

میرا ذاتی خیال تھا کہ اس ملک کا بڑا مسئلہ نہ تو اہلِ حدیث ہیں اور نہ آزاد خیال موم بتی بردار گروہ ، دیوبندی اصحاب اس ملک کا مسئلہ ہیں، نہ لادین عناصر۔ پنجابی، پٹھان، بلوچ، سندھی افراد میں سے عام افراد سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

یہ عام لوگ اپنے دیگر روزمرہ مسائل میں اس بُری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ میرے آپ کے اس فکر و فلاسفہ سے بے خبر ہیں۔ دینی مدارس سے فارغ التحصیل افراد ہوں یا جامعات سے سند یافتگان ، یہ سب افراد اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔

چار چھ منٹ کی میری گفتگو سے سامعین کوئی نتیجہ نکالنے سے قاصر رہے۔ دو ایک نے اظہار بھی کیا کہ سلسلۂ کلام بے ربط نہ ہونے کے باوجود نتیجہ خیز نہیں ہے۔

عرض کیا: ’’مَیں نے معاشرے کی منظر کشی کر دی ہے کہ کس بُری طرح یہ تمام مذکورہ گروہ ایک دوسرے کو لتاڑتے ہیں ،حد تو یہ ہے کہ سب نہ سہی، ان میں سے کئی ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، رشتے ناطے کرتے ہیں، ایک دوسرے کی وراثت میں حصہ پاتے ہیں، لیکن جب یہ لوگ فلسفی بن کر رائے دیتے ہیں تو پھر۔۔۔‘‘ مَیں خاموش ہو گیا۔

’’ڈاکٹر صاحب آپ کی بصیرت افروز باتوں کا اگر ہم نتیجہ نکالنے سے قاصر ہیں تو آپ موضوع سخن کو دو ایک جملوں میں لپیٹ کر واضح کر دیں کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے‘‘؟ کافی پینترے بدل بدل کر ملفوف انداز میں نکل باہر ہونے کی کوشش کی۔

ایک نستعلیق بزرگ بھائی کے چہرے پر لکھے تاثرات سے حوصلہ پا کر جو آخری جملہ میرے منہ سے نکلا ، وہ یہ تھا: ’’خواتین و حضرات آج کی اس نشست کے شرکا کو اگر پھیلا کر انہیں اپنے پورے ملک پر قیاس کر لیا جائے جس میں یہ سب سوچیں اور سب نقطہ ہائے نظر موجود ہیں تو ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے: بدتمیزی۔‘‘

نگاہِ عیب گیری سے جو دیکھا اہلِ عالم کو

کوئی کافر، کوئی فاسق، کوئی زندیق اکبر تھا

مگر جب ہو گیا دل احتسابِ نفس پر مائل

ہوا ثابت کہ ہر فرزندِ آدم مجھ سے بہتر تھا

قارئین کرام! آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب کا انتظار رہے گا۔

مزید : رائے /کالم