گورنر ہاؤس لاہور کی عمارت 175سال پرانی انگریزوں نے تیجا سنگھ سے اڑھائی ہزار میں خریدی

گورنر ہاؤس لاہور کی عمارت 175سال پرانی انگریزوں نے تیجا سنگھ سے اڑھائی ہزار ...

  

لاہور (خصوصی رپورٹ)تحریک انصاف نے انتخابات جیتنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ گورنر ہاؤس جیسی عمارات کو عوام کے لیے کھول دیں گے وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت یکم دسمبر کو پنجاب کابینہ کے اجلاس ہوا جس میں گورنر ہاؤس کی بیرونی دیواریں گرا نے کا فیصلہ کیا گیا جس پر گزشتہ روز، عمل شروع ہو گیا۔ گورنر ہاؤس کے احاطے میں ہی اکبرِ اعظم کے ایک عم زاد محمد قاسم کی قبر ہے اور اس کے اردگرد موجودہ عمارت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک مصاحب خوشحال سنگھ نے اپنی رہائش کے لیے بنائی تھی۔انگریزوں نے پنجاب پر قبضے کے بعد یہ جگہ خوشحال سنگھ کے بیٹے تیجا سنگھ سے ڈھائی ہزار روپے میں خریدی اور اسے لیفٹننٹ گورنر ہاؤس قرار دے دیا۔اس عمارت کے پہلے انگریز رہائشی رابرٹ منٹگمری تھے۔ گویا یہ عمارت لگ بھگ پونے دو سو برس سے زیرِ استعمال ہے۔عوام کے لیے اتوار کے اتوار کھولا جانے والا گورنر ہاؤس پشاور کم و بیش سو برس پرانا ہے۔ کوئٹہ کا گورنر ہاؤس انیس سو پینتیس کے زلزلے کے بعد دوبارہ تعمیر ہوا۔ کراچی کا گورنر ہاؤس اسی برس پرانا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی کا گورنر ہاؤس کچھ عرصہ گورنر جنرل ہاؤس اور ایوانِ صدر بھی رہا۔ ان سب عمارتوں اور ان کے احاطوں پر نادر و تاریخی عمارات کے تحفظ کا ایکٹ مجریہ انیس سو پچھتر لاگو ہوتا ہے۔حکمرانوں کے زیرِ استعمال محلات و دفاتر عوام کے لیے کھولنا کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں۔ بکنگھم پیلس، وائٹ ہاؤس، کریملن اور دلی کے راشٹر پتی بھون کے کچھ حصے عوام کے لیے مخصوص دنوں میں کھولے جاتے ہیں۔ تہران کا قصر سعد آباد کمپلیکس تو پورا کا پورا عجائب گھر ہے۔ ریاستیں ان عمارات کی حفاظت تاریخی ورثے کے طور پر کرتی ہیں اور ان کا تشخص توڑ پھوڑ اور خستگی سے بچاتی ہیں۔پاکستان میں راولپنڈی کا سابق ایوانِ صدر جس میں ایوب خان ، یحییٰ خان اور بھٹو رہے کئی برس پہلے اسے خواتین یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔

گورنر ہاؤس

مزید :

صفحہ اول -