غیر ملکی کمپنیوں کو بلوچستان میں مالکانہ حقوق نہیں ملیں گے : وزیر اعلٰی جام کمال

غیر ملکی کمپنیوں کو بلوچستان میں مالکانہ حقوق نہیں ملیں گے : وزیر اعلٰی جام ...

  

لاہور (خصوصی رپورٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہاہے بلوچستان کا واحد ایشو گورننس ہے، ماضی میں حکومتیں زیادہ دکھاوے کے لئے کام کرتی رہیں، آن پیپر تو بہت کام ہوا لیکن گراونڈ پر کچھ نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا ابھی تک سی پیک سے متعلقہ صرف دومنصوبے بلوچستان میں لگے ہیں، ہم اس کی رفتار تیز کرنا چاہتے ہیں، ایک قانون بنایا ہے جس کے تحت بلوچستان میں غیر ملکی کمپنیاں زمینیں خریدنہیں سکیں گی، صرف لیز پر لے سکیں گے۔لاہور میں سینئر صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں انہوں نے کہا تقریباً 400 ار ب روپے صرف کاغذوں پر خرچ ہوئے، جب ہم نے ٹیمیں بنائیں اور انہوں نے وہاں جاکر دیکھا تو کئی ایسے منصوبے ہیں جن کا وجود ہی نہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے صوبے میں وا ٹر ہیلتھ اور ایجوکیشن میں ایمرجنسی لگادی ہے اور تمام ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں، جو کمی ہے اس کو فوری طور پر دور کریں۔ ان کاپہلی مرتبہ فالو اپ بھی کروایا جارہا ہے کہ جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ کروائے جارہے ہیں یا نہیں۔ سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک سی پیک سے متعلقہ صرف دو منصوبے بلوچستان میں لگے ہیں، ہم اس کی رفتار تیز کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے چائنہ میں بلوچستان حکومت روڈ شو کا ا نعقاد بھی کرے گی جس کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بتایا کہ ایک قانون بنایاگیا ہے جس کے تحت بلوچستان میں غیر ملکی کمپنیاں زمینیں خریدنہیں سکیں گی، صرف لیز پر لے سکیں گے۔ صوبے میں بہت سارے منصوبے ایسے ہیں جو تکمیل کے قریب ہیں یا مکمل ہوچکے ہیں لیکن آپر یشنل نہیں ہیں، اسی طرح کا آر او پلانٹ گوادر کے قریب ریوائیو کیا اور دو اور آر او پلانٹ پانی کی فراہمی کے لئے ہیں جن کو ایک سال کے اندر اندر حکومت بحال کردے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹینکر کے ذریعے ملنے والا پانی 200کلومیٹر دور سے لایا جاتا ہے اور گوادر میں ساڑھے سات روپے فی گیلن فراہم کیا جارہا ہے جبکہ آر او پلانٹ کے ذریعے ایک روپے 10 پیسے فی گیلن کے حساب سے پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا پورے صوبے میں 24000ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں جن میں سے 10ہزار صرف ایجو کیشن میں ہیں، ان آسامیوں کو پر کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں۔ پانچ سال میں لیویز کو پولیس کے برابر لے کر آئیں گے، اس حوالے سے انفراسٹرکچر اور آلا ت کی فراہمی کا پلان بنالیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پہلے تین ماہ میں جتنی پرانی حکومتوں کے موخر ایجنڈے تھے صوبائی کابینہ نے ان تمام ایجنڈوں کو مکمل کرلیا ہے۔ اسی طر ح صوبہ بلوچستان قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے لیکن سال کا صرف 15 ارب روپے ریونیو اکٹھا ہوتا ہے۔ فشریز اتنا بڑا محکمہ ہے لیکن سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے اکٹھے کرتا ہے، مائنز اینڈ منرلز جن کیلئے بلوچستان کی پوری دنیا میں شہرت ہے یہاں سے صرف دو ارب روپے اکٹھے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے پرانی لیزوں کو نئی قیمتوں پر دیں گے اور حکومت کی زمین کا بہتر استعمال کیسے ہوسکتا ہے اور ریونیو میں کئی گنا اضافے کی اگلے دو سے تین سال میں توقع کی جاسکتی ہے۔ پانی کی فراہمی بلوچستان کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے، حکومت سالانہ 16 سے 17 ارب سبسڈی ٹیوب ویل کیلئے دیتی ہے لیکن ان میں سے اکثر کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا فائنس فارمولا تبد یل کررہے ہیں، ماضی میں ایسے ہوتا تھا 20فیصد ادائیگی کسی بھی کنٹریکٹر کو پہلی سہ ماہی میں ملتی تھی اور 40 فیصد آخری سہ ماہی میں ، اس طرح پراجیکٹ میں تاخیر ہوتی تھی اور دوسرا کنٹریکٹر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرپاتا تھا۔ اب جس کو کنٹریکٹ دیا جائے گا اس کو 40 فیصد ادائیگی پہلی سہ ماہی میں کردی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -