پاناما لیکس: 444نام اور شناخت، عوام کو بتائی جائے

پاناما لیکس: 444نام اور شناخت، عوام کو بتائی جائے
پاناما لیکس: 444نام اور شناخت، عوام کو بتائی جائے

  

پاناما لیکس کا اچانک ادخال اور تذکرہ، پاکستان کے سیاسی طبقوں میں گزشتہ تقریباً تین سال سے خاصی دلچسپی کے ساتھ سننے میں آ رہا ہے۔ اس کی درآمد پر ملک بھر کے ذرائع ابلاغ اوربعض ٹی وی چینلوں پر اس پر بحث و تمحیص، ایک مسلسل موضوع بنا چلا آ رہا ہے۔

پاناما کی ایک فہرست پر 436 افراد کے ناموں اور ان کے بعض غیر قانونی کاروباری یا ٹیکس ادا نہ کرنے کی کوتاہی کی بنا پر وطن عزیز کے بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ اور تنقید ان کا ایک باقاعدہ موضوع سخن آج کل بھی ملکی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

سراج الحق تسلسل کے ساتھ اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فہرست ایک خاص سیاسی مقصد کے حصول کے لئے پاکستان لانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ان کی رائے میں ملک کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی سیاسی کارکردگی کو کسی طرح نقصان سے دوچار کرکے انہیں آئندہ کے لئے عوام کے دل و دماغوں سے بطور سیاسی راہنما باہر کرنے کی حتی المقدور سعی کی جائے، جبکہ میاں نوازشریف اور ان کے حامی سیاسی رہنما،پاناما لیکس کو ایک سوچی سمجھی سازش اور چالبازی قرار دیتے رہے ہیں۔

فہرست میں اگرچہ سابق وزیراعظم کا اپنا نام تو شامل نہیں تھا، لیکن ان کے دو بیٹوں کے نام موجود ہونے کی وجہ سے مخالف سیاسی حلقوں نے ان کی سیاسی کارکردگی اور شہرت پر کیچڑ اچھالنے کی بھرپور کوشش کی جو آج کل بھی بڑے زور و شور اور کرپشن کے ارتکاب کے سدباب کے کارخیر کی انجام دہی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ پر شب و روز جاری ہے۔

تنقید کار حضرات و خواتین، اس امر کو اکثر اوقات فراموش کر دیتے ہیں کہ میاں نوازشریف اپنی سیاسی زندگی میں عوام کی مطلوبہ اکثریتی حمایت سے ہی نمائندگی کے عہدوں پر فائز ہوئے تھے۔ سیاسی نمائندگی کے لئے جو نظام اور معیار آئین پاکستان اور متعلقہ انتخابی قوانین میں مقرر ہے۔میاں نوازشریف اپنے مختلف ادوار حکومت میں ان شرائط اور اہلیت کے اصولوں کو پورا کرکے ہی ان سیاسی مناصب پر منتخب ہوتے رہے۔

وہ پاکستان کے سیاسی رہنما جتنے سال کے لئے بھی بنے رہے، ان کے ادوار اقتدار میں ملک بھر میں بیشتر شعبہ ء حیات میں بڑے مفید، کار آمد اور عوام کی سہولتوں پر مبنی منصوبے تعمیر و تیار کئے گئے۔جن میں تعلیم ،صحت، روزگار، تجارت، صنعت، زراعت اور بین الاقوامی سطح پر ملکی مقام و وقار کو بلند کرنے کی کارکردگی بہتر کی گئی، لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن بین الاقوامی سطح پر بیشتر مقامات کی طرح یہاں بھی حکمران طبقے کی کارکردگی پر مثبت تنقیدکی بجائے مخالفت برائے مخالفت کی منفی روش کو اپنانے کو ہی تاحال ترجیح دینے کی ڈگر پر چل رہی ہے۔

آج کل عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں۔ وہ کرپشن کے خاتمے کے لئے اگر اپنی کارروائیاں، خلوص نیت اور وسیع تر ملکی مفاد کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں تو یہاں ہر محب وطن شخص کی یہ خواہش اور دعا ہے کہ وہ اس نیک مقصد میں جلد کامیاب اور سرخرو ہوں، تاکہ ملک جلد ترقی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کر سکے، لیکن حکمران جماعت سے اہل وطن کی غالب اکثریت یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ وہ اندازِ حکمرانی، ہمارے مروجہ آئین و قانون کے مطابق ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ اصولوں سے چلائیں۔ وہ حریف سیاسی رہنماؤں کی کردارکشی اور الزام تراشی سے گریز کریں۔

یہ امر بالکل غلط اور نامناسب ہے کہ روزانہ یا آئے روز، مخالف سیاست کاروں کو کرپشن کے حوالے سے بے عزت اور بدنام کیا جائے۔ اگر عدالتوں میں کسی سیاسی لیڈر کے خلاف کوئی فیصلہ ہوتا ہے، تب ہی اس کو مجرم کہا جائے، لیکن اپنی مرضی سے نہیں۔ حکمران طبقے کو اپنی ذمہ داریاں بڑی احتیاط سے ادا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کے مسائل اور مشکلات جلد حل ہو سکیں، لیکن باہمی سیاسی کشیدگی سے بہرحال گریز کیا جائے۔

وطن عزیز میں آزادیء رائے کے لحاظ سے گزشتہ کئی سال سے یہ رجحان غیر ضروری طور پر جاری ہے کہ جو مقدمات، فوجداری، دیوانی، سیاسی یا دیگر معاملات پر عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان پر بعض قومی اخبارات اور ٹی وی چینل ، مختلف پروگراموں میں بحث و تمحیص کی جاتی ہے، حالانکہ ان پروگراموں میں حصہ لینے والے حضرات یا خواتین، متعلقہ قانونی تعلیم اور عدالتی فیصلوں سے ضروری حد تک آگاہ و آشنا اور عالم و فاضل مقام و مرتبوں کے حامل نہیں ہوتے، لیکن ان ذرائع ابلاغ میں وہ بعض ایسے سیاست کاروں کی عزت اور شہرت کو نقصان سے دوچار کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی اپنی پسند اور سوچ کے مطابق، سیاسی پالیسیاں تشکیل دینے اور انداز فکر و عمل کے حامی نہیں ہوتے۔

اس طرح ایسے تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کی کارکردگی عدالتی کارروائیوں پر واضح طور پر اثر انداز ہونے کی ایک سوچی سمجھی سازش اور کوشش ہوتی ہے، تاکہ ان کے تبصروں اور تجزیوں کو عوامی حمایت ملنے سے متعلقہ جج صاحبان، ان کی من مانی ، مرضی اور پسند کے مطابق فیصلے صادر کرنے پر مائل اور راغب ہوں۔

یہ ایک سراسر منفی، غیر قانونی اور غیر منصفانہ رجحان ہے ۔اس کو فوری طور پر روکنا اور بند کرنا اشد ضروری ہے۔ کیا متعلقہ جج صاحبان کو اپنے فرائض کی صحیح اور درست طورپر انجام دہی کا علم و تجربہ حاصل نہیں ہے؟ ان کی تقرری ضروری اہلیت اور قابلیت کا معیار، مطلوبہ درجے کی جانچ پڑتال کے بعد ہی کی جاتی ہے، لہٰذا ذرائع ابلاغ میں مروجہ عدالتی امور میں مداخلت سے بہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔

پاناما لیکس کے 436ناموں کی تعداد اب سرکاری طور پر 444بتائی گئی ہے۔ ان کے نام اور شناخت بھی ظاہر کئے جائیں، تاکہ اہل وطن کو پتہ چل سکے کہ وہ قانون شکن حضرات جن لیڈروں اور شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے تاحال سات ارب کی وصولی اچھی خبر ہے، لیکن قوم کو ان کی شناخت سے ضرور آگاہ کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم