بغاوت کے مقدمے محض ڈراوا، فضل الرحمن کا خادم رضوی کیساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان

بغاوت کے مقدمے محض ڈراوا، فضل الرحمن کا خادم رضوی کیساتھ مکمل یکجہتی کا ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے بغاوت کے مقدے صرف خوف دلانے کیلئے ہوتے ہیں،ہم تحریک لبیک اور علامہ خادم رضوی کیساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں،حکومت کی سو دن کی کارکر د گی مرغی سے شروع ہو کر’’ انڈے ‘‘پر ختم ہوتی ہے،حالات پر جلد قابو پانے اور مہنگائی کو وقتی قرار دینے والے وزیر اعظم خود ’’وقتی طور ‘‘ پر مستعفی ہو جائیں۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں انکامزید کہنا تھا غریب انسانیت آج کرب میں اور کراہ رہی ہے ،لوگ آج بے گھر اور در بدر ہو گئے ہیں ،جہاں انسانیت کو اس مقام پر پہنچایا جائے اور خود لگے ہوئے ہیں کوئی بھیک نہیں مل جائے گی،کیا ملکی معیشت بھیک پر چلتی ہے ؟ ملکی معیشت کو بھیک سے چلایا جارہا ہے ، غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہیں،حکمرانوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو گھر دیں گے لیکن آج کراچی سے لے کر چترال اور کوہستان تک جہاں چلے جائیں بھرپور طریقے سے تجاوزات اور اینکروچمنٹ کے نام پر لوگوں کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے اور انکی کارکردگی یہ ہے 100 دن ’’ہم مصروف تھے‘‘ مرغا مرغی کو ملاتے رہے اور انڈا پیدا کر تے رہے‘‘اس وقت امت کا ایک پیج اور ایک صف میں آنا ضروری ہے ۔بغاوت کے مقدمے کا آخری فیصلہ کیا ہو گا ؟پھانسی ہو گی نا تو ر سو ل اللہؐ کی ناموس پر امتی جان دینے کیلئے تیار ہے،کسی امتی کیلئے سب سے زیادہ آسان کام اپنے آقائے نامدار کی ناموس پر اپنی جان دینا ہے اور اگر یہ جان اور یہ زندگی اس راستے میں قبول ہو جائے تو اور کیا چاہئے۔احتجاجی دھرنوں میں املاک کے نقصان پر سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا کہناتھا کہ املاک کا نقصان فوجی آپریشنوں میں کتنا ہوا تھا ؟کتنے لوگوں کے دیہات اور گاوں کے گاوں برباد ہو گئے تھے ،ان کے بچے برباد ہو گئے تھے ،سالہا سال سے وہ لوگ آئی ڈی پیز کی شکل میں آج بھی نتائج بھگت رہے ہیں کیا اس وقت انسانیت کا خیال نہیں تھا ؟آج جب حکمران کیخلاف احتجاج ہوتا ہے اور لوگ سڑکوں پر آتے ہیں تو انہیں انسانیت نظر آ جاتی ہے ؟120 دن ڈی چوک میں جو آلودگی اور غلاظت پھیلائی جا رہی تھی اس وقت ان کو یہ گندگی اور غلاظت کیوں نظر نہیں آ رہی تھی ؟وہاں لوگوں کی زندگیاں برباد نہیں ہو رہیں تھی ،وہاں بازار بند نہیں رہے؟وہاں لوگوں کے کاروبار نہیں اجڑے ؟ جب ناموس رسالتؐ کے حق میں لوگ لوگ باہر آتے اور احتجاج ہوتا ہے تو یہ ساری چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -