کیا اسرائیل کے قیام میں سعودی عرب کا تعاون تھا؟

کیا اسرائیل کے قیام میں سعودی عرب کا تعاون تھا؟
 کیا اسرائیل کے قیام میں سعودی عرب کا تعاون تھا؟

  

14اکتوبر2018ء کو ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب کا روزنامہ پاکستان میں ایک مضمون شائع کیا گیاجس میں سعودی عرب کے حکمرانوں کے عقیدے اور اسرائیلی ریاست کی تشکیل میں ان کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے سعودی عرب کے صحیح عقیدے اور اسرائیلی ریاست کس کی ذہنیت اور ذہانت سے وجود میں آئی۔

اس کو ناقابل تردید سائنٹیفک طریقے سے ثابت کر دیا ہے تاکہ کوئی سعودی عرب کے خلاف ان کی اس خطرناک سازش سے غلط فہمی کاشکار نہ ہو سکے۔ انگریزوں نے ولندیزیوں پرتگیزیوں کے بعد اپنی طاقت کے زور پر فرانسیسیوں کو بھی ہندوستان سے نکال کر اس کے دونوں ساحلوں پر ان کی جگہ اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کر کے ہندوستان سے مسلمانوں کی حکومت ختم کی۔ ہندوستان سے لوٹی ہوئی دولت نے ان کی حرص اور برتری کے احساس میں خطرناک اضافہ کیا جس کے بعد وہ ایشیا اور افریقہ پر تجارتی تسلط کے لئے سلطنت عثمانیہ ختم کرنے کے خواب دیکھنے لگے جو ان کے نزدیک یورپی حریفوں کے مقابلے میں ہندوستان کی طرح آسان ہدف تھا جبکہ یورپی ممالک کے بارے میں ان کی پالیسی یہ تھی جس کا انکشاف ہٹلر نے اپنی خود نوشت میں کیا تھا کہ 300 سال سے انگلینڈ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ براعظم یورپ کے سارے ممالک اور ساری اقوام کو آپس میں برسرپیکار رکھ کر خاص توازن قوت پیدا کیا جائے یعنی وہ خود جب ساری دنیا پر اپنا تسلط اور پالیسی نافذ کرنے میں منہمک ہو تو اس کا عقب محفوظ رہے۔

یورپی ممالک میں انگریزوں کے راستے میں حقیقی بڑے حریف فرانس اور روس تھے۔ فرانس کو شکست دینے کے لئے انگریزوں نے جرمنوں کو اپنے خفیہ طریقوں اور مددسے جنگ کے لئے اکسایا۔ 1870ء میں جب جرمنی نے برطانیہ کے بڑے جنگی حریف فرانس کو شکست دے کر اس کے راستے سے ہٹایا تو برطانیہ نے مصر فتح کر کے نہر سویر پر قبضہ کر لیا جسے وہ اپنی تجارتی شہ رگ سمجھتا تھا جس کے بعد اس نے اپنے دوسرے خطرناک دشمن روس کو شکست دینے لئے جرمنی کی طرح جاپانیوں کو بھاری لالچ اور عسکری امداد دے کر 1905ء میں روس کو بحری جنگ میں عبرت ناک شکست دے کر روسی شہنشاہ زار نکولس کے خلاف انقلاب کا راستہ ہموار کر دیا۔ یہ بات الگ ہے کہ بعد میں وہی جرمنی اور جاپان اس کے لئے بھی بڑا خطرہ بنے۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے اپنے زیر اثر اتحادیوں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ کے ساتھ ترکی پر حملہ کیا تاکہ ترکی کو شکست دے کراور یورپی ممالک کو آپس میں برسر پیکار رکھ کر وہ مسلمانوں پر تنہا حکومت کر سکے جس میں اسے ترکوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی مگر پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد برطانیہ نے یورپی اتحادیوں سے مل کر 1922 میں عثمانی خلافت کا خاتمہ کر کے اور ترکوں کو لادینیت کی طرف دھکیل کر اپنی دانست میں اسلام کے خلاف بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی تھی مگر اپنی اس سیاسی ہوشیاری میں (فرعون کے ہاتھوں موسیٰ کی پرورش) وہ حجاز مقدس پر ایسے لوگوں کے اقتدار کا راستہ ہموار کر گیا جو ترکوں کے مقابلے میں کٹر مذہبی تھے۔ انگریزوں کو اپنی اس غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب عثمانی خلافت ختم کرنے کا نتیجہ ان کی توقعات کے برعکس ظاہر ہوا۔

اس وقت تک اسرائیلی ریاست نہ تو کسی کے تصور میں تھی اور نہ کسی کو اس کی ضرورت تھی اسرائیلی ریاست بنانے کا فیصلہ انگریزوں کا تھا جو انہیں 1915ء میں نہیں جیساکہ قادیانیوں کی طرف سے دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کرنا پڑا تھا کیونکہ برطانیہ کے ہندوستان سمیت اپنی نو آبادیات سے شرمناک انخلا کا فیصلہ اسی وقت ہو گیا تھا جب روس کے کمیونسٹوں نے یورپ کے فاتح جرمنی کو جنوری 1943ء میں شکست دی تھی جس کے بعد وہ برلن تک پہنچ گئے تھے۔

برطانیہ کے ہندوستان سمیت اپنی نو آبادیات سے انخلا کا جو خفیہ ریکارڈ اپریل 2012ء میں ایک عدالتی حکم کے ذریعے عوام کے لئے کھولا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی انخلا کی اصل وجہ کیا تھی اور لوگوں کو کیا بتلائی جاتی رہی۔

برطانیہ کو اسرائیلی ریاست بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ایشیا اور افریقہ کے تمام تجارتی آبی راستوں پر مسلمان حکومتیں ہیں۔ ان آبی راستوں پر اپنی تجارت کے تحفظ کی خاطر برطانیہ نے امریکہ وغیرہ سے مل کر فوجی اڈے قائم کئے تھے۔ نہر سویز ان میں سے سب سے اہم ہے جہاں برطانیہ جبرالٹر کی طرح اپنا فوجی اڈا قائم کرنا سب سے ضروری سمجھتا تھا لیکن روس چونکہ دوسری جنگ عظیم میں یہ ثابت کر چکا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت اب وہ ہے اس لئے برطانیہ کے لئے نہ تو ایسا کوئی اڈا قائم کرنا ممکن تھا اور نہ اس کا فوجی استعمال اس لئے مسلم دنیا کے وسط میں برطانیہ نے اپنا یہ تجارتی سیاسی اور فوجی مقاصد کے لئے اڈا کمیونسٹوں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے یہودیوں کے ایک ملک کی صورت میں بنا کر یہودیوں کو وہاں تحفظ اور بھاری لالچ دے کر اپنے خفیہ طریقوں سے آباد ہونے پر مجبور کیا اور دنیا کو یہ دھوکا دینے کی کوشش کی کہ یہودیوں نے وہاں بیت المقدس کی وجہ سے ایسا کیا جبکہ یہ صرف انگریزوں کی سٹرٹیجک سازش تھی برطانیہ نے خلافتِ عثمانیہ ختم کر کے ترکوں کو مذہب سے دور کر کے اپنے خیال میں جو عظیم کامیابی حاصل کی تھی وہ اس وقت ناکامی میں تبدیل ہو گئی جب تیل کی تجارت برطانیہ کے کنٹرول سے نکل کر مسلمانوں کے ہاتھ آئی اور سعودی عرب کی کٹر مذہبی حکومت کے پاس زبردست معاشی قوت کے ساتھ مسلم دنیا کی قیادت بھی آ گئی جس میں برطانیہ کو سلطنت عثمانیہ سے بڑا خطرہ نظر آنے لگا تو برطانیہ نے سعودی عرب پر اپنی کٹھ پتلی مذہبی حکومت لانے کا فیصلہ کیا اوراس سازش کی ضرورت کے تحت 1974 میں ایک کتاب ’’دی کریش آف 79‘‘ لکھی گئی جس میں ایران عراق جنگ کرانے کی سازش کو پانچ سال پہلے اس کتاب میں لکھ دیاگیا تھا۔

ماہانہ قومی ڈائجسٹ نے اس کا ترجمہ اکتوبر1978ء میں شائع کیا اور اس کے مترجم نے ابتدا میں ہی لکھ دیا کہ یہ کتاب شاہ ایران کے خلاف مغرب کی کوئی سازش ہے۔ انقلاب ایران کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے خفیہ ریکارڈ اور ان کے خفیہ کردار پر ایک ضخیم کتاب شاہ ایران کی آخری سواری جسے ولیم کراس نے لکھا اور قومی ڈائجسٹ نے 14 قسطوں میں اسے شائع کیا۔ اگست 1989ء کو اس کی پہلی قسط میں صفحہ 83 پر لکھتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ بھی شاہ کو ملک بدر کرنے کے حق میں ہیں۔

شاہی دربار سے منسلک اکثر لوگوں کی رائے بھی یہی ہے کہ اگر خمینی کی پشت پر برطانیہ نہ ہوتا تو بی بی سی شاہ کے خلاف ان پر شدید نکتہ چینی اور بغاوت کو دعوت دینے والی تقریروں کو اس شدومد سے نشر نہ کرتا ہر شخص اس ضرب المثل کو دہرا رہا ہے کہ اگر آپ کسی ایرانی ملا کی داڑھی اٹھا کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس کی ٹھوڑی پر میڈ ان برطانیہ کی مہر لگی ہوئی ہے۔

برطانیہ اورامریکہ کا اتفاق رائے سے سعودی عرب پر اپنا مذہبی پٹھو بٹھانے کا منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب 1986ء میں امام خمینی کے جانشین آیت اﷲ منتظری کے داماد مہدی ہاشمی جنہیں ایرانی برانڈ اسلام زبردستی سعودی عرب میں برآمد کر نے کی مہم کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ انہیں ایرانی حکومت نے موت کی سزا سنا دی۔

ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے شام کی حکومت کے ناظم الامور پر تشدد کر کے اس سے یہ راز اگلوا لیا تھا کہ اسرائیل کے ذریعے آنے والے امریکی اسلحے کو ایرانی حکومت کی منظوری حاصل ہے اور امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیرمیکفالین تہران کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہیں امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو مہدی ہاشمی کی حراست سے چھڑا کر مہدی ہاشمی کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں ایرانی سپیکر ہاشمی رفسنجانی کے امریکہ سے براہ راست ہدایات لینے اور ایران کو امریکی اسلحہ کا راز فاش کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی۔

بحوالہ روز نامہ جنگ 29ستمبر1987سعودی عرب پر عراق کے ذریعے حملے کی وجہ بھی یہ تھی کہ 1987ء میں سوویت یونین نے جنرل ضیاء کی تمام شرائط مان کر افغانستان چھوڑنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے ہر طرح کی امداد کا لالچ دے کر جنرل ضیاء کو وہاں مجاہدین کی حکومت بنانے سے روکنے کی کوشش کی کیونکہ ان کے نزدیک مجاہدین کی طاقتور حکومت سعودی عرب کے لئے مستقبل کی ایسی قوت تھی جو اس کے اشارے پر ایرانی حکومت کا گلا گھونٹ سکتی تھی۔

جنرل ضیا نے امریکہ کے اس مطالبے کو بڑے سخت اور جارحانہ انداز میں مسترد کیا سوویت یونین نے جنرل ضیا کے اس دلیرانہ فیصلے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ پاکستان عربوں کی مالی مدد سے اپنے دفاع میں خود کفیل اور جوہری قوت بن کر امریکی دائرہ اثر سے نکل چکا ہے۔ اس لئے وہ وقت اب گیا جب بڑی طاقتیں ان کے فیصلے لندن، پیرس، ماسکو یا واشنگٹن میں کیا کرتی تھیں۔ جنرل ضیاء نے یہ کامیابی امریکہ کی افغان جنگ سے ہی حاصل کی تھی جس پر امریکہ آج تک اپنا سر پیٹ رہا ہے۔

10 ستمبر2017ء کو اس پر بی بی سی نے کہا تھا کہ امریکہ کی یہ کوشش تھی کہ پاکستان جیسے ملک کو یا تو اپنا مکمل باجگزار بنا کر رکھے یا کم از کم اتنا محتاج رکھے کہ بوقت ضرورت اسے بلیک میل کر کے یا طاقت کے زور پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکے مگر افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان اس کے اثر سے نکل گیا کیونکہ امریکہ روس اور افغان جنگ میں پاکستان کو افغانستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا جو اب میں پاکستان نے امریکہ کو ہی روس کے خلاف استعمال کر لیا اور اس جنگ کی آڑ میں اپنا جوہری پروگرام مکمل کر لیا جس پر امریکہ آج تک اپنا سر پیٹتا ہے چونکہ جنرل ضیا نے انجانے میں میڈیا پر یہ مکمل وضاحت کر دی تھی کہ افغان مسئلہ میں امریکہ کو ان کے سخت جواب میں انہیں سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی جس پر امریکہ اور برطانیہ نے جنرل ضیا اور سعودیوں کو اقتدار سے اورپاکستان کو جوہری قوت سے جلد از جلد محروم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے بعد آسانی سے افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کا راستہ روک سکیں۔ سعودی عرب پر ناکام عراقی حملے اور جمہوری تبدیلی کی کئی ناکام خفیہ سازشوں کے بعد برطانیہ اور امریکہ نے سعودی عرب کے گرد شام عراق اور یمن میں محاذ بنا کر تیسری عالمی جنگ کی ایک بڑی سازش تیار کی۔

اس سازش پر سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بج چکا ہے اور جو اسے سن نہیں رہے وہ بہرے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا آغاز ایران سے ہو گا جس کے نتیجے میں مسلمان راکھ میں تبدیل ہو جائیں گے۔

( 13 نومبر2017 روز نامہ پاکستان) ہنری کسنجر کا یہ دعویٰ کسی غلط فہمی پر نہیں سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ ان کے اس انکشاف سے ایک ماہ پہلے امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین بھی اس جنگ کے ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ امریکی صدرٹرمپ تیسری عالمی جنگ کی راہ پر گامزن ہیں ۔( روزنامہ پاکستان 11 اکتوبر2017) اس جنگ میں اب تک تاخیر کی وجہ پاکستان میں نواز حکومت تھی کیونکہ برطانیہ اور امریکہ اس جنگ کو تیسری عالمی جنگ کا رنگ دے کر اسی صورت میں مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ ایران کی پشت پر روس اور بھارت کو کھڑا رکھ کر پاک فوج کو سعودی عرب سے دور رکھ سکیں جو کہ طویل عرصہ افغان حالات سے لڑ کر دنیا کی صفِ اول کی فوج بن چکی ہے۔

نواز حکومت اس جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے میں امریکی اثر رسوخ سے آزاد تھی اور اس نے امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کا فائدہ اٹھا کر روس کو اپنے قریب کر لیا تھا جس سے روس کا سعودی عرب کے خلاف کسی بھی سرگرم کردار کا خطرہ کم ہو گیاتھا مگر اب برطانیہ اور امریکہ پاکستان پر مکمل طور پر اپنی مرضی کی حکومت لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ 1987ء میں ایران کے وزیراعظم موسوی نے یہ بیان دیا تھا کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں وہ بھارت کا ساتھ دیں گے۔

افغانستان میں انہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر مجاہدین کے اقتدار کا راستہ روک کر وہاں بھارت نواز حکومت بنوائی۔ 2003ء میں ایران بھارت معاہدے میں یہ بات موجود ہے کہ پاک بھارت جنگ میں ایران بھارت کا ساتھ دے گا۔ ان ممالک کی دوستی میں اگر کوئی حقیقی قرابت ہوتی تو ایران ایٹمی ٹیکنالوجی بھی بھارت سے حاصل کرتا پاکستان کو ایٹمی قوت سے محروم کرنے کی امریکی سازش کا حصہ نہ بنتا سی پیک کے خلاف بھی چاہ بہار میں اسے برطانیہ اور امریکہ نے ہی بھارت کے ساتھ مشترکہ راہداری بنانے پر مجبور کیا تھا یہ ممالک تیسری عالمی جنگ کے لئے سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان ایران افغانستان اور بھارت پر مشتمل سہ ملکی بلاک بنا چکے ہیں۔اور اس بلاک کی پشت پر روس کو کھڑا کرنے کے لئے ان ممالک نے ایک بار پھر بھارت کو روس کے ساتھ 20 سے زائد دفاعی ، جوہری توانائی ، خلائی تحقیق اور تجارتی معاہدوں میں جکڑ دیا ہے۔

قادیانی جماعت کی طرف سے ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب کا یہ مضمون جس میں انہوں نے اسرائیل کو بنانے میں سعودی عرب کے تعاون کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب برطانیہ اور امریکہ خشوگی کا قتل سعودی عرب کے سرمنڈ کر میڈیا کو ان کے خلاف اپنا ہتھیار بنا کرسعودی عرب کو ایک بدمعاش اور سفاک ریاست ثابت کرنے کے لئے اپنے تمام حربے استعما ل کر رہے ہیں۔

حالانکہ خشوگی کا قتل ان کی سیاسی ضرورت اور سازش سے زیادہ کچھ نہیں۔ایسے میں سعودی عرب کے خلاف یہ مضمون اسی سازش کا حصہ ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ ایسے مذاہب کی پرورش اور ان کو استعمال کس مقصد کے لئے کرتا ہے۔

برطانیہ اور امریکہ انتہائی سوچ بچار کے بعد اپنے تمام سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے خلاف اپنے مصنوعی حربوں سے جس تیسری عالمی جنگ کی تیاری کر چکے ہیں اسے روکنا اب بے انتہا مشکل ہے۔ اس جنگ میں ان ممالک کا جنگی ہدف عسکری لحاظ سے کمزور عرب ریاستیں ہی نہیں بلکہ فوجی لحاظ سے مضبوط مسلمان ملک ترکی، مصر اور پاکستان بھی ہیں۔ بھارت کا دفاع امریکہ یورپ اور روس کی طرف سے کرنے کے تمام انتظامات کر لئے گئے ہیں مگر پاکستان کے فوجی صنعتی بیس اور جوہری تنصیبات کو جسے جنرل ضیا نے افغان جنگ کی آڑ میں امریکہ کو دھوکا دے کر بنالیا تھا اسے بچانا موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں۔

اسے بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس جنگ کو ہونے سے روکنے کی بروقت کوشش کی جائے جس کے لئے پاکستان میں امریکی اور برطانوی اثر رسوخ سے آزاد سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی اور پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو بھی اپنا مستقبل بچانے کے لئے جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -