100دن یا ایک سال

100دن یا ایک سال
100دن یا ایک سال

  

برسر اقتدار آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پریس سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ حکومت کو 100 دن دیں اس کے بعد اس کا محاسبہ کریں۔ یہ مطالبہ بیک وقت آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔ آسان اِس لئے کہ 100 دن کوئی زیادہ لمبا عرصہ نہیں،بلکہ 100 دنوں کا تو پتہ بھی نہیں چلے گا،لیکن مشکل اس لئے کہ میڈیا ان 100دِنوں میں اگر حکومت کی خبر نہ دے تو کیا کرے۔

اس نے تو اپنی دکان چلتی رکھنی ہے، لہٰذا اینکر حضرات تو حکومت کے حق اور مخالفت میں روز فیصلے سناتے رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ 100 دن ایک بالکل نئی حکومت کے لئے بہت کم ہیں۔ یہ 100 دن کا آئیڈیاہم نے یورپ سے لیا ہے، جہاں حکومتوں کی تبدیلی ایک روٹین کا عمل ہوتا ہے اور ملک اپنے بنیادی مسائل بہت پہلے حل کر چکے ہوتے ہیں وہاں نئی حکومت نے کوئی انقلاب نہیں لانا ہوتا۔پالیسیوں میں چھوٹی موٹی تبدیلیاں کرنی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو انتخابات اگر ہوں تو شکوک و شبہات کی فضاء میں ہوتے ہیں۔

انہی انتخابات کو یاد کر لیتے ہیں۔ماہرین کے تبصرے کہ انتخابات نہیں ہوں گے،بلکہ تین سال کے لئے ایک نگران حکومت بنے گی وہ سیاسی شعبے میں صفائی کرے گی تاکہ مثبت نتائج نکل سکیں۔بھل صفائی کا عمل ہمارا قومی مشغلہ ہے ہم ہر آٹھ دس سال بعد کرتے ہیں نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے، یعنی کاروبار حکومت اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ ان انتخابات کے موقع پر تو کئی ماہرین فلکیات کی پیشین گوئی تھی کہ انتخابات نہیں ہوں گے،بلکہ خون خرابہ ہو گا اور کئی اہم لوگ قتل ہو جائیں گے۔

اِن حالات میں جو حکومت برسراقتدار آئی ہے اُس کے لئے 100 دن بالکل ناکافی ہیں اس کے لئے ایک سال ہونا چاہئے،لیکن ظاہر ہے ہمیں مغرب کی نقل کرنی ہوتی ہے، نقل بھی ہم نے 10میں سے ایک اصول کی کرنی ہوتی ہے اور اس میں بھی ہمیں ناکامی ہوتی ہے۔

لوگ عمران خان کو وقت اور غلطیوں کا الاؤنس دینے پر تیار ہیں وہ 100دن کی کارکردگی پر حکومت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کریں گے،اُنہیں احساس ہے کہ اتنے مشکل حالات میں اتنے کم وقت میں کسی جادو کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔بہرحال چونکہ وزیراعظم نے خود یہ چیلنج قبول کیا ہے تو اتنے ہی وقت میں اُن کی حکومت کی کارگزاری کا کچھ تجزیہ کرنا ہی پڑے گا۔ پہلی بات یہ کہ تحریک انصاف کی ایک پارٹی کی حیثیت سے نظریاتی سمت واضح نہیں تھی۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہمارے ہاں لیفٹ کی پارٹی تصور کی جاتی ہے اور مسلم لیگ (ن) رائٹ کی۔ تحریک انصاف کی تشکیل بقول ایک حکومت کے حلیم کی طرح ہوئی تھی۔ مختلف پارٹیوں اور مختلف مکتبہ ہائے خیال سے طرح طرح کے مصالحے اس میں مکس کئے گئے اس کی پہچان کوئی نظریہ نہیں،بلکہ عمران خان کی ذات تھی۔

خود عمران خان کی شخصیت بھی بہت اُتار چڑھاؤ سے گزری ہے بہرحال ایسا لگتا ہے کہ کم از کم مختصر عرصے میں اس کی نظریاتی شناخت کا کچھ سراغ مل گیا ہے۔ حال ہی میں تحریک لبیک نے آسیہ کیس کے سلسلے میں جو تحریک چلائی تھی اور جس میں سپریم کورٹ اور آرمی چیف کے بارے میں اشتعال انگیز باتیں کی گئی تھیں۔ اُس پس منظر میں عیدمیلادالنبیؐ کے سلسلے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی گئی اور اُس میں جو تقریریں ہوئیں اُن سے یہ اشارہ ملا کہ تحریک انصاف کو دائیں بازو ہی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

اب پتہ نہیں یہ کوئی سوچی سمجھی پالیسی تھی یا مخصوص حالات کے پیش نظر ایک اضطراری عمل تھا۔ بہرحال اس سے یہی پتہ چلا کہ دوسری جماعتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی مذہبی طبقے کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی۔

ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان میں کچھ چیزیں مشترک ہیں وہ بھی میدان سیاست میں بڑے بڑے کھلاڑیوں کو شکست دے کر برسراقتدار آئے تھے اور یہی عمران خان نے کیا۔ بھٹو نے نیا پاکستان کا نعرہ لگایا تھا اور اب عمران خان بھی نیا پاکستان بنانے میں مصروف ہیں، لیکن ایک خطرناک چیز بھی دونوں میں مشترک ہے وہ ہے سیاسی تنہائی۔ بھٹو اپنی ساری ذہانت کے باوجود اپنی پالیسیوں کے نتیجے میں میدان سیاست میں تنہا رہ گئے تھے اور یہ اُن کی بہت بڑی کمزوری تھی۔ تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف تھیں اور بھٹو دوسری طرف۔ جب بھی تمام سیاسی پارٹیاں اگر کسی حکومت کے خلاف اکٹھی ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ حکومت کے دن تھوڑے ہیں لہٰذا عمران خان کو اس ناخوشگوار سیاسی سچائی کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

اگر انہوں نے زیادہ دیر اپوزیشن کی طرف جارحانہ رویہ جاری رکھا تو اس کی قیمت انہیں دینی پڑے گی۔یہ کسی بھی حکومت کی سیاسی مجبور ی ہوتی ہے کہ ماحول میں تلخی کم ہو اور کسی حد تک بنیادی مسائل کے حل پر اتفاق رائے کی فضاء ہو۔

حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اقتصادی بحالی کا تھا اُس میں چند دوست ممالک نے مدد کی ہے، لیکن اُس امداد سے ہماری معیشت پر مثبت اثرات ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے،بلکہ منفی رجحانات ہی حاوی ہیں۔ تین ماہ میں حکومت آئی ایم ایف سے پیکیج کے معاملے پر بھی فیصلہ نہیں کر سکی۔جب حکومت کے کسی ذمہ دار سے ان معاملات پر سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں صورتِ حال کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔

عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ وہ سو قابل اور ایماندار آدمی لائیں گے اور قومی ادارے اُن کے حوالے کر دیں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا،لیکن وہ سو آدمی ابھی تک کہیں نظر نہیں آئے، جو چند ایک آئے تھے وہ بھی کام کے نہ نکلے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔

مَیں نے تو ایک پچھلے کالم میں عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہر بات میں برطانیہ کی مثال لے آتے ہیں انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ بھی اپنی شیڈول لسٹ کا اعلان کریں اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ٹیم لوگوں کے سامنے ہو۔ہر منسٹر اپنی وزارت کے بارے میں پوری تیاری رکھے، لیکن ہم یورپ کی مثالیں دیتے وقت اپنے معروضی حالات بھول جاتے ہیں دراصل ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام بڑی پارٹیاں اپنے تھنک ٹینک قائم کریں۔

اب تک پارٹیاں شخصیت پرستی پر چل رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ان میں انتظامی او رپالیسی اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ ان کا شخصی کریکٹر بدل سکے۔

سیاسی نظام میں پارلیمینٹ ایک بہت اہم ادارہ ہے۔ پارلیمینٹ میں حکمران پارٹی کو بہت تھوڑی عددی اکثریت حاصل ہے۔ تین ماہ میں نئی پارلیمینٹ مکمل طور پر فنکشنل نہیں ہو سکی،قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل نہیں ہو سکی، وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہفتے میں دو دن پارلیمینٹ میں سوالوں کے جواب دیں گے اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی۔

مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لئے ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں اُن کی رپورٹیں آئیں گی اور پھر ان رپورٹوں پر عمل ہو گا تو پتہ چلے گا کہ حکومت کہاں کھڑی ہے۔ عملدرآمد کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ بیورو کریسی خصوصاً پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد کرنے اور میرٹ نافذ کرنے کے بلند و بانگ دعوؤں کے معاملے میں حکومت اب تک ناکام ہوئی ہے۔

عمران خان نے قوم کو باور کرایا ہے کہ کرپشن پاکستان کا مسئلہ نمبر 1 ہے۔ یہ بات بھی سو فیصد درست نہیں ہے یقیناًکرپشن ایک اہم مسئلہ ضرور ہے،لیکن اِسے اتنا اُچھالا گیا ہے کہ سیاستدان مجموعی طور پر بدنام ہوئے ہیں اور اِس شور میں دوسرے بہت سے اہم مسائل پس پشت چلے گئے ہیں اور پھر کرپشن کے معاملے میں سارا زور سیاسی مخالفین پر ہے۔ کرپشن تو ہر جگہ اور ہر دفتر میں ہے۔

عمران خان نے کرپشن کے خلاف عمومی اظہارِ خیال کبھی نہیں کیا، مثلاً ایل ڈی اے یا سی ڈی اے ، محکمہ مال اور انجینئرنگ کے شعبے میں کیا کرپشن نہیں ہے، کیا اس سے عام آدمی خوش ہے، لیکن اس سلسلے میں حکومت مکمل خاموش ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو سیاست کے علاوہ زندگی کے باقی شعبوں میں کرپشن قبول ہے۔ کرپشن دُنیا کے بہت سے ممالک میں ہے۔ کیا بھارت میں کرپشن کم ہے، لیکن وہاں تو جی ڈی پی کی گروتھ 8 فیصد کے قریب ہے اور مُلک ترقی کر رہا ہے۔

البتہ عمران خان نے کچھ غیرروایتی شعبوں پر توجہ دی ہے اس کی داد دینی چاہئے، مثلاً سیاحت ، شجرکاری اور خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ ان شعبوں کو ماضی کی حکومتوں نے نظرانداز کیا تھا۔ بچت کی کوششوں کی بھی تعریف کی جانی چاہئے۔

اس سے فوری طور پر کوئی تبدیلی تو نہیں آنے لگی تاہم فضول خرچی کے رحجان کی حوصلہ شکنی بہت اچھی بات ہے۔ خارجہ پالیسی میں بھی ابتداء میں کی گئی کچھ غلطیوں کے باوجود مجموعی تاثر بہتر ہے خصوصاً کرتارپور کوریڈور کھولنے کے بعد حکومت سے اچھی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -