کرپشن، اشرافیہ اور عوام

کرپشن، اشرافیہ اور عوام
کرپشن، اشرافیہ اور عوام

  

یہ پروپیگنڈہ بھی اشرافیہ کی سازش ہے کہ مُلک میں ’’آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے‘‘۔۔۔جن غریبوں کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکلے ہیں، اُن کی شرافت کا یہ عالم ہے کہ پیسوں کا سُن کر اُن کے ہوش اُڑ گئے،لیکن اشرافیہ کے جن شہ دماغوں نے اُن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی،وہ اپنے ہوش و حواس کے ساتھ زندہ و سلامت ہیں۔

آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے،والے جملے سے پہلا تاثر اُبھرتا ہے جیسے ہم قومی سطح پر انحطاط کا شکار ہیں اور من حیث القوم ایک زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں،حالانکہ ایسا نہیں۔معاشرے میں انحطاط کی روش ضرور موجود ہے اور عام بھی ہو رہی ہے،لیکن وہ اجتماعی نہیں،معاشرے میں اب بھی اخلاقی اقدار زندہ ہیں اور برائی کے خلاف قوم کے اندر فطری نفرت اور ردعمل بھی موجود ہے۔زوال کی سب سے عمومی صورت وہ کرپشن ہے،جو سرکاری دفاتر،کاروباری حلقوں اور متعدد طبقوں کی طرف سے کی جاتی ہے۔

یہ کرپشن عموماً قومی خزانے کی لوٹ مار، منی لانڈرنگ، رشوت اور ملاوٹ کی شکل میں ہوتی ہے،ایسا کرنے والے قومی آبادی کا شاید پانچ فیصد بھی نہیں، لیکن چونکہ اُن کی کرپشن کا دائرہ پورے معاشرے پر محیط ہوتا ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ قومی وسائل اور 95فیصد آبادی کو دسترس میں رکھتے ہیں،اِس لئے روزانہ چلنے والی بریکنگ نیوز سے عام آدمی کو یوں لگتا ہے کہ پوری قوم کرپٹ ہو گئی اور ہم اخلاقی زوال کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔

اس تاثر کا سب سے زیادہ فائدہ اُس طبقے کو ملتا ہے،جو درحقیقت اس اخلاقی انحطاط کا ذمہ دار ہے ۔وہ اس تاثر میں خود کو چھپا کر اپنا کام جاری رکھتا ہے،جبکہ قوم یہ سمجھتی ہے کہ ہم سب کرپٹ ہیں، اِس لئے کسی کرپٹ کو کیا پکڑیں۔

اس مُلک کے کروڑوں کسان، مزدور، سفید پوش مڈل کلاسیئے، چھوٹے موٹے دکاندار، قلم پیشہ ہنر مند،اساتذہ اور فنکار کرپٹ نہیں، کیونکہ کرپشن اُن کی زندگی کا چلن ہی نہیں۔ وہ تو صرف کرپشن کے جبر کا شکار ہیں۔ میرے نزدیک اجتماعی اخلاقی انحطاط کا پروپیگنڈہ اِس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کرپٹ مافیا،جس نے معاشرے میں کرپشن کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کئے اور اُس پر قابض ہو گیا، اپنے اعمال پر پردہ ڈال سکے۔ ایک عام پاکستانی کا دِل اِس لئے بھی خون کے آنسو روتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان ایک کرپٹ مُلک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

جب سے وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی اشرافیہ کے بیرون مُلک موجود کھربوں روپے کے اثاثوں کا ذکر کرنا شروع کیا ہے، روٹی دال کو ترستے عوام یہ سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں کہ غربت ہمارا مقدّر کیوں ہے؟ یہ سب کیسے اتنے امیر ہو گئے ہیں۔کرپٹ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کی وجہ سے پاکستان جتنا بدنام ہوا ہے، اُس میں ایک عام پاکستانی کا کوئی کردار نہیں،حالانکہ عام پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

درحقیت وہی اس مُلک کے مالک ہیں،مگر انہیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ وہ اندرون و بیرون مُلک محنت مزدوری کر کے پاکستان کو چلاتے ہیں،مگر ان کا اربوں روپیہ چوری ہو کر دوبارہ بیرون مُلک چلا جاتا ہے۔ لوٹنے اور لٹنے والوں میں زمین آسمان کا فرق ہے،مگر جب کرپشن کی بات ہو تو تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ پورا پاکستان ہی کرپٹ ہے۔کس کس کو ٹھیک کیا جائے۔

آپ کسی عام پاکستانی سے ملیں،وہ آپ کو کرپشن کے خلاف کڑھتا نظر آئے گا۔پچھلے کچھ عرصے میں چونکہ کرپشن کی باتیں بہت ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں،اِس لئے کرپشن کا ذکر اب ہمارے معاشرے میں جزو لازم بنا ہوا ہے،اس کے خلاف ہر شخص صدائے احتجاج بھی بلند کرتا نظر آئے گا،مگر اجتماعی آواز کہیں نہیں ملے گی،کیونکہ اشرافیہ کے ٹھیکیداروں نے بڑی صفائی سے عوام کو تقسیم کر رکھا ہے۔

اب تو سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی کے کئی کرپٹ کردار بھی قانون کے شکنجے میں آئے ہوئے ہیں،تاہم پھر بھی بڑی مہارت سے کرپشن کے خلاف کسی بھی کارروائی کو سیاسی انتقام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

معاشرے میں آوے کا آوا ہر گز نہیں بگڑا،بلکہ آبادی کے مراعات یافتہ قلیل سے طبقے نے بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔اگر اس طبقے کا صحیح معنوں میں احتساب کیا جائے تو کرپشن اور اخلاقی انحطاط کی مکروہ چادر معاشرے کے وجود سے اُتاری جا سکتی ہے۔

پاکستان میں کرپشن کی روایت کا آغاز اوپر سے ہوا ہے،عوامی نمائندوں، بیورو کریٹس، بڑے صنعت کاروں،جرنیلوں،ججوں اور ملکی وسائل پر قابض دیگر اقلیتی طبقوں کے افرادنے ہی اس کا آغاز کیا، بلکہ اس میں ملوث ہو کر نہ صرف قانون کو بے اثر بنایا،بلکہ ایک دوسرے کو تحفظ بھی دیا۔

گویا مُلک میں ایک ایسا طبقہ وجود میں آ گیا، جو عوام دشمن تھا اور جس کا مقصد قومی وسائل پر اجارہ داری حاصل کر کے قوم کو محکموم رکھنا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی طبقے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں، جو کرپٹ نظام پر کڑھتے ہیں،اسے بدلنا چاہتے ہیں، مگر پھر مصلحتاً خاموش ہو جاتے ہیں۔

اب بڑے زور و شور سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان بدل گیا ہے، تبدیلی آ چکی ہے، اب وہ سب نہیں ہو سکے گا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو کیسے کیسے خواب دکھا دیئے ہیں، ایک خواب یہ بھی ہے کہ پاکستان پر سے کرپشن کا داغ دھو دیا جائے گا،دُنیا میں گرین پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔26ممالک سے لوٹ مار کی دولت واپس لانے کے معاہدے ہو چکے ہیں، مُلک کی دولت بیرون مُلک لے جانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، تاہم عوام کو اب تک یقین نہیں آ رہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو بھی سکے گا یا نہیں۔

احتساب کا عمل تو کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے۔ایک پیسہ ابھی تک واپس خزانے میں نہیں آیا،جس بندے پر ہاتھ ڈالا جائے وہ حاجی نمازی ہونے کی صفائیاں دینے لگتا ہے۔ ایک طرف دُنیا کے کرپشن میں مبتلا ممالک کی صف اول میں کھڑا پاکستان اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ ڈھونڈو تو کوئی کرپٹ بندہ نہیں ملتا۔ ایک طرف آوے کا آوا بگڑا ہونے کی گردان کی جاتی ہے تو دوسری طرف دور دور تک کوئی کرپٹ بندہ نہیں ملتا۔یہ گورکھ دھندہ آخر ہے کیا۔

یہ کون سی جادو کی چھڑی ہے، جسے گھما کر اشرافیہ سارے قانونی اداروں کو اندھا کر دیتی ہے، عوام آج بھی کرپشن کے خلاف ہیں اور اسے ایک برائی سمجھتے ہیں۔ایک ایسی برائی جو نہ صرف اُن کے اسلاف کی روایات کے خلاف ہے،بلکہ اُن کے دین سے بھی متصادم ہے۔

عوام آج بھی اس مسیحا کی راہ دیکھ رہے ہیں،جو کرپشن کی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے،قوم کے اجتماعی طور پر اخلاقی انحطاط کا شکار نہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی مُلک کا ہر سیاسی رہنما عوام میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی، حتیٰ کہ وہ بھی جو گوڈے گوڈے کرپشن میں ڈوبے ہوتے ہیں یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ خود اشرافیہ کو بھی اِس بات کا علم ہے کہ عوام کسی کرپٹ رہنما کو قبول نہیں کرتے،اِس لئے ہر کوئی خود کو پارسا ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش میں لگا رہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ کھیل آخر کب تک چلے گا۔ لوگ اب یہ مطالبہ بھی کرنے لگے ہیں کہ پاکستان میں احتساب کا سعودی پرنس سلمان والا قاعدہ استعمال کیا جائے، تمام کرپٹ افراد کو گرفتار کر کے ایک جگہ بند کر دیا جائے اور جب تک وہ لوٹی ہوئی دولت واپس نہ لائیں، رہائی نہ ملے،لیکن پاکستان میں ایسا ممکن نہیں، نہ تو یہاں بادشاہت ہے اور نہ ہی سعودی عرب جیسا عدالتی نظام، یہاں تو سب کچھ آئین کی چھتری تلے چلتا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ احتساب کے عمل کو تیز رفتار بنانے کے لئے قانون سازی کی جائے، جو رکاوٹیں اور سقم ہیں انہیں دور کیا جائے۔

احتساب جب چلنے کی بجائے رینگے گا تو کرپٹ افراد انتقام اور مظلومیت کا واویلا کریں گے۔ دُنیا بھی ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور ایک طرف پاکستان کا وزیراعظم بیرون مُلک کرپشن کی وجہ سے معیشت کی تباہی کا ذکر کرتے ہلکان ہو رہا ہے اور دوسری طرف مُلک میں کسی کرپٹ کو سزا نہیں ہو رہی، کیا یہ بھی اشرافیہ کی کوئی گہری چال ہے؟

مزید :

رائے -کالم -