روس اور سعودی عرب خام تیل کی پیداوار میں کمی کے نئے معاہدے پر رضامند

روس اور سعودی عرب خام تیل کی پیداوار میں کمی کے نئے معاہدے پر رضامند

بیونس آئرس (اے پی پی) روس اور سعودی عرب نے خام تیل کے تیزی سے گرتے نرخوں کے باعث پیداوار میں کمی کے نئے معاہدے بارے رضامندی ظاہر کی ہے۔یہ رضامندی بیونس آئرس میں جاری جی۔ 20 ممالک کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دوران ہونے والی بات چیت کے دوران ظاہر کی گئی۔ملاقات کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ ان کی شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ خام تیل کی پیداوار میں کمی کے حوالے سے بات چیت مثبت رہی اور دونوں ممالک کی قیادت میں تیل کی عالمی مارکیٹ میں تیزی سے گرتی قیمتوں کے باعث اس کی پیداوار میں کمی بارے متفق ہے جس پر اوپیک کے آئندہ اجلاس میں غور کیے جانے کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے کوئی جلدی نہیں لیکن مارکیٹ کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس حوالے سے کسی نئے معاہدے کی منظوری دی جانی چاہیے ۔ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ان کا ملک 2014 ء سے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) سے تعاون کررہا ہے جس کا مقصد خام تیل کے گرتے نرخوں کو روکنے کے لیے تکنیکی معاونت ہے۔رواں سال اکتوبر میں خام تیل کے نرخ 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اب تک ان میں 30 فیصد کے قریب کمی آچکی ہے جس کی وجہ عالمی معاشی سرگرمیوں میں سستی کے باعث تیل کی طلب میں کمی ہے، تاہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

مزید : کامرس