پاکستانی مصنوعات کی طلب بڑھانے کیلئے سفارشات تیار ہونگی‘ احمد حسن

پاکستانی مصنوعات کی طلب بڑھانے کیلئے سفارشات تیار ہونگی‘ احمد حسن

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سی پیک اور آر اینڈ ڈی بارے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین انجینئر احمد حسن نے چوتھے عالمی صنعتی انقلاب کی روشنی میں پاکستان کی صنعتوں کی ترقی کیلئے حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب کو بڑھانے کیلئے قابل عمل سفارشات تیار کی جائیں گی۔ کمیٹی کے پہلے باضابطہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ ساتھ ملکی تحقیقی اداروں کی تمام تر توجہ نئی ٹیکنالوجی کی تیار پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ مجتبیٰ حسن بہت جلد چوتھے عالمی صنعتی انقلاب بارے ایک معلوماتی لیکچر دیں گے۔ انجینئر احمد حسن نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے موجودہ معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی زور دیا تاکہ آئندہ کیلئے قابل عمل اور نتیجہ خیز حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ کی فوری آبادکاری کیلئے ضروری ہے کہ سرمایہ کاروں کو معلوم ہو کہ موجودہ ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ سی پیک کے سپیشل اکنامک زون کا حصہ ہے یا صرف مجوزہ اضافی تین ہزار ایکڑ پر مشتمل علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ہی اس کا حصہ ہو گا۔ اسی طرح چینی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ملنے والی سہولتوں اور مراعات کا بھی تقابلی جائزہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے متعلقہ سٹاف کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک کے تمام منصوبوں کی جامع فہرست تیار کرے جن میں ہر منصوبے کیلئے مختص رقم اور اس کی موجودہ حیثیت بارے مکمل معلومات شامل ہوں۔مزید برآں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ چین کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ موجودہ درآمدات کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے بھی ضروری اقدامات اٹھائے جا سکیں۔انجینئر احمد حسن نے مزید بتایا کہ ینگ انٹرپرینوئر فورم کو مزید متحرک اور فعال بنانے کیلئے باقاعدگی سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے انڈسٹری اکیڈیمیا رابطوں کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو ملکی صنعتوں کیلئے انڈسٹریل پی ایچ ڈی کے نظریے کو فروغ دینا ہو گا۔ ڈاکٹر خرم طارق نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ سے متعلقہ بنیادی ڈھانچے اور گوادر پورٹ پر اب تک صرف سات سے آٹھ ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس رقم کا کچھ حصہ چین کی طرف سے ملنے والی گرانٹ جبکہ باقی رقم آسان اور سستے نرخوں پر ملنے والے قرضوں پر مشتمل ہے۔ توانائی کے منصوبوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ بجلی گھر آئی پی پی کے تحت چینی بینکوں کی طرف سے ملنے والے مہنگے قرضوں کے ذریعے نجی شعبہ میں قائم کئے گئے ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں بھی مکمل اور قابل اعتماد معلومات پلاننگ کمیشن سے حاصل کی جائیں۔ کمیٹی کے اس پہلے باضابطہ اجلاس میں سابق صدر انجینئر محمد سعید شیخ، ڈاکٹر خرم طارق، محمد امجد خواجہ، انجینئر عاصم منیر اور چیمبر کے متعلقہ سٹاف نے بھی شرکت کی۔

مزید :

کامرس -