چینی قونصلیٹ حملہ تحقیقات میں ہم پیش رفت ،دہشتگرد اگست میں کراچی آیا

چینی قونصلیٹ حملہ تحقیقات میں ہم پیش رفت ،دہشتگرد اگست میں کراچی آیا

  

کراچی(این این آئی)چینی قونصلیٹ حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ،حملے میں ملوث مرکزی دہشت گرد اگست میں کراچی آیا، ریکی کرکے شہدادپور گیا، صدر اور کلاکوٹ کے ہوٹلوں میں بھی قیام کیا، پولیس نے 25افرادکو حراست میں لے لیاہے۔ ذرائع کے مطا بق چینی قونصلیٹ حملے میں ہلاک ہونیوالا دہشت گرد عبدالرازق 6اگست2018کو اپنے ساتھی کیساتھ کراچی آیا تھا اور صدر میں واقع ہوٹل گرین سٹی میں ٹھہرا اسکے بعد ملزم کلاکوٹ کے علاقے میں واقع ہوٹل الفیصل میں ٹھہرا اور اسی دوران انہوں نے چینی قونصلیٹ کی ممکنہ طور پرریکی کی۔ذرائع کے مطابق ریکی کرکے ملزمان واپس چلے گئے تھے، جس کے بعد ان کی موجودگی کا شہداد پور میں بھی پتہ چلا ہے ۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں جن میں سکھر،شہداد پور،خضدار جبکہ کراچی میں گلشن معمار،گذری اور قائد آباد شامل ہیں پر چھاپے مارے ہیں اور 20سے25افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔حراست میں لیے گئے افراد بالواسطہ سہولت کار ہیں جبکہ براہ راست سہولت کاروں میں سے اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ عبدالرازق کے گاؤں خاران اور کوئٹہ میں بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

قونصلیٹ حملہ

مزید :

علاقائی -