نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی سے لگتا ہے کہ ڈیل ہوئی ہے، ایمل ولی خان

نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی سے لگتا ہے کہ ڈیل ہوئی ہے، ایمل ولی خان

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) اے این پی کے صوبائی رہنماء ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان ڈمی وزیر اعظم ہے ۔ انڈوں ، کٹوں اور مرغیوں کی باتیں کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا ۔ 100دنوں میں قوم کو مہنگائی کی سونامی میں ڈبویا گیا ۔ نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی سے لگتا ہے کہ ڈیل ہوئی ہے ۔ دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تحریک انصاف کے لوگ آج اہم عہدوں پر براجمان ہیں ۔ وہ ولی باغ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ ایمل ولی خان نے کہاکہ نوا زشریف اور بے نظیر بھٹو کی چارٹرآف ڈیموکریسی کے بعد جمہوریت کو تقویت ملی مگر نادیدہ قوتوں کو جمہوریت اور جمہوری عمل پسند نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کرتار پور کوریڈور کو خوش آئند سمجھتی ہے اور دیگر پڑوسی ممالک سے بھی تجارت اور دوستانہ تعلقات کی حامی ہے ۔ انہوں نے افغان بارڈر کی بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیااور کہاکہ افغان بارڈر کی بندش سے خیبر پختونخوا کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آج پارلیمنٹ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہے مگر میڈیا سنسر شپ کی وجہ سے قوم اصل حقائق سے بے خبر ہے ۔ سیاسی قیادت کے بیانات کو بھی میڈیا میں سنسر کیا جار ہا ہے ۔ خطے میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہاکہ غلط پالیسوں کی وجہ سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے اور اب بھی خارجہ پالیسی کو عوامی امنگوں کے مطابق وضع نہ کیا گیا تو مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے ۔ اچھے اور برے طالبان کی سوچ ختم کرنا ہوگی ۔ ایمل ولی خان نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نے علی وزیر اور محسن داوڑ کو ایک معاہدے کے تحت آزاد حیثیت میں انتخابات میں کامیاب کرایا اور معاہدے کے روسے دونوں ایم این ایز کو تحریک انصاف میں شامل ہونا تھا مگر بعد میں حالات بدل گئے ۔ انہوں نے کہاکہ معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ دونوں ایم این ایز کو منظور پشتین کی مخالفت اور پی ٹی ایم کی سوچ ختم کرنے کیلئے اداروں کا ساتھ دینا تھا ۔ ایمل ولی خان نے مزید کہاکہ نقیب اللہ قتل کیس کے حوالے سے اسلام آباد دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ نے منظور پشتین کو کنٹینر فراہم کیا تھا جبکہ دھرنے کے قائدین کوسائیڈ لائن لگایا گیا تھا ۔ دھرنے کے دوران افغانستان کے رئیس کے ٹویٹ کے بعد کنٹینر بھی واپس ہوا اور امیر مقام کے ذریعے معاہدہ کیا گیا جس کا آج تک کوئی نتیجہ معلوم نہ ہوا ۔ ایس پی طاہر داوڑ شہید کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہاکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف انہوں نے لازوال کردار ادا کیا مگر ان کی بہیمانہ قتل سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ ایمل ولی خان نے کہاکہ شہید طاہر داوڑ کو اسلام آباد میں قتل کیا گیا اور ان کے جسم میں کیل ٹھونکے گئے جبکہ شہید کے سر اور جسم میں ڈرل سے سوراخ بھی کئے گئے ۔ ایمل ولی خان نے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے بیرون ملک دوروں پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ دو ست ممالک سے معاہدوں کے حوالے سے ابھی تک پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ دھاندلی کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی کو آئینی اختیار حاصل ہے کیونکہ پارلیمنٹ ہی آئین بناتی ہے اور اداروں کو آئین پر عمل در آمد کرنا پڑتا ہے ۔ پارلیمانی کمیٹی میں شامل حکومتی ارکان کو ایسی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا ۔انتخابی دھاندلی چھپانے کیلئے حکومت بہانے ڈھونڈ رہی ہے ۔ چیف جسٹس کا کام ڈیم بنانا نہیں بلکہ سالوں سے زیر التواء مقدمات کی طرف توجہ دیکر عوام کو سستا انصاف فراہم کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنچاب کی قیادت کو ادارے کبھی خراب نہیں کرتے ۔ عوام دیکھ لینگے کہ نواز شریف اور شہباز شریف ہیرو بن کر دوبارہ اقتدار میں آئینگے ۔ نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی خاموشی اداروں کے ساتھ ڈیل کا نتیجہ ہے ۔ ایمل ولی خان نے کہاکہ دنیا کی کوئی طاقت جنرل مشرف کو سزا نہیں دے سکتے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -