ٹی ایل پی کی آڑ میں مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن روکا جائے : مفتی منیب الرحمن

ٹی ایل پی کی آڑ میں مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن روکا جائے : مفتی منیب الرحمن

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن نے تنظیم کے قائدین شیخ الحدیث شیخ الحدیث علامہ ابوالخیر سید حسین الدین شاہ ، ناظم امتحانات علامہ محمد عبدالمصطفیٰ ہزاروی، چیئرمین امتحانی بورڈ علامہ غلام محمد سیالوی کے ہمراہ اسلام آباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اہلسنت وجماعت ہمیشہ پر امن رہے ہیں ، تحریک پاکستان اور قیام پاکستان سے اب تک ہر دور میں ان کی وطن عزیز سے وفاداری مسلّم اور ہر قسم کے شک وشبہے سے بالاتر رہی ہے، یہ طبقہ کبھی بھی کسی قسم کے فساد، ریاست دشمن اور سماج دشمن کارروائیوں میں ملوث نہیں رہا، ہم نے ہمیشہ مسلح افواج کی حمایت کی، مالا کنڈ سوات آپریشن سے لے کر آپریشن ضربِ عضب اور ردّالفساد کی غیر مشروط حمایت کی۔ لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے 25نومبر کے اجتماع کو ناکام بنانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ نے جو کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، اس میں اہلسنت کے دینی مدارس وجامعات کے اساتذہ، طلبہ وطالبات اورمساجد کے ائمہ وخطباء کواندھے کی لاٹھی کی طرح بلاجواز گرفتار اور ہراساں کرنا شروع کردیا ہے ۔ ہمارے پاس ملک بھر سے بالعموم اور پنجاب سے بالخصوص شکایات آرہی ہیں ،بعض مساجد ومدارس پر یلغار کی بھی رپورٹیں ہیں ۔ اہلسنت ہمیشہ پر امن رہے ہیں اور الحمد للہ آج بھی پر امن ہیں ،اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز کی محبت، سلامتی اور امن ہمارے ایمان کا لازمی تقاضا ہے ۔گزارش ہے کہ ہمارے دینی مدارس وجامعات کے اساتذہ وطلبہ وطالبات کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے، ہماری پر امن آواز کو سنا جائے، جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے ، ہمارا کام تعلیم وتعلّم ہے اور ہم اسی میں مشغول رہنا چاہتے ہیں ،ہم عملی سیاست کے کھلاڑی نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا کہ ہم اسلام آباد پریس کلب میں بیٹھ کر پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وزیر اعظم جناب عمران خان، وزیر مملکت برائے داخلہ جناب شہر یار آفریدی ، وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار ،وزیر داخلہ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تک اپنی آوازپہنچائیں ۔ بدقسمتی سے ہماری پولیس اور سیکورٹی اداروں کا شیوہ ہے کہ جب انہیں اسٹبلشمنٹ اور انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہوجائے تووہ تمام حدوں کو عبور کرلیتے ہیں ،اسی کے نتیجے میں لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن کے سانحات پیش آئے ہیں، تحریک لبیک کے کئی کارکنوں کو مختلف مواقع پر شہید کیا گیا اور بے شمار کارکنوں پر غیر قانونی اور غیر انسانی تشدد بھی کیا گیا ہے۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے 3نومبر کواتحادِ تنظیمات مدارس کی قیادت کے ساتھ ایجوکیشن ٹاسک فورس کی سب کمیٹی بنانے اور جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کے ساتھ جو امور طے پاگئے تھے، انہیں وہیں سے آگے بڑھانے اور فیصلہ کن انجام تک پہنچانے کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جائے۔ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ آئے روز مدارس میں مختلف ایجنسیوں کے افراد مختلف النوع پروفارمے لے کر پہنچ جاتے ہیں اور منتظمین مدارس کو پریشان کرتے ہیں ،دھمکیاں دیتے ہیں ،ہم نے ان سے کہا تھا کہ آپ ایک واضح ہدایت نامہ جاری کریں تاکہ یہ سلسلہ موقوف ہوجائے اور جب اتحادِ تنظیمات مدارس پاکستان اور حکومت کے درمیان ایک متفقہ طریقۂ کار طے پائے گااور ون ونڈو آپریشن قائم ہوجائے گا، تو تمام دینی مدارس وجامعات اپنا ڈیٹا اور ضروری معلومات خود فراہم کریں گے، جنابِ وزیر اعظم نے وزیر مملکت برائے داخلہ جنابِ شہر یار آفریدی کی ڈیوٹی لگائی اور انہوں نے دو تین دن میں یہ مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا ،لیکن پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ہم تحریک لبیک پاکستان کی بعض بے اعتدالیوں کی بابت تحفظات کے باوجود تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے ان کے اصولی موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں اوریہ بلا تمیز مسلک ومکتبِ فکر پاکستان کے تمام دینی طبقات کا مشترکہ موقف ہے ، اس میں کسی کو رتی بھر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ہم یہ بھی برملا کہنا چاہتے ہیں کہ احتجاج کے حوالے سے بے اعتدالی ماضی قریب میں آج کی حکمران جماعت پی ٹی آئی سے بھی سرزدہوئی ہے ،سو یہ وہ گناہ ہے جس کا ارتکاب آپ کے ہاں بھی ہوچکا ہے۔ اُس وقت بھی یہی ریاست ،یہی دستور وقانون اوریہی اعلیٰ عدالتیں تھیں۔ اگرآج کے حکمرانوں کی ماضی کی بے اعتدالیوں کے بارے میں درگزر سے کام لیا جاسکتا ہے تو تحریک لبیک پاکستان کی قیادت اور کارکنان کو بھی اسی سلوک کا حق دار سمجھا جائے، یہ بھی پاکستانی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ ہمارے لبرل میڈیا نے یونیورسٹی کے اساتذہ کو تو ہتھکڑیاں پہنانے پر شدید احتجاج کیا ، لیکن تفسیر وحدیث اور فقہ پڑھانے والے سینیر اساتذہ کو اس اکرام کا حق دار نہ سمجھا:تفو بر تو اے چرخ گردوں تف!۔ہماری وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل ہے کہ یقیناًآپ کی دل آزاری ہوئی ہے جس کا ہمیں بھی افسوس ہے، آپ درگزر سے کام لیں،ایسے مواقع آتے ہیں کہ عظیم تر قومی اور ملّی مصلحت پر شخصی جذبات کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ہمارا مشورہ بلکہ مطالبہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی اسیر ونظر بند قیادت کو ایک جگہ پر جمع کریں ،اس وقت ہمارا ملک جس مسئلے سے دوچار ہے، اس سے نکلنے کے لیے کوئی راہ نکالیں۔ ماضی میں 1977ء کی تحریک نظام مصطفی میں اُس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بھی پاکستان قومی اتحاد کے قائدین کو ،جو ملک کے مختلف مقامات پر نظر بند یا اسیر تھے ،ایک جگہ جمع کر کے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اسے نظیر بنا کر بند گلی سے نکلنے کے لیے کوئی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت اور کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اور اُن پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔ نیز ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آسیہ مسیح کی ریویو پٹیشن کے لیے فل کورٹ بنچ بنایا جائے، اس میں علامہ خادم حسین رضوی اور علامہ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی کو اپنا موقف پیش کرنے دیا جائے، یہ دونوں شیوخ الحدیث ذی علم شخصیات ہیں اورخاص طور پر اس مہم کے اسٹیک ہولڈر ہیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان پناما کیس میں جناب سراج الحق اور شیخ رشید احمد صاحب کو یہ موقع دے چکی ہے، چند دن قبل جناب ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کو ماڈل ٹاؤن کیس کی نئی جے آئی ٹی کے حوالے سے بھی یہ موقع دیا گیا ہے اور ماضی میں فیڈرل شریعت کورٹ میں انہیں قانونِ تحفظ ناموسِ رسالت کی پٹیشن کے موقع پر چار گھنٹے تک اپنا موقوف پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا، سو آسیہ مسیح کے کیس میں بھی اس روایت پر عمل کیا جائے۔ ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور تمام عالی مرتبت جج صاحبان سے نہایت دردمندی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ ناموسِ رسالت کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے نہایت حساس اور حیات وموت کا مسئلہ ہے، اس کی سنگینی کا ادراک کیا جائے اور تحریک لبیک پاکستان کو ممنوع قرار دینے یا نشانِ عبرت بنانے سے گریز کیا جائے ، ہوسکتا ہے وقتی طور پر کامیابی مل جائے ، لیکن یہ چنگاری اندر ہی اندر سلگتی رہے گی ، حکمت وتدبیر کے بغیر محض طاقت کے زعم میں دنیا کی سپر پاور بھی دہشت گردی کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے میں تاحال ناکام ہے ، کیونکہ انہوں نے اُس کے اسباب پر کبھی توجہ نہیں دی۔ہم ایک بار پھراسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست وحکومت کے مناصب جلیلہ پر رونق افروز تمام ذی وقار شخصیات سے صبر وضبط اور حکمت وتدبر کی اپیل کرتے ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول