ووٹرز کی عمر کو پہنچنے والے خواجہ سراؤں کا کسی کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں

ووٹرز کی عمر کو پہنچنے والے خواجہ سراؤں کا کسی کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں

  

ڈیرہ اسماعیل خان( بیورو رپورٹ)ووٹرز کی عمر کو پہنچنے والے خواجہ سراؤں کا کسی کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے اکثریت نے شناختی کارڈز ہی تاحال حاصل نہیں کیے ہیں بیشتر خواجہ سرا ء سیاسی عمل سے دور ہیں ووٹنگ میں بھی عدم دلچسپی رہی تفصیلات کے مطابق ووٹرز کی عمر کو پہنچنے والے خواجہ سراؤں کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس دستیاب نہیں ہے اکثریت نے ووٹنگ میں بھی حصہ نہیں لیا اور عام انتخابات میں بیشتر خواجہ سراء ووٹ ڈالنے نہیں گئے رائے شماری میں حصہ لینے کے خواہشمند خواجہ سراؤں کے پاس شناختی دستاویزات ہی نہیں تھیں بعض علاقوں میں خواجہ سرا ء گئے تھے مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ کس قطار میں ٹھہرنا ہے خواجہ سراؤں کی الگ سے کوئی انتخابی فہرستیں ہیں نہ کسی ادارے کے پاس کوئی ڈیٹا ہے ۔2017کی مردم شماری کے تحت ان کی ملک میں آبادی دس ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے لیکن آبادی کا یہ حصہ سیاسی عمل سے باہر ہے ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں خواجہ سرا ء یونین کی صدر گرو لیلیٰ اور گرو خالد نے بتایا کہ الیکشن میں ہم ووٹ جیسے قیمتی حق سے محروم رہ گئے کیونکہ ہمارے خواجہ سراء کے کارڈز نہیں بنے تھے اور ہم نے میل جینڈر کے طور پر مرد ووٹرز کے ساتھ ووٹ پول کیا اسی طرح جائیداد کی تقسیم میں بھی ہمیں مسائل کا سامنا ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وفاقی حکومت کو اس ضمن میں سنجیدگی سے ہمارے مسائل کا حل نکالنا چاہیے تاکہ ہم بھی باعزت ووٹرز اور شہری کے طور پر زندگی بسر کرسکیں خواجہ سراؤں کو نادرا کی جانب سے الگ شناخت کا حامل شناختی کارڈز جاری نہیں کئے جارہے اسی طرح ہمیں علاج کرانے اور زندگی گزارنے میں بھی شدید تکالیف کاسامنا ہے نہ معاشرہ اپنے رویے تبدیل کرتا ہے نہ ہی حکومتی پالیسیاں اور اعلانات حقیقت کاروپ دھارتے ہیں بلکہ پشاور سے آگے ہماری بہبود کے فنڈ کی ایک پائی ڈیرہ اسماعیل خان تک نہیں پہنچتی انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو بظاہر خوش نظر آتے ہیں اور انہیں لگتاہے کہ ہمارے کوئی مسائل نہیں ۔ہماری آمدنی بہت زیادہ ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہمیں بہت سی مشکلات درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ جائیداد میں حصہ داری کے پیش نظر بڑی تعداد میں خواجہ سراء اپنی شناخت کو چھپاتے ہیں کیونکہ جائیداد میں کم حصہ ملنے کا خدشہ لاحق ہے صوبہ خیر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خواجہ سراؤں کی سیاسی عمل میں شمولیت، انتخابی عمل میں دلچسپی اور دیگر معاملات پر سروے کروایا گیا تو خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے متحرک سماجی کارکن عابد مروت نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں51خواجہ سراؤں کی نشاندہی ہوئی ہے صرف تین خواجہ سراؤں کے الیکشن کے بعد شناختی کارڈ بنے ہیں خواجہ سراؤں کی اکثریت جائیدادوں کے معاملات پر خوف کا شکار ہے جس وجہ سے اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کیا جاتا خواجہ سراؤں سے بات چیت میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ وہ انتخابی عمل میں شرکت کے حوالے سے گرم جوش نہیں ہیں اورسماجی حالات کو جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں انکا کہنا ہے کہ نامساعد سماجی رویوں کی وجہ سے وہ پریشان ہیں جبکہ جائیداد کے معاملات بھی ہیں حیران کن طور پر الیکشن کمیشن سمیت کسی ادارے کے پاس تا حال ووٹنگ کی عمر کو پہنچنے والے خواجہ سراؤں کا ریکارڈ نہیں ہے الیکشن کمیشن کے مقامی دفتر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ایسا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -