35ایکڑ رقبہ پر محیط ، سملا انڈسٹریل سٹیٹ میں کارخانوں کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری

35ایکڑ رقبہ پر محیط ، سملا انڈسٹریل سٹیٹ میں کارخانوں کا تعمیراتی کام تیزی سے ...

  

کوہاٹ (بیورو رپورٹ) 35 ایکڑ رقبہ پر محیط سملا انڈسٹریل سٹیٹ میں کارخانوں کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری‘ 1983 میں منظور انڈسٹریل زون میں بدقسمتی سے 2015 تک صرف دو کارخانے لگ سکے میری تعیناتی کے بعد مزید پانچ کارخانے لگ چکے ہیں اور 27 پر تعمیراتی کام زور و شور سے ہو رہا ہے کارخانوں کے لگنے سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی ہو گی بلکہ کوھاٹ کی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں میں بھی خوشحالی آئے گی ان خیالات کا اظہار سمال انڈسٹریل سٹیٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک طاہر خٹک نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا انہوں نے بتایا کہ 2016 میں چارج سنبھالنے کے بعد میری سب سے بڑی کامیابی انڈسٹریل سٹیٹ کے لیے بجلی کا الگ فیڈر چالو کیا جس پر 1 کروڑ 45 لاکھ روپے خرچ ہوئے گیس کی فراہمی کے لیے 45 لاکھ کی ادائیگی کر چکے ہیں دسمبر 2018 کے آخر تک گیس کی سہولت بھی میسر آ جائے گی اس کے علاوہ سمال انڈسٹریز کی سڑکوں کی حالت بہتر بنانے‘ 96 کلونس کی تعمیر سمیت 35 ایکڑ رقبے پر پھیلی انڈسٹریل سٹیٹ کے گرد چار دیواری بنانے اور مرکزی آفس کی تعمیر کے لیے 8 کروڑ 60 لاکھ کی خطیر رقم منظور کی گئی ہے جس سے یہاں پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو صاف ستھرا ماحول میسر ہو گا انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ یہاں پر تیزی سے کارخانے لگ رہے ہیں لہٰذا یہاں پر سیکورٹی کے لیے پولیس چوکی کا ہونا ضروری ہے جس کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو لیٹر لکھ چکے ہیں اس طرح انڈسٹریل سٹیٹ میں سٹاف کی نہایت کمی ہے یہاں پر ضرورت کے مطابق سٹاف کو بھرتی کی جائے بلاٹوں کے حوالے سے اسٹنٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ میرے دور میں صرف 16 پلاٹ الاٹ ہوئے مجموعی طور پر 160 پلاٹس ہیں اس وقت یہاں پر جپسم‘ پلاسٹک پائپ آمرز‘ گیس پلانٹ‘ آئس فیکٹری‘ سمیت کئی کارخانے کام کر رہے ہیں یا جلد شروع ہونے والا ہے کئی کارخانوں پر تعمیراتی کام تیزی سے ہو رہا ہے کئی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے پلاٹ لے تو لیے مگر کام نہیں کر رہے جس کو ہم نے جب نوٹس جاری کیے تو وہ عدالتوں کی آڑ لے کر چھپ گئے اور کئی سالوں سے عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے چیف جسٹس سے بھی درخواست کی کہ سرکاری کیسوں کے فیصلہ جلد کیا جائے کیوں کہ کئی لوگ غلط ہوتے ہوتے بھی عدالت کا سہارا لیتے ہیں اگر عدالتوں سے جلد فیصلے ہوں تو یہ پلاٹ اور لوگوں کو الاٹ کر کے کارخانے لگنے شروع ہو جائیں گے کیوں کہ جب کارخانے لگیں گے تو ترقی اور خوشحالی آئے گی اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک طاہر نے خصوصی طور پر کوھاٹ چیمبر آف کامرس کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہر مسئلے کی صورت میں انڈسٹریل سٹیٹ کا ساتھ دیا کیوں کہ ان کی بھی خواہش ہے کہ انڈسٹریل سٹیٹ آباد ہو لوگوں کو روزگار ملے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -