افسران کےساتھ جو نرمی تھی وہ آ ج ختم ہو گئی،جسٹس عظمت سعید،خصوصی افراد کے حقوق سے متعلق مکمل رپورٹس جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار

افسران کےساتھ جو نرمی تھی وہ آ ج ختم ہو گئی،جسٹس عظمت سعید،خصوصی افراد کے ...
افسران کےساتھ جو نرمی تھی وہ آ ج ختم ہو گئی،جسٹس عظمت سعید،خصوصی افراد کے حقوق سے متعلق مکمل رپورٹس جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے صوبوں کی جانب سے خصوصی افراد کے حقوق سے متعلق مکمل رپورٹس جمع نہ کرانے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ،عدالت نے چاروں چیف سیکرٹریز کو اسی ہفتے رپورٹ جمع کر انے کا حکم دیدیا ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت آ نے کے بعد آپکو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ،قانون کے مطابق آپکو حق ملے گا، افسران کے ساتھ جو نرمی تھی وہ آ ج ختم ہو گئی ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے خصوصی افراد کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی،عدالت کے حکم پر چاروں صوبائی چیف سیکریڑیز عدالت میں پیش ہو گئے،صوبوں کی جانب سے خصوصی افراد سے متعلق مکمل رپورٹس جمع نہ کرانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کسی کی کوئی رپورٹ بھی نہیں ملی،ہم توہین عدالت کا نوٹس دینے کا سوچ رہے ہیں،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کسی خصوصی فردکو اسکا حق مل جائے تو حکومت کو کیا اعتراض ہے؟حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رہے ہیں ،ضروری نہیں آج یہ افسران گھروں کو ہی جائیں۔

درخواستگزار نے کہا کہ خصوصی افراد کے عالمی دن پر جائیں تو ہمیں اندر آنے تک نہیں دیا جاتا، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت آ نے کے بعد آپکو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ،قانون کے مطابق آپکو حق ملے گا، افسران کے ساتھ جو نرمی تھی وہ آ ج ختم ہو گئی ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام اداروں کی رپورٹس تیار ہیں ایک گھنٹے میں رپورٹ جمع کر ا سکتے ہیں ،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایسے مہلت نہیں ملے گی ،عدالت نے چاروں چیف سیکرٹریز کو اسی ہفتے رپورٹ جمع کر انے کا حکم دیدیا اور کہا ہے کہ رپورٹس کی کاپیاں درخواست گزار کو بھی فراہم کی جائیں ،کیس کی مزید سماعت دسمبر کے تیسرے ہفتے میں ہو گی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -