قطری خطوط میں میاں شریف کی وِش کا ذکر ہے نہ وِل ،جج احتساب عدالت

قطری خطوط میں میاں شریف کی وِش کا ذکر ہے نہ وِل ،جج احتساب عدالت
قطری خطوط میں میاں شریف کی وِش کا ذکر ہے نہ وِل ،جج احتساب عدالت

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قطری کے خطوط میں تو میاں شریف کی نہ وِش کا ذکر ہے نہ وِل کا ،وصیت ہوتی بھی تو بھی شریعت کے مطابق اس رقم کو3 بھائیوں میں تقسیم ہونا تھا ،یہ وہ خواہش ہے کہ جس خواہش پر دم نکلے ، خواجہ حارث نے تفتیشی افسر سے پوچھا تھا طارق شفیع اور قطری کو شامل تفتیش کیوں نہ کیا؟ ۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نوازشریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں،نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دادا کی خواہش کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ریکارڈ ظاہر نہیں کیا،یہ دفاع کے گواہ تھے، پیش کردیتے، دبئی کورٹ آرڈر کے مطابق ایسی کسی رقم کی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی، نیب پراسیکیوٹرکا کہناتھا کہ دفاع کاموقف ہے داداکی خواہش پرقطری نے حسین نوازکورقم دی،اگر ایسا ہے تو پھر یہ شریعت کے بھی خلاف ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ طارق شفیع کیلئے پاکستان آنا نا ممکن بنا دیا گیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ طارق شفیع جے آئی ٹی میں پیش ہوئے ،انہیں خطرات تھے تو سپریم کورٹ کو یا اس عدالت کو بتاتے ،نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ ملزمان کوئی ریکارڈ پیش کردیتے جس سے لگے حسن،حسین داداکے زیر کفالت تھے، ملزمان کی متفرق درخواست میں میاں محمد شریف کی وصیت کا ذکر ہے۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ قطری کے خطوط میں تو میاں شریف کی نہ وِش کا ذکر ہے نہ وِل کا ،وصیت ہوتی بھی تو بھی شریعت کے مطابق اس رقم کو3 بھائیوں میں تقسیم ہونا تھا ،یہ وہ خواہش ہے کہ جس خواہش پر دم نکلے ، خواجہ حارث نے تفتیشی افسر سے پوچھا تھا طارق شفیع اور قطری کو شامل تفتیش کیوں نہ کیا؟ ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -