وہ دائی جس نے سینکڑوں حاملہ خواتین کے نومولود بچوں کو قتل کر دیا، دنیا کی سب سے خوفناک سیریل کلر کی کہانی

وہ دائی جس نے سینکڑوں حاملہ خواتین کے نومولود بچوں کو قتل کر دیا، دنیا کی سب ...
وہ دائی جس نے سینکڑوں حاملہ خواتین کے نومولود بچوں کو قتل کر دیا، دنیا کی سب سے خوفناک سیریل کلر کی کہانی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) تاریخ میں کئی سفاک ترین سیریل کلرز گزرے ہیں جنہوں نے درجنوں یا سینکڑوں لوگ کو موت کے گھاٹ اتارا، لیکن 19ویں صدی عیسوی کی اس برطانوی دائی کے جرائم کی تفصیل سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے جس نے 30سال تک نومولود بچوں کا یوں کہیے کہ قتل عام کیا۔ دی مرر کے مطابق اس دائی کا نام امیلیا ڈائر تھا جو برطانوی شہر برسٹل کی رہائشی تھی۔ اس نے 1869ءمیں اخبارات میں ’آیا‘ بننے کے لیے اشتہارات دینے شروع کیے اور لوگوں سے ان کے بچے دیکھ بھال کے لیے لینے لگی۔ یہ زیادہ تر غیرشادی شدہ عورتوں اور امیر خاندانوں کے بچے حاصل کرتی اور ان سے بچوں کی پرورش کے عوض رقم حاصل کرتی لیکن بچوں کو گھر لاکر قتل کر دیتی تھی۔ 30سال تک اس نے یہ ہولناک دھندہ جاری رکھا۔ اس دوران اگر کوئی والدین اس سے اپنا بچہ واپس مانگتے تو وہ انہیں کسی اور کا بچہ لا کر دے دیتی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت امیلیا ایک بچے کی نگہداشت کے لیے اس کے ماں باپ سے 10سے 80پاﺅنڈ وصول کرتی تھی جو آج 1ہزار سے 8ہزار پاﺅنڈ کے برابر رقم بنتی ہے۔ وہ مسلسل اخبارات میں اشتہار دیتی رہتی اور بچے لا کر انہیں قتل کرتی رہتی تھی۔ 1879ءمیں اموات کی رجسٹریشن کرنے والے ایک افسر نے محسوس کیا کہ امیلیا کی نگہداشت میں آنے والے بچوں کی اموات حیران کن طور پر زیادہ ہو رہی ہیں۔ اس پر اسے گرفتار کیا گیا لیکن اس پر صرف بچوں کی دیکھ بھال میں غفلت کا الزام عائد کیا گیا اور لیبرکیمپ میں 6ماہ گزارنے کی سزا دی گئی۔ جہاں سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ اپنا دھندہ شروع کر دیا تاہم اب کی بار وہ محتاط ہو گئی۔ وہ بار بار جگہ اور شناخت بدلتی رہی اور مختلف ناموں سے اشتہارات دے کر بچے لیتی اور قتل کرتی رہی۔

اب کی بار وہ ان بچوں کی موت رجسٹرڈ بھی نہیں کرواتی تھی اور ان کی لاشیں دریا میں پھینک دیتی یا پھر کہیں دفن کر دیتی۔ 1896ءمیں اس نے دو بچوں کی لاشیں ریڈنگ شہر کے پاس دریائے ٹیمز میں پھینکیں تاہم جس باکس میں وہ لاشیں تھیں وہ دریا میں ڈوبنے کی بجائے اوپر تیرنے لگا اور ایک ملاح کے ہاتھ لگ گیا۔ اس باکس پر امیلیا کا نام اور گھر کا پتہ لکھا ہوا تھا جسے وہ مٹانا بھول گئی تھی۔ یوں وہ ایک بار پھر پکڑ گئی۔ اولڈ بیلے کورٹ میں اس پر 300بچوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر امیلیا کے ہاتھوں قتل ہونے والے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ گواہی دینے کے آنے والے اس کے ہمسایوں نے بتایا کہ وہ روزانہ 5، 6بچے لاتی تھی لیکن دوبارہ ہمیں وہ بچے کبھی نظر نہیں آتے تھے۔ اس کے گھر سے بچوں کے کپڑوں کا انبار بھی برآمد ہوا۔ اس بار عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی اور 10جون 1896ءکو اسے نیوگیٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -