نشتر ایمر جنسی‘ رش کے باوجودمریضوں کا علاج اولین ترجیح‘ ڈاکٹر امجد چانڈیو

  نشتر ایمر جنسی‘ رش کے باوجودمریضوں کا علاج اولین ترجیح‘ ڈاکٹر امجد چانڈیو

  



ملتان ( وقا ئع نگار) نشتر ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد چانڈیو نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں سالانہ تقریبا آٹھ لاکھ کے قریب مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہے۔صرف ماہ نومبر میں چھ سو آپریشن کیئے گئے ہیں۔شعبہ ایمرجنسی میں روزانہ 24 گھنٹے مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت میسر ہے۔لوکل پرچیز کے ذریعے ادویات کی کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر امجد چانڈیو نے کہا ہے کہ نشتر ہسپتال کی(بقیہ 49نمبرصفحہ12پر)

ایمرجنسی جنوبی پنجاب کی واحد ایمرجنسی ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں تشویش ناک حالت میں مریضوں کو دیکھا جاتا ہے۔جن کیلئے ادویات سمیت دیگر ضروری سامان کو ہر وقت اسٹاک میں موجود رکھا جاتا ہے۔اگر اس دوران کسی چیز کی کمی واقع ہوجائے۔تو اسکو لوکل پرچیز کے ذریعے پورا کر لیا جاتا ہے۔تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایک سوال کے جواب نے انہوں نے کہا ہے کہ شعبہ ایمر جنسی میں سالانہ تقریبا آٹھ لاکھ تک مریضوں آتے ہیں۔صرف صرف ماہ نومبر میں چھ۔ کے قریب مریضوں کے آپریشن کیئے جاتے ہیں۔ایکسرے۔الٹرا ساؤنڈ۔تشخیصی ٹیسٹوں کی بروقت سہولت بھی چوبیس گھنٹے میسر ہے۔سرجری۔ہڈی جوڑ کا شعبے بھی فعال ہیں۔ڈاکٹر امجد چانڈیو نے مزید کہا ہے کہ ایمرجنسی میں دن بدن مریضوں کا رش بڑھتا جارہا ہے۔جسکو مد نظر رکھتے میں اس بلاک میں مزید فلور کا اضافی کیا جارہا ہے۔تاکہ ایمرجنسی میں مریضوں کو بستروں اور طبی سہولیات کے لحاظ سے کسی قسم کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی صفائی اور عملے کی حاضری پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔بار بار وزٹ کرکے مسائل کو دور کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر امجد چانڈیو نے کہا کہ شہریوں سے اپیل کی ہے صرف ایمرجنسی والے مریض ہی ایمرجنسی میں لائے جائیں۔اور لواحقین کو اس دوران تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر