غیر روایتی طریقوں سے نایاب پرندوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیز

غیر روایتی طریقوں سے نایاب پرندوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیز

  



ملتان (سپیشل رپورٹر) محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی غفلت کے باعث ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی 43تحصیلوں میں پرندوں کے شکار کے غیر روائیتی طریقوں کا سلسلہ عروج پر(بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

پہنچ گیا۔شکار کیلئے چھٹی کا دن مخصوص ہونے کے باوجود کمرشل شکاری سارا ہفتہ نایاب پرندوں کا شکار کھیلنے لگے، تفصیل کے مطابق محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے افسران کی غفلت اور فیلڈ سٹاف کی کمرشل شکاریوں سے ملی بھگت کے باعث ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی 43تحصیلوں میں نایاب اور روسی ریاستوں سے ہجرت کرکے آنے والے پرندوں جن میں مرغابی،ٹیل،ریڈ ہیڈ،نیل سر،چکوا،نڑی،چترول،بوبی برڈ،سخ،مگ،کونج، بٹیر،تلور،کشمیرا،سرخاب، بھڈر و دیگر کے شکار کا غیر روائتی طریقوں سے شکار کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے اس ضمن میں محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے لائیسنس یافتہ شکاریوں کو ہفتہ میں ایک روز سرکاری چھٹی کے دن شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے مگر مذکورہ تحصیلوں میں کمرشل بنیادوں پر کاروبار کر نے والے شکاری محکمہ کے فیلڈ سٹاف کی ملی بھگت سے سارا ہفتہ شکار کھیل رہے ہیں جبکہ شکار کے دوران محکمہ کے قوائد وضوابط سے ہٹ کر شکار کرنے کے اووزار استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ ایک ہی فائر سے زیادہ سے زیادہ پرندوں کو شکار کیا جاسکے اسی طرح پانی میں ممنوعہ اقسام کی دوائی ڈال دی جاتی ہے جس کے باعث اس میں رہائش پذیر مرغابی سمیت دیگر سی برڈ بے ہوش ہوکر پانی کی سطح پر تیرنے لگتے ہیں جن کو آسانی سے پکڑ کر بڑی تعداد میں ذبح کر دیا جاتاہے اور اس طرح ان نایاب پرندوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔نایاب پرندوں کی نسل کشی کے باعث ان کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہورہی ہے جس کے ماحول پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔اس ضمن می ں عوامی وسماجی حلقوں نے محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے اعلی حکام سے مذکورہ صورتحال بارے فوری اصلاع احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

سلسلہ تیزش

مزید : ملتان صفحہ آخر