حکومت کی مذاکراتی کمیٹی

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی

  



اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے حکومت نے مختلف پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کی غرض سے تین وفاقی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نہ صرف آرمی چیف کے عہدے کی مدت کے حوالے سے وسیع تر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے ارکان کے خالی ہونے والے عہدوں کے حوالے سے بھی بامعنی مشاورت کا اہتمام ہو گا۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق ہے دستور نے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف پر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ وہ باہمی اتفاق سے یہ تقرریاں کریں گے۔ جب اس معاملے پر یہ سمجھوتہ ہوا تھا تو اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا تھا کہ ماضی میں اپوزیشن کو الیکشن کمیشن اور الیکشن کے انتظامات کے حوالے سے بڑی شکایات پیدا ہوتی رہی تھیں۔ حکومت کو اپنے طورپر الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا اختیار حاصل تھا، اس لئے بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ قائد حزب اختلاف کی رضا مندی لازم کر دی جائے تو پھر کوئی ایسا شخص الیکشن کمیشن کے ارباب اختیار میں شامل نہیں ہو سکے گا، جسے دونوں بڑے فریقین…… حکومت اور پارلیمانی حزب اختلاف کی حمایت حاصل نہ ہو۔ اس پر سیاسی حلقوں اور عوام کی بھاری تعداد نے اطمینان کا سانس لیا تھا اور اسے مستقبل میں ہونے والے انتخابات کو منصفانہ اور آزادانہ بنانے کے عمل میں انتہائی بنیادی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ موجودہ الیکشن کمیشن کا تقرر اسی طرح عمل میں آیا تھا، لیکن جب تحریک انصاف نے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تو اس کے اپنی اپوزیشن (مسلم لیگ ن)کے ساتھ تعلقات کار قائم نہیں ہو سکے۔ وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف اس مقصد کے لئے ملاقات کر سکے، نہ براہ راست رابطے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈ سکے۔ معاملے کو لٹکاتے چلے جانے کے بعد حکومت نے یک طرفہ طور پر دو ارکان کی تقرری کا صدارتی نوٹیفکیشن جاری کرا دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ان دونوں ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا اور معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ جا پہنچا۔ وہاں سے فاضل چیف جسٹس نے اسے قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینٹ کے چیئرمین کو بھجوا دیا، تاکہ وہ اپنی مساعی سے آئینی اتفاق رائے پیدا کر سکیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کی طرف سے مختلف نام تجویز کئے گئے ہیں، لیکن ابھی آئینی اتفاق کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی مجوزہ سہ رکنی کمیٹی سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی معاونت کرتے ہوئے اگر حزب اختلاف کا اعتماد حاصل کر سکے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی اور پاکستان کی قومی سیاست پر بچگانہ کی پھبتی کسنے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ مذکورہ سہ رکنی کمیٹی کو آرمی چیف کی مدت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی کرنی ہے۔ یہ عام بل کے ذریعے ہو یا اس کے لئے دستور میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی جائے، اپوزیشن کا تعاون ناگزیر ہے۔ حکومت دونوں ایوانوں سے عام بل منظور کرانے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے کہ سینیٹ میں تو وہ عددی طور پر اقلیت میں ہے۔ اگر دستوری ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی ہو تو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا تعاون درکار ہو گا۔ اپوزیشن کی طرف سے یہ شکایت کی جا رہی تھی کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ مسلم لیگ کے نائب صدر اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے نومنتخب چیئرمین رانا تنویر کی طرف سے برملا کہا گیا ہے کہ مشاورت کے بجائے حکومت کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے میں ڈرافٹ بل تیار کرکے لائے تاکہ بامعنی مشاورت ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ حکومت اس معاملے میں تنازعہ کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مذکورہ قانون سازی سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ چھ ماہ کے اندر نئی قومی اسمبلی منتخب ہو کر ایسی قانون سازی کر سکے گی جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ مولانا کی منطق یہ ہے کہ موجودہ اسمبلی دھاندلی کی پیداوار ہے، اس لئے اسے اتنے اہم مسئلے پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس رائے سے تادم تحریر کسی بڑی اپوزیشن جماعت نے اتفاق نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے ان کی تائید کا کوئی امکان بھی نہیں ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں قومی اسمبلی کے وجود کے حوالے سے مولانا صاحب کا موقف مسترد کر چکی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں کے سربراہ قومی اسمبلی کا حصہ ہیں، اس لئے مولانا کی آواز تنہا سمجھی جائے گی۔ سہ رکنی مذاکراتی کمیٹی کے قیام کی خبر سے اپوزیشن کے وسوسوں اور خدشوں میں کمی واقع ہو گی اور ایک انتہائی اہم قومی ادارے کے سربراہ کی مدت اور شرائط ملازمت کے حوالے سے متفقہ فیصلے کی راہ ہموار ہو گی۔ اس معاملے میں سیاست کی کوئی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ اسے لٹکانے یا الجھانے کے بجائے جلد از جلد طے کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مفاد میں ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ