بھارت کی تخریب کاری جاری!

بھارت کی تخریب کاری جاری!

  



بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے اب تک وادی میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور 80لاکھ انسان مسلسل پابندیوں میں محبوس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کہ ان پر نو لاکھ سے زیادہ فوجی مسلط کئے گئے ہوئے ہیں۔ 5اگست سے اب تک نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرنے دی گئی مساجد بند چلی آ رہی ہیں، ان سطور کے تحریر کرنے تک اس صورت حال کو 120روز ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی اس سنگین پامالی پر دنیا آنکھیں موندے پڑی ہے۔ بھارت والوں نے اس سے شہ پا کر ”عروج کشمیر“ کے نام سے جشن منانے کی تیاری شروع کر دی جو 20سے 25دسمبر کے درمیان ہو گا اور دہلی میں متعین غیر ملکی سفیروں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔اسی پر اکتفا نہیں کیا جا رہا بلکہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں بھی مسلسل جاری ہیں اور گزشتہ روز ہی رکھ چکری اور راولا کوٹ سیکٹر میں پھر پاکستانی چوکیوں پر مارٹر گنوں سے حملہ کیا۔ اس سے ہمارے دو فوجی افسر میجر +کیپٹن زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کی طرف سے حملہ ہوا اور ایک جوان شہید ہو گیا جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد مارے گئے یہ دہشت گردی اور تخریب کاری ہے جو بھارت کی ”را“ کے سازشی گٹھ جوڑ کے باعث ہوتی ہے۔ یوں بھارت ہماری سرحدوں کے اندر غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کرتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی ریشہ دوانیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ کنٹرول لائن پر جوابی حملے میں ہمیشہ بھارت کا زیادہ نقصان ہوتا ہے لیکن اس طرف سے ایسی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ سب کیا جاتا ہے، ایسے میں ہمارا اور ہماری حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ان حرکات پر نگاہ رکھے اور مناسب جواب بھی دے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ باقاعدہ اعداد و شمار اور دلائل سے سوتے عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش تیز تر کی جائے تاکہ پاکستان کے اندر استحکام پیدا ہو اور کشمیریوں کو بھارتی چنگل سے آزادی مل سکے۔ حکومت پاکستان کو معروضی حالات میں نئی حکمت عملی تیار کرکے اس پر عمل کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ